ڈاکٹر صداقت علی: مجھے یاد ہے کہ ایک اشتہارات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان تھے جو میری کونسلنگ میں آئے اور ان کو کسی انسان سے اپنی ایڈکشن ختم کرنا تھی تو انہوں نے ایک سی ڈی کی کاپی بنائی کی اور اس میں انہوں نے اپنی زبان میں بولا، پڑھا اور اس میں میوزک ڈالا اور وہ ایک سی ڈی ہر وقت چلتی رہتی تھی جب وہ گاڑی میں بیٹھتے تھے تو وہ سی ڈی ایک دفعہ چل جاتی اور وہ سُن لیتے تھے تو وہ چیزیں جو اپنے آپ کو یاد دلانا چاہ رہے تھے وہ ان کو کوشش نہیں کرنی پڑتی تھی۔ انہوں نے سیٹنگ ہی یہ کر دی کہ جیسے آپ ٹی وی کے سامنے بیٹھتے ہیں تواشتہارات آنے شروع ہو جاتے ہیں جس میں آپ کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا لیکن آپ اگلے دن مارکیٹ میں وہی چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جن کے بارے میں آپ کو پتا نہیں ہوتا ہے تو ہم اپنے لئے کبھی نہ کبھی جیسے وہ خط لکھنے کی آپ نے بات کی تو اگر ایک دو خط اپنے آپ کو لکھ دیں، اپنے آپ کو سمجھانے کے بارے میں غلط ہے اور پھر آپ یہ خط باربار پڑھیں جیسے کہ پرانے وقتوں میں۔ جب ہمیں کسی چیز کا وہم ہوتا ہے تو اس وہم کو وقتی طور پر ٹالنے کی کوئی سبیل نہیں کرنی چاہئے۔ اس وہم کو اگر ہم وقتی طور پر ٹالیں گے تو تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر اپنا روٹ مکمل کر کے ہمارے سامنے آ جائے گا اور پہلے سے زیادہ زور دار طریقے میں آئے گا تو جو ٹوٹکے ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے اپنے وہموں کو ٹالنے کیلئے اور اپنے آپ کو تسلی دینے کیلئے، کچھ لوگ دوسروں کو بھی پوچھتے ہیں کہ تم مجھے تسلی دو، پھر مجھے بتاؤ کہ ایسا تو نہیں ہو گا نہ، پھر کہاجاتا ہے کہ تسلی رکھو نہیں ہو گا، پھر پوچھتا ہے کہ مجھے ایک دفعہ بتاؤ؟ نہیں ہو گا نہ ایسا، توایسی طفل تسلیاں انسان کے کام نہیں آتیں۔ انسا ن کو بتایا ہے کہ زندگی کی قیمت یہ ہے کہ آپ کچھ نہ کچھ درد کو بے چینی کو تسلیم کر لیں کہ ہاں میں کس طرح سے اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتا کہ مستقبل میں ایسا ہو گا کہ نہیں یا جسے میں بہت پیار کرتا ہوں وہ محفوظ رہے گا کہ نہیں، یہ اللہ کے حوالے ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہی قادر مطلق ہے۔

فرح سعدیہ: اسلام وعلیکم امبر! کیسی ہیں آپ؟

امبر : بیوی یا ماں کی حیثیت سے میری کیا عہد ہونے چاہئیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: کم از کم آپ یہ بنا لیں کہ کسی کو دکھ نہیں پہنچانا یعنی اپنے شوہر اور بچوں کو دکھی نہیں کرنا اور تکلیف نہیں پہنچانی یہ عام عہد آپ بنا سکتی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments