فرح سعدیہ: خوش آمدید صبح بخیر آج ہمارا موضوع گفتگو ہے’’ خوف‘‘
ڈاکٹر صاحب سلمیٰ صاحبہ نے سوال کیا ہے کہ انہیں رات کو بہت ڈر لگتا ہے ۔
آپ کے بقول خوف کا ہونا اچھا بھی ہے مطلب خوف کے اندر کوئی اچھائی بھی موجود یا یہ صرف برائی ہی ہے یعنی کہ ڈرنا، خوف بری چیز ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں جیسے میں نے بتایا کہ زمانہ قدیم میں خوف جان بچانے کے حوالے سے اہم تھا۔

فرح سعدیہ: چلیں وہ تو ہو گیا۔ اب کیا اچھائی ہے اس میں؟

ڈاکٹر صداقت علی: آج کے خوف میں اچھائی یہ ہے کہ آپ فیصلہ کرتے ہوئے تھوڑا رُک جاتے ہیں جیسے اگر آپ نے سڑک پار کرنی ہو تو آپ اس خوف سے رک جائیں گے کہ کہیں آپ کی جان کو کوئی خطرہ تو نہیں یا آپ کہیں زخمی نہ ہو جائیں۔

فرح سعدیہ: یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی تناسب میں خوف کا ہونا ٹھیک اور کسی حد سے اوپر ہونا خراب ہے مگر وہ تناسب کتنا ہو گا؟

ڈاکٹر صداقت علی: وہ تناسب جس سے فائدہ ہو

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: لیکن جس سے نقصان ہو تو وہ خوف غلط ہے کیونکہ اگر آپ کی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے کسی چیز کے خوف سے، آپ کو ڈر لگنے لگتا ہے ایسی چیزوں سے جن سے بظاہر ڈرنے کی ضرورت بالکل نہیں ہے۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جیسے ہوائی سفر سے لوگ ڈرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جس کو ہم فوبیا کہیں گے۔

فرح سعدیہ: جیسے سلمیٰ صاحبہ رات سے ڈر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ رات کو بہت ڈر لگتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اندھیرے کے بارے میں کچھ تھوڑا Superstitious بھی ہوتا ہے کہ جو اندھیرا ہوتا ہے اس میں کوئی ڈرنے والی چیز موجود ہوتی ہے۔

فرح سعدیہ: صحیح کہا آپ نے!

ڈاکٹر صداقت علی: بچپن میں چار سال کی عمر سے پہلے جب ہم بچوں کے ذہن میں بلاوجہ خوف بٹھا دیتے ہیں، انہیں کچھ بھی کہہ دیتے ہیں تواُن کا دماغ analyze نہیں کر سکتا جبکہ اس دوران ان کی acceptance بڑی تیزی سے ہو رہی ہوتی ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ بچہ تیری سے سیکھ سکے، پرکھنے کے عمل میں وقت ضائع نہ کرے۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: زبان سیکھ سکتا ہے۔ گرائمر کے کوئی اصول سیکھ سکتا ہے روزانہ 200 لفظ سیکھتا ہے۔ تو اتنی fast learning اس لئے ہوتی ہے کہ رکاوٹ کوئی نہیں ہوتی۔ یعنی بچے کے دماغ میں ایک ایسی پارلیمنٹ ہوتی ہے جو ساری کی ساری ایک طرف ہی ہوتی ہے۔

فرح سعدیہ: بس قبول ہی کرتی جاتی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جی وہ 2/3 اکثریت میں بھی نہیں بلکہ 100% اس کی قبولیت کا ٹائم ہوتا ہے۔

فرح سعدیہ: جبکہ ہم آج کل بچوں کو خود سے اور میڈیا کے ذریعے جیسے کارٹون میں کس طرح کے غلط پیغامات دے رہے ہوتے ہیں اور یہ سب غلط چیزیں ان کے ذہنوں میں بلا روک ٹوک جا رہی ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ہمیں بڑا سوچ سمجھ کر بچوں کے سامنے کوئی بات کرنی چاہیئے کوئی بھی بات چاہے وہ کتنی بھی بے بنیاد ہو بچہ قبول کرے گا کیونکہ چار سال کی عمر کے بعد اس کے دماغ کا وہ system develop ہونا شروع ہو جاتا ہے جو 13 سال کی عمر تک خاصا develop ہو جاتا ہے۔ اسی لئے آپ اکثر دیکھتی ہیں کہ Teenagers ہر بات کو چیلنج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح! عظیمہ صاحبہ ہمارے ساتھ ہیں! السلام علیکم عظیمہ

کالر: وعلیکم اسلام فرح!

فرح سعدیہ: کیسی ہیں آپ عظیمہ صاحبہ

کالر: میں الحمد للہ خیریت سے ہوں۔
فرح سعدیہ: آپ کیا پوچھنا چاہ رہی ہیں؟

کالر: میں پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ اکثر اوقات ہمارے دل کو بلاوجہ کسی بات سے یوں ہی خدشہ سا لاحق ہو جاتا ہے اور سمجھ بھی نہیں آتا کہ کیوں دل پریشان ہے؟

فرح سعدیہ: بالکل صحیح! کیا وہ خوف کے زمرے میں آئے گا ڈاکٹر صاحب؟

ڈاکٹر صداقت علی: بلا وجہ خوف کو ہم fear of unknown یا fear of unseen کہتے ہیں۔

فرح سعدیہ: جی جی !

ڈاکٹر صداقت علی: جب ہماری بلاوجہ ڈرنے کی یہ عاد ت پختہ ہو جاتی ہے اور ڈرنے کی بظاہر کوئی چیز سامنے موجود نہیں ہوتی تو وہ خلا جو پیدا ہوتا ہے تو پھر ہم اسے اس طرحپُر کرتے ہیں کہ ہمیں ڈر سا لگنے لگتا ہے کہ ابھی تو کچھ نہیں ہے لیکن کہیں کچھ ہو نہ جائے!

فرح سعدیہ: ہاں

ڈاکٹر صداقت علی: آپ دیکھیں کہ ہم بار بار کوئی کام کرتے رہتے ہیں تو پھر وہ خودبخود ہم سے ہو جاتا ہے لہذا ہمارا دماغ اسے سمجھتا ہے یہ کام کرنے کا ہے اور وہ خودی اسے takeover کر لیتا ہے۔ اسی طرح کوئی وجہ نہ ہونے کے باوجود ہم خوف محسوس کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ کبھی کبھی آپ کو کوئی کسی advertisement کی jingle ہوتی ہے۔ یا کوئی گانا ہوتا ہے تو جو آپ بار بار سنتے ہیں تو وہ ذہن میں بجنا شروع ہو جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: تو پھر کریں کیا؟ ڈاکٹر صاحب ان کو رات سے ڈر لگ رہا ہے کسی کو موت سے ڈر لگ رہا ہے اور کوئی ہوائی سفر سے ڈر رہا ہے تو پھر یہ مسئلہ کیسے ختم ہو گا؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ان چیزوں کیلئے ہمیں training میں سے گزرنا پڑتا ہے دیکھیں جب انسان نے دماغی کام زیادہ اور جسمانی کام کم کیا تو اس نے جم جانا شروع کیا۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: آپ نے کبھی دیکھا کہ کوئی مزدور جو کہ صبح سے شام تک مزدوری کرے، اینٹیں اٹھائے اسے شام کومزید ورزش کی ابھی ضرورت ہو؟ ہر گز نہیں۔ آج جن کی جاب کی نوعیت صرف دماغی رہ گئی ہے ایسے لوگ واک اور جوگنگ کر کے اپنا ورزش کی ضرورت کو پورا کر لیتے ہیں۔ آج انسان کو درندوں سے واسطہ نہیں رہا لہذا اسے چاہیئے کہ وہ اپنے mental muscles یا نرو کوبھی بلکل اسی طرح مضبوط کرے جس طرح وہ اعصاب کیلئے جم جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: مگر کیسے؟

ڈاکٹر صداقت علی: خوف کے بارے میں Training لے کر۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments