فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب نا چاہے جانے یا unwanted ہونے کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جب آپ کو لگے کے آپ کے والدین آپ سے پیار نہیں کرتے وہ آپ کو سمجھتے نہیں ان کی ترجیحات میں آپ کہیں نہیں ہیںیا گھر کا ماحول ایسا ہو جہاں آپ کو لگے کے کوئی بھی میری بات نہیں سمجھتا میں تو ان لوگوں جیسا ہوں ہی نہیں۔ یہ میں نے چار پانچ لوگوں میں Repeat ہوتی دیکھی ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں بنیادی طور پر لڑکیوں کے بارے میں یہ بات واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ ان کے اندر unwanted ہونے کا احساس بہت پایا جاتا ہے۔ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی خوشی نہیں منائی جاتی انہیں ہر سطح پر ایسے سمجھا جاتا ہے جیسے وہ مردوں کے لئے ہوتی ہیں اور انہیں چھوٹا یا کمتر سمجھا جاتا ہے۔ تو جب اس ذہن کے ساتھ کوئی لڑکی نشوونما پاتی ہے اور پھر اگر گھر میں اور بھی مسائل شروع ہو جائیں جیسے میاں بیوی کا جھگڑا یا اگر میں کوئی مار پیٹ کرتا ہو کوئی نا انصافی کی ہو۔ کوئی Drug abuse ہو یا گھر میں کوئی crime کا سلسلہ بعض اوقات ہوتا ہے ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو کہ ایک دم تیش پیدا کرتی ہیں۔

فرح سعدیہ: مجھے ایک بات بتائے گا ڈاکٹر صاحب کہ یہ کیسے ہوتا ہے کہ ماں باپ ہی بچی کو بالکل یکسر سمجھ ہی نہ پائیں وہ تعلیم لیتی ہے کہ شاید مجھے اس لیے پیار کریں گے ،value کریں گے، مجھے کچھ سمجھیں گے لیکن وہ کہیں تم کیا چیز ہو۔ تم چلو۔ تم ہو کیا؟ یہ کیوں ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں لڑکیوں کو جو تعلیم اگر دی بھی جاتی ہے اس کا بھی کوئی مثبت مقصد نظر نہیں آتا کیونکہ انہوں نے پھر اس تعلیم کو استعمال نہیں کرنا ہوتا۔ پھر چاہے وہ ڈاکٹر یا انجینئر بنیں۔ چاہے کچھ بھی بنیں انہوں نے پھر وہی ہانڈی چولہے کی طرف واپس آنا ہوتا ہے۔ حیلے بہانے سے شادی ہو جانے کے بعد یا پھر بچے ہو جانے کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے انہیں Guilt میں ڈالا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی طرف توجہ نہیں دے رہیں۔ پھر وہی چھوٹے موٹے کاموں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اور پھر انہیں بتایا جاتا ہے کہ تمھاری حیثیت کیا ہے تم کارآمد نہیں ہو اور لڑکوں کے حوالے سے بہت ہی مختلف صورت حال ہے انہیں ایک اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک Myth ہے۔ اب پہلے دنیا میں ایسا وقت تھا کہ کام کاج صرف مرد زیادہ تر کرنے کی حالت میں تھے اس وقت کہ کام کاج ایسے ہوتے تھے جو کہ عورتیں کر نہیں سکتی تھیں۔ اب کون سا ایسا کام ہے جو عورتیں نہیں کر سکتی ہیں ایک دفعہ میں سفر میں تھا میرے ساتھ (پی۔آئی۔اے ) کی پائلٹ خاتون بھی سفر کر رہی تھیں جو اس لیے لاہور سے اسلام آباد جا رہی تھیں کہ انہوں نے ایک جہاز لے کر کراچی جانا تھا اور وہ ننھی اور چھوٹی سی خاتون تھیں اور جب جہاز اتارا گیا تو انہوں نے مجھے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس بڑے جہاز کو اڑاتی ہیں میرے دماغ میں تھا کہ جہاز اڑانا شاید کوئی زور لگانے والا کام ہے۔ کوئی مرد ہی ہے جو جہاز کو زور سے اڑا لیتا ہے یہی چیزیں ہمارے ذہن میں بیٹھی ہوئی ہیں۔