محسن نواز: پاکستان کے معروف ایڈکشن سائیکاٹرسٹ ہیں اور بیہیوریل سائنسز آف اٹیٹیوٹنل ہیلنگ کے ماہر ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انسانوں کو اچھی عادتیں اپنانے کا فن اتنا زبردست سکھاتے ہیں کہ ان کی کوئی مثال نہیں۔ ڈاکٹر صداقت علی ہمارے ساتھ ٹیلیفون لائن پر ہیں۔ اسّلام علیکم ڈاکٹر صداقت!

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم اسّلام جی! کیسے مزاج ہیں؟

محسن نواز: الحمدللہ! میں بالکل ٹھیک ڈاکٹر صاحب سب سے پہلے آپ کا شکریہ کہ آپ ہمیں اپنے اتنے قیمتی وقت میں سے وقت دیتے ہیں ابھی ہم تھوڑی دیر پہلے نیوز سن رہے تھے جس میں شاہد آفریدی صاحب نے ذکر کیا کہ انڈیا کے گراؤنڈ پر کھیلتے ہوئے پاکستانی ٹیم کچھ انڈر پریشر ہے دباؤ محسوس کر رہے ہیں تو یہ جو کرکٹ کے میدان میں اور باقی میدانوں میں ہمیں کئی دفعہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے کرکٹ کے شائقین کا جو دباؤ ہے اس وقت تو اس کا کیا جواب دیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں جب بھی کوئی مشکل مرحلے آتے ہیں ہماری زندگی میں دباؤ اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ وہ ہماری صلاحیتوں کو بڑھا دے لیکن جب دباؤ خود حد سے بڑھ جائے تو صلاحیتیں بھی خود نیچے آنا شروع ہو جاتی ہیں اس درجہ کرکٹ جس طرح کی ٹی 20 میچز ہونے والے ہیں تو اس میں جتنے ہنر اہم ہیں اتنا ہی اپنے دماغی سکون کو برقرار رکھنا مشکل حالت میں جسے ہم کہتے ہیں مینٹلی ٹف ہونا یا زون میں ہونا وہ بھی بہت زیادہ خاص ہے۔ لیکن جب ہم اپنی ٹیم کو پھنسا دیتے ہیں ایک ایسے کونے میں جہاں جیتنے کے علاوہ اُن کیلئے کوئی بقا ہی نہیں ہے تو ان حالات میں بہت مشکل ہو جاتا ہے کھلاڑیوں کیلئے کہ وہ اچھا کھیل کھیل سکیں کیونکہ اُن کے پاس اس کے علاوہ اور آپشن ہی نہیں ہوتی کہ انہوں نے ورلڈ کپ جیت کے لانا ہے۔ جو کہ یقیناً ایک ممکن کام ہے اور تمام ٹیمیں گھر سے میچ اس لئے کھیلنے جاتی ہیں کہ وہ ورلڈ کپ جیت کر لائیں لیکن ورلڈ کپ تو ایک ہی ہے اور ٹیمیں بہت سی ہیں تو اس میں بنیادی توجہ کرکٹ کی گیم پر ہونی چاہیئے اگر آپ اس سوچ میں پڑ گئے کہ ہم نے اگر ورلڈ کپ نہیں جیتا تو پھر انڈے ٹماٹر ہماری قسمت میں رہ جائیں گے اور واپس ملک میں جانا مشکل ہو جائے گا تو یہ جو نو وِن حالت ذہن میں پیدا ہو جاتی ہے دباؤ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر بقا کی جنگ شروع ہو جاتی ہے تو ہمارے دماغ کے وہ حصہ زیادہ سرگرم ہو جاتا ہے جسے امیگڈیلا کہتے ہیں جو ہمارے دماغ کے مرکز میں واقع ہے اور یہ اُس وقت ایکٹیو ہوتا ہے جب ہمیں کوئی مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے تو ہمیں فالتو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اعصاب میں خون کی گردش کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ حصہ ایکٹیو ہو جاتا ہے لیکن اگر ہم اسے بار بار ایکٹیو رکھیں تو پھر یہ آن آف سوئچ جو ہے پھر آن ہی رہتا ہے اور اسے عادت سی پڑ جاتی ہے جس میں ضرورت ہو نہ ہو تو یہ آن ہی رہتا ہے جیسے گھروں میں ہمیں کسی کمرے میں بار بار آنا جانا ہوتو ہم ہر دفعہ آتے جاتے اُس کا سوئچ آن آف نہیں کرتے بلکہ اسے آن ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ اب اس میں ہوتا یہ ہے کہ اگر ہم اپنے دماغ کو عادت ڈال لیں گے کہ اس نے بے چین ہی رہنا ہے تو پھر اس کیلئے بڑا مشکل ہو جاتا ہے پرسکون ہونا اور خاموش ہونا جو کہ کرکٹ کے کھیل میں آپ کو ایک سوچ بچار بھی چاہیئے یعنی یہ ایک اتنی زبردست صلاحیت ہے جو بالکل محدود انسانوں میں پائی جاتی ہے جو ہماری ٹیم میں آگے جگہ بناتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جن کا سارے کا سارا دماغ ہر وقت متحرک رہتا ہے اور جب اُنہیں بھاگ دوڑ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بھاگ دوڑ کرتے ہیں اور جب انہیں سوچ بچار کی ضرورت ہوتی ہے تووہ سوچ بچار کرتے ہیں اچھا عام انسانوں جیسے روز مرہ زندگی گزارتے ہیں تو اُن کی زندگی میں کبھی بھاگ دوڑ کے لمحات آتے ہیں اور کبھی اُن کی زندگی میں سوچ بچار کے مقام آتے ہیں لیکن یہ جو ٹی 20 کرکٹ ہے اس میں بھاگ دوڑ اور سوچ بچا ر کے لمحات ایک ساتھ باری باری آتے چلے جاتے ہیں اور سوئچ آن آف کرنے کی صلاحیت کھلاڑیوں میں بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس میں جو بنیادی چیز اُن کے کام آ سکتی ہے وہ ایک نکتہ ہے کہ اُن کی نظر صرف گیند پر ہونی چاہیئے۔ اُن کی نظر سکور پر نہیں ہونی چاہیئے ان کی نظر نتائج پر نہیں ہونی چاہیئے۔ اُن کی نظر اس بات پر ہونی چاہیئے کہ اس لمحہ میں یعنی جو لمحہ موجود ہے اُس میں کیا کرنا ہے کیسے فوکس کرنا ہے جس کو ہم مائنڈ فلنس بھی کہتے ہیں اور اس کیلئے لازم ہے کہ کھلاڑی اپنی نیند پوری کریں اور اپنی جو ٹریننگ ہے اُس کو ایسے کریں کہ وہ اُن کو تھکا نہ دے۔

اس کے علاوہ اُن کی جو خوراک ہے وہ بڑی خاص ہونی چاہئے یعنی انہیں دن میں کم سے کم چھ دفعہ کچھ کھانے کی ضرورت ہو گی جس میں شوگر شامل نہیں ہونی چاہیئے اُس میں شوگر شامل ہونے سے یہ دباؤ کی کیفیت زیادہ ہوتی ہے اور شوگر ہی کھانے کو پھر اُس وقت دل کرتا ہے جس سے وقتی طور پر پریشانی ٹھیک بھی ہو جاتی ہے لیکن پھر ری باؤنڈ ہوتا ہے پریشانی کا۔ سو یہ جو امیگڈیلا ہے ہمارے دماغ کا حصہ یہ ازل سے ہمارے کام آتا رہا ہے جنگل کے زمانے میں جب لڑنے یا بھاگ جانے کی صورت ہمارے لئے بہت اہم ہوا کرتی تھی لیکن آج کے زمانے میں جہاں سوچ بچار اور غور فکر کی ضرورت ہے تو سویچ آن آف کرنا کھلاڑیوں کیلئے اور زون میں رہنا خاص طور پر جس دن میچ ہو اس سے چوبیس گھنٹے پہلے اس بات کی تیاری کرنا کہ ہم کل جب میدان میں اتریں گے تو ہم زون میں رہیں گے اور دو باتیں اس وقت پختہ یقین کے ساتھ دل میں ہونی چاہیئں کہ میں یہ کر سکتا ہوں اور دوسرا یہ کہ یہ کرنے کے قابل چیز ہے۔

اس کا نتیجہ پوری قوم کی خوشیوں کی صورت میں نکلے گا لہذٰا کھلاڑیوں کو دباؤ سے نکلنے کیلئے قوم کو یہ وطیرہ نہیں اختیار کرنا چاہیئے کہ یا تو وہاں میچ جیتو یا پھر واپس آنا بھول جاؤ۔ یہ جو اِک سوچ ہے کھلاڑی وہاں کھیلنے کیلئیے ہی جاتے ہیں مجھے یہ بتائیں کہ کھلاڑیوں سے زیادہ جیتنے کا خواہش مند اور کون ہو گا تو یہ قوم کو بھی تھوڑا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اتنا دباؤ مت ڈالیں جیسے والدین بچوں پر بعض اوقات اتنا دباؤ ڈالتے ہیں کہ تم نے ہر صورت اول آنا ہے اور جو بچہ اول سے دوم آ جائے اس کی مرمت ہونے لگتی ہے گھروں میں تو اس طرح زندگی نہیں چلتی۔ میں ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ جو نظر ہے وہ گیند پر ہے جو کھیل کا مرکزی حصہ ہے اگر ہر کھلاڑی اپنا وطیرہ بنا لے کہ اس کی آنکھوں میں گیند سمایا رہے اور سکور بورڈ کو ذرا نظر سے اوجھل رہنے دے۔ سکور بورڈ خود بخود بڑھتا ہے جب آپ کی نظر گیند پر ہوتی ہے اس کے علاوہ ان دنوں انہوں بہت زیادہ تھکا دینے والی ورزش نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اس سے بھی امیگڈیلا ایکٹیو ہوتا ہے۔ ان دنوں میں جب کہ وہ میچ کھیل رہے ہوں تو اُن کو واکنگ ایکسر سائز کرنی چاہیئے تقریباً کو دس پندرہ قدم روزانہ وہ پیدل چلیں تو اس سے اُن کا جسم زیادہ اچھا وارم اپ ہو گا اور سٹریچنگ ایکسرسائز کرنی چاہیئے جو لیٹ کر کی جاتی ہیں یا کھڑے یا بیٹھ کر کی جاتی ہیں اس کے علاوہ ان دنوں کچھ تفریح کا بھی خیال رکھنا چاہیئے۔

یہ نہیں کہ ان دنوں تفریح بالکل بھول جائیں کچھ ایسی فلمز دیکھنا جو کہ مزاحیہ ہوں اور پھر سب سے اہم کہ انہیں پاکستانی کرکٹ جیت کے جو پرانے مناظر ہیں وہ دیکھنے چاہیئں کہ کس طرح عمران خان باؤلنگ کرتے تھے اور انڈیا کی وکٹس گراتے تھے اور کس طرح شعیب اختر وکٹس اڑایا کرتے تھے تو سب مثبت دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم اپنے دماغ میں فتح کو مرکز بنا دیتے ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے دماغ میں کوئی چیز نہیں ہوتی تو پھر فتح ہی ہمارا مقدر ہوتی ہے لیکن اگر ہم ہارنے کے ڈر سے کھیل رہے ہوں اور ہارنا اور ڈرنا اس طرح کی باتیں کہ یہ میچ نہ جیتا تو ٹورنامنٹس سے باہر ہو جائیں گے۔ اس میں میڈیا بھی بعض اوقات کافی منفی کردار ادا کرتا ہے کہ اگر کوئی ایک میچ پاکستانی ٹیم ہار جاتی ہے تو فوری طور پر اِک سیاپا شروع ہو جاتا ہے۔ آدھا آدھا گھنٹہ اس چیز پہ لگے رہتے ہیں وہ کھلاڑی جو اپنے وقتوں میں خود بھی نشانہ بنے تھے جب وہ تجزیہ کرتے ہیں تو وہ اس چیز کا خیال نہیں رکھتے کہ کھلاڑیوں کو اس دن بھی محبت کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ بہت اچھا نہیں کھیلتے کیونکہ یہی کھلاڑی ہیں جنہوں نے ہمارے لیے کھیلنا ہوتا ہے۔

محسن نواز: کیا بات ہے ڈاکٹر صاحب، آپ نے اتنی مکمل، خوبصورت اور زبردست بات کی ہے کہ میں چاہوں گا کہ اس بات کو ہم سوشل میڈیا پر بھی سرکولیٹ کریں تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگوں تک آپکی یہ قیمتی گا ئیڈ لائن، مشورہ اور رائے پہنچے۔ ٰٰ

ڈاکٹر صداقت علی: ۔ ہمیں کھلاڑیوں کو یہ کہتے رہنا چاہیئے کہ ہم گھر سے بہت اچھی کرکٹ کھیلنے آئے ہیں۔ ہم ورلڈ کپ نہیں بلکہ ہم دل جیتنے آئے ہیں۔ ہم کرکٹ کا نام اونچا کرنے آئے ہیں ہمارے ہر عمل سے یہ نظر آئے گا کہ ہم تن من دھن کی بازی لگا رہے ہیں۔ لیکن جیت ہار جو ہے وہ پھر قسمت کے فیصلے اوپر آسمانوں پہ ہوتے ہیں تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے لیکن اپنا کام پورا کرنے کے بعد دعا کیلئے ہاتھ اُٹھانے چاہیئیں۔

محسن نواز: کیا بات ہے، ڈاکٹر صداقت علی بے حد، بے حد شکریہ۔ تھینک یو سو ویری مچ، اللہ خافط۔