فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب ویسے آپ کہہ تو رہے ہیں لیکن اگر میں یہ صورت حال تصور کروں کہ آپکا کوئی بہت پیارا نشے کا شکار ہے اور وہ کہہ رہا ہے مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ میری مدد کرنے کی کوشش نا کریں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تو کیا آپ چھوڑ دیں گے اُس کو یا کیا کریں گے؟

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں نہیں آپ اپنے پیاروں کو کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتے چھوڑنے کے لیے کوئی بھی نہیں کہہ رہا، تعلق توڑنے کے لیے کوئی بھی نہیں کہہ رہا لیکن جو کام کرنا نہیں آتا اُسے کرنا سیکھ لیں۔ کرنے کا کام ہے کہ چھلانگ کرنے سے پہلے یا چھلانگ لگانے سے پہلے اُس کام کو سیکھ لیں۔ اگر تو کوئی کہتا ہے کہ ہاں جی آپ مجھے اِس میں مدد دیجیے۔ یعنی اگر کوئی مدد کا خواہش مند ہے تو بڑا فطری عمل ہے کہ آپ کی طرف سے مدد اُدھر بہنا شروع ہو جائے گئی روانی شروع ہو جائے گئی۔ لیکن ایک دوسرا کہتا ہے کہ بہت شکریہ۔ ہاتھ چھڑا لیتا ہے۔

ٖفرح سعدیہ: مدد نہیں چاہیئے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور غصہ کر رہا ہے۔ پھر ہم زبردستی آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اُس میں کسی کا بھلا نہیں ہوتا کسی کو مدد نہیں ملتی الٹا ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ سیکھنے کا کام ہے۔ کیونکہ جو دلوں کے دروازے ہوتے ہیں وہ اندر سے کھلتے ہیں ہم باہر سے صرف دستک دے سکتے ہیں لیکن وہ کھلتے ہمیشہ اندر سے ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے لیکن کوشش کرنے سے پہلے یہ فن سیکھ لینا چاہیئے۔ آج کی دنیا میں کسی کو تحریک دینا بالکل ممکن ہے۔ جیسے ٹیلی ویژن پے ہمیں اشتہار کے ذریعے تحریک دی جاتی ہے۔ جو چیزیں ہم نہیں خریدنا چاہتے ہم وہ بھی خرید لیتے ہیں تو جو کوششیں ہم سیکھنے کے بعد کرتے ہیں ان سے دوسرے لوگوں کے ساتھ کامیابی کی راہ ہموار ہو جاتی ہے لیکن اُس کے لیے سب سے پہلے تیاری کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنے آپ کو جسمانی طور پر صحت مند بنانا، نفسیاتی طور پر، ذہنی طور پر پُر سکون بنانا اور پھر دوسرے لوگوں کی مدد لینا یہ بہت اہم ہوتا ہے پھر اِس اعتماد کے ساتھ کوشش کرنا کہ جتنا مجھ سے ہو گا میں اُتنا کروں گا اور جو خلا ہو گا میری کوشش اور منزل مقصود کے درمیان وہ قدرت پورا کرے گی۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات پورا کرے گی جہاں تک میں چل سکا میں وہاں تک چلوں گا اور حتیٰ امکان جب میں وہاں تک چلوں گا تو آگے میں توکل کروں گا ۔

فرح: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: توکل۔۔۔

فرح سعدیہ: اپنا کام کرنے کے بعد توکل کرنا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اپنا کام کرنے کے بعد توکل ہوتا ہے۔ اگر توکل ابتداء میں نہیں ہوتا اور توکل تب بھی نہیں ہوتا جب آپ پورے کام کو پوری منزل کو خود طے کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اِس دنیا کا کام کاج یہ ایسے چلتا ہے جیسے بیچ بوتے ہیں۔ پھر پانی لگاتے ہیں۔ پھر زمین کو نرم کرتے ہیں۔ کھاد ڈالتے ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد پھر ہم چھوڑ دیتے ہیں۔ پھروہ پھل پھول جو ہے وہ دینے والی ذات اوپر کی ہے۔

فرح سعدیہ: صحیح۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر کوئی کسان اب کھینچ کھینچ کر پودوں کو زمین سے باہر نکالنے کی کوشش کرے۔

فرح سعدیہ: نہیں نکال سکتا۔

ڈاکٹر صداقت علی: تو ایسا نہیں ہو گا پودے جڑ سے اکھڑ جاہیں گے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments