ڈاکٹر صداقت علی:لیکن آج خواتین وہ سارے کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں کیونکہ مرد بھی آج جو کام کر رہے جن میں طاقت خرچ ہو رہی ہے ان کاموں کی کیا حیثیت ہے۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب ہمیں کیا کرنا چاہیئے کہ جس کی وجہ سے بچوں میں یہ رجحان پیدا نہ ہو۔ کیا یہ کوئی نفسیاتی بیماری ہے؟ جو شخص راہ فرار اختیار کرتا ہے اس کے اندر کوئی مسئلہ ہوتا ہے؟ کیا وہ کوئی بیمار شخص ہوتا ہے؟ باقی سب بھی تو وہیں رہ رہے ہوتے ہیں۔ وہ سب بھی تو اس ماحول میں رہ رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں تین چیزیں ہیں جو بنیادی طور پر اگر کر دی جائیں تو یہ سارے مسئلے حل ہو جائیں گے ایک یہ کہ پرانی باتوں کو چھوڑنا ہو گا۔ میں تو کبھی کبھی دعا مانگتا ہوں کہ کسی صبح ہم اٹھیں تو ہم ماضی بھول چکے ہوں اور ہم ایک نئی دنیا میں آنکھ کھولیں اور اس کے مطابق زندگی گزارنا شروع کر دیں سارے پرانے اصول توڑ کے یہاں تک کے 100 سالہ پرانی چیزیں بھی جو ہیں ان میں سے بھی کار آمد بہت کم رہ گئی ہیں۔

فرح سعدیہ: اس وقت کس پرانی چیز کو کی طرف اشارہ کر رہے ہیں آپ کے خیال میں یہاں کون سی پرانی چیزیں ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: عورتوں کی جو اہمیت ہے اس کو کم سمجھنا۔ عورتوں کو کم تر انسان سمجھنا۔ دوسرے درجے کا انسان سمجھنا یا مردوں کے لیے سمجھنا۔ باہمی تعاون تو مردوں اور عوتوں کو ایک دوسرے کا بہت چاہیئے۔ لیکن یہ جو تصور ہے نہ کسی کے لیے کہ اپنے بیٹے کے لیے چاند سی دولہن بیا کے لانا یا بہت سے ایسے الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں کہ کسی خاتون کو کسی مرد کے نکاح میں دے دینا جس کے اندر کوئی شرائط خواتین کی تصور ہی نہیں کی جاتیں اس پر ایک لمبا کانٹا کھینچا جاتا ہے۔ لیکن ماں باپ اگر صحیح معنوں میں اپنے بچوں میں فرق نہ کریں۔ کیا اپنے ہی بچوں میں امتیاز کرنا چاہیئے بلکہ کسی بھی چیز میں نہیں کرنی چاہیئے لیکن اپنے بیٹے بیٹی میں جو بھی فرق کرتا ہے وہ اس سے بڑی چوٹ اپنی بیٹی یا بیٹے کو نہیں پہنچا سکتا اور یہ بنیادی چوٹ ہے یہ بہت گہری چوٹ ہے۔ جو کہ کوئی ماں باپ اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں کہ وہ لڑکیوں کے ساتھ اور لڑکیوں کے ساتھ مختلف سلوک کریں۔ دیکھیں حال ہی بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کا جائیداد میں حق برابر ہے۔ یعنی باقاعدہ فیصلہ دیا ہے۔ علما نے اس میں حصہ لیا ویسے تو جو آدھا حصہ ہوتا ہے لڑکی کا وہ بھی نہیں دیا جاتا۔ جب دیا ہی نہیں جاتا تو آپ مانتے کس چیز کو ہیں۔ لیکن ایسی کوئی پابندی لیں کہ آپ آدھا حصہ نہیں دے سکتے ۔آپ جتنا چاہیں دے سکتے ہیں۔

فرح سعدیہ: اگر ہم خاص طور پر لڑکی کو یہ احساس دلا دیں گے کہ وہ ان وانٹڈ ہے۔ وہ قابل نفرت ہے وہ قابل محبت نہیں ہے وہ تو چلیں ایک اور مرحلہ ہے۔ لڑکے اگر غلطی کریں تو ہم کہتے ہیں کہ چلو خیر ہے اور لڑکی اگر ویسے ہی کسی سے دعا سلام کر لے تو ہماری انا غیرت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments