فرح سعدیہ: مطلب اگر فرض کیا میں ڈرتی ہوں یا مجھے لوگوں سے بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے یا مجھے رات کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے تو کیسے میں اپنی تربیت کروں، کیا کروں؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ جو نقشے ہمارے ذہن میں موجود ہوتے ہیں یعنی اُن چیزوں کے بارے میں جن سے ہم بچنے کی کوشش کرتے ہیں مثال کے طور پر اگر کسی کو سانپ سے ڈر لگتا ہے تو اگر وہ اسے حقیقت کے بجائے ٹی۔وی پر بھی دیکھتا ہے تو اسے نہ دیکھنے کیلئے وہ چینل ہی تبدیل کر دیتا ہے۔ بس اسی طرح چیزوں کو نظر انداز کرنے کا نقشہ ذہن میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے

ڈاکٹر صداقت علی: اور اس ڈر والی چیز کے پیچھے خوف اور زیادہ ہو جاتا ہے جیسے ہم عام طور پر گھروں میں دیکھتے ہیں۔

فرح سعدیہ: یعنی کہ آپ سلمیٰ صاحبہ کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ان حالات کا سامنا کرنا شروع کریں جن سے اُن کو بلا وجہ ڈر لگتا رہتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی ہمیں ضرورت کے تحت اپنے آپ کو مضبوط رکھنا چاہیے جیسے میں نے آپ کو بتایا۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب اب اگر مجھے اندھیرے میں جانے سے ڈر لگتا ہے تو بتائیں میں اس کا سامنا کیسے کروں؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں جو چیز بھی آپ کو ڈراتی ہے تو اس کا سامنا کرنے کے دو تین طریقے ہیں۔ ایک تو آپ اس کا حقیقت میں سامنا کریں گے جو کہ مشکل عمل ہے۔

فرح سعدیہ: جی ہاں

ڈاکٹر صداقت علی: دوسرا یہ کہ جسے آپ decentralization کہتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے

ڈاکٹر صداقت علی: decentralization یعنی آپ اسی کی ایک ہلکی ہی شکل کا سا منا کرتے ہیں جس چیز سے آپ کو ڈر لگتا ہے۔

فرح سعدیہ: اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں کہنا شروع کر دوں کہ مجھے اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا، اندھیرے میں ایسی کون سی بات ہے!

ڈاکٹر صداقت علی: صرف یہ کہنے سے بات نہیں بنے گی آپ پہلے اندھیرے کی بجائے نیم تاریکی یا ایسی جگہ جو بہت روشن نہیں ہے اس کا سامنا کرنا سیکھیں۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے

ڈاکٹر صداقت علی: اگر اس کے اندر یا تصور میں ہی آپ اپنے آپ کو comfortable بنائیں آپ دیکھیں آپ کو حقیقت میں سانپ کو دیکھنا یا سانپ کو ٹی۔وی پر دیکھنا یا پھر اس کی تصویر دیکھنا یا سانپ کا لفظ آسان ہو جائیگا۔ یہ ساری صورتِ حال ایک دوسرے سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔

فرح سعدیہ: جی

ڈاکٹر صداقت علی: میں آپ کو بتاوں اگر کسی کو ہوائی سفر سے ڈر لگتا ہے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ شخص صرف ائیر پورٹ جائے دو گھنٹہ وہاں رہے، مسافروں کو آتے جاتے جہازوں کو اوپر اڑتے اور اترتے دیکھے اور واپس آ جائے۔ جب وہ چند دن ایسا کرے گا تو اس کا خوف دور ہو جائے گا کیونکہ آپ کو درمیان کا راستہ ڈھونڈنا ہوتا ہے جب آپ کو کسی خوف کا سامنا ہوتا ہے تو وہ صرف لیکچر لینے سے دور نہیں ہوتا اُس کیلئے آپ درمیانی راہ نکال لیں کیونکہ ابھی آپ ہوائی سفر کر نہیں سکتے۔

فرح سعدیہ: ٹھیک ہے، بالکل صحیح، ایک اور کالر کی کال سن لیتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments