کرن: ہم نے میڈیا پر بہت شور سنا ہے کہ سگریٹ نوشی اخلاقی طور پر خراب ہے۔ نقصان دہ ہے۔ سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود بھی سگریٹ پیتے ہیں۔ کیوں؟ حسن آپ کتنی دیر سے سگریٹ پی رہے ہیں؟

حسن سمرو: میں دس سال سے سگریٹ پی رہا ہوں۔ اس سے پہلے میں ہاکی کھیلتا تھا تو سگریٹ سے نفرت کرتا تھا۔ جو پاس بھی سگریٹ پیتا تھا یا اس کی سگریٹ بند کروا دیتا تھا یا اسے کہتا تھا کہ دور چلے جاوٗ۔ کھلاڑی کو اپنا سٹیمینا برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ہاکی چھوڑنے کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ ہوتا تھا وہ بھی سگریٹ پیتا تھا۔ بس اس کے ساتھ رہتے ہوئے عادت ہو گئی۔

کرن: کوئی دوستوں کا دباؤ تھا؟ اور آپ ایک دن میں کتنی سگریٹ پیتے ہیں؟

حسن سمرو: نہیں بس شغل شغل میں عادت ہو گئی۔ دو پیکٹ پی لیتا ہوں۔

کرن: ڈاکٹر صاحب جب ہمارے ذہن میں ایڈکشن کا لفظ آتا ہے تو ہمارے ذہن میں ہیروئین، الکوحل اور ایسی چیزوں کا ذکر آتا ہے۔ سگریٹ میں بھی ایسی کوئی بات ہے کیا؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی ٹیکنیکلی یہ اتنی ہی سنجیدہ بات ہے جتنی الکوحل یا ہیروئین۔ اس میں جسمانی ظور پر بھی ا یڈکشن ہوتی ہے اور نفسیاتی طور پر بھی۔

کرن: مگر سگریٹ کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ جیسے اگر ہیروئین کا پتا چلے تو لوگ گھبرا جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں اس دنیا میں بہت سارے لوگ سگریٹ پیتے ہیں اس چیز نے اسے قابل قبول بنا دیا ہے۔ جیسے حقہ کو قبول کیا جاتا ہے۔ لیکن اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ اب دنیا میں بہت سارے لوگوں کے گروپ ایسے بھی ہیں جہاں شراب پینے کی اجازت تو ہے مگر سگریٹ پینے کی نہیں۔ وہ اس کا الکوحل سے بھی برا تاثر بنا رہے ہیں۔ اس کی اشتہار بازی پر پابندی ہے۔ ایئر لائنز اجازت نہیں دیتی چاہے ان کا مسافر ان کو چھوڑ دے۔ دنیا میں ایک ایسا وقت آ رہا ہے کہ کہ سگریٹ پینے والے کو کو تعصب کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ اور یہ اچھا بھی ہے۔ بچے والدین کو کہتے ہیں کہ ابو آپ سگریٹ پیتے اچھے نہیں لگتے۔ جب باپ ان کو سینے سے لگانے لگتا ہے تو ہچکچاتا ہے۔ سگریٹ پیتے باپ بچے کو گلے نہیں لگا سکتا۔

حسن سمرو: ڈاکٹر صاحب آج کل شیشہ کیفے بنے ہوئے ہیں اور چھوٹی چھوٹی عمر کے لڑکے لڑکیاں جاتے ہیں۔ اس کے بہت سے ذائقے بھی ہیں تو کیا یہ بھی سگریٹ نوشی ہے؟ کیا یہ محفوظ ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں نہیں یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی اور چیز ہے۔ اگر آپ اس کی خراب بو کو بہتر بنا دیتے ہیں تو اس کا مظلب یہ نہیں کہ اس میں نکوٹین نہیں ہے۔

کرن: لوگ کہتے ہیں کہ تھوڑا سا مزہ ہے۔ یہ صحت مند ہے۔ سیب کا نام سن کر لوگ اسے صحت مند سمجھ لیتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں چیزوں کو بھیس بدل کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک طرف سے کوشش کر رہے ہیں کہ سگریٹ نوشی ختم ہو جائے اور دوسری طرف سے پھیلا رہے ہیں۔ ڈھیل دے رہے ہیں کہ ختم نا ہو۔ اب ساری اچھی جگہ جیسے، فائیو سٹار ہوٹل، یا ریسٹورنٹ میں شیشہ کے انتظامات ہیں۔ والدین اپنی معصومیت میں بچوں کو خود ساتھ لے جاتے ہیں یا بچے ضد کر کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ والدین سوچتے ہیں اگر ہم ان کو لے کر نہ گئے تو یہ خود چلے جائیں گے اس طرح وہ ان کو منظوری دے دیتے ہیں۔ یہ فیشن ایبل چیز بن گئی ہے لیکن مشرق وسطٰی میں جہاں شیشہ پاکستان سے بھی زیادہ پیا جاتا ہے۔ وہاں ریسرچ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چیزیں بہت نقصان دہ ہیں۔ عام سگریٹ نوشی سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ آپ کو پتہ نہیں چلتا کہ آپ اتنا خطرناک کام کر رہے ہیں۔ عام سگریٹ کی بو ہوتی ہے اس سے آپ کو یا دوسروں کو برا لگتا ہے لیکن جب ایسی چیز کو خوشبو اور ذائقے سے پیش کیا جاتا ہے تو آپ اس کے ذائقے میں پھنس جاتے ہیں۔

کرن: ابھی ہم ایک تجربہ کریں گے جس میں سگریٹ کا دھواں ایک بوتل میں اکٹھا کیا جائے گا اور نکوٹین کے روئی پر اثرات دیکھے جائیں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: سگریٹ کے بارے میں کچھ مشہور عقائد ہیں لوگ کہتے ہیں کہ قوت ارادی سے اسے چھوڑا جا سکتا ہے اور کچھ لوگ اسے کامیابی سے کر بھی لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت سے طریقے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آہستہ آہستہ کم کر کے ختم کریں گے اور وہ کبھی اس طرح کر بھی لیتے ہیں اور کبھی نہیں بھی کر لیتے۔ کچھ لوگ متبادل تھراپی پر چلے جاتے ہیں جس میں نکوٹین پیک، چیونگم، ناک کی سپرے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ نکوٹین اور اصل کیمیکل ہے جس کی وجہ سے لوگ سگریٹ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن نکوٹین کے ساتھ 3999 اور کیمیکلز خوانخواہ پی لیتے ہیں جس کو بالکل نہیں جانتے۔ ان میں دھواں، ٹار اور 60 ایسے کیمیکلز ہیں جو کینسر بناتے ہیں لیکن نکوٹین کینسر کی وجہ نہیں بنتی۔ اس سے دل کا دورہ، سٹروک یا فالج ہو سکتا ہے۔ لوگوں کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ نکوٹین کی وجہ سے کینسر ہو سکتا ہے۔ نکوٹین کی وجہ سے کینسر نہیں ہوتا۔

حسن سمرو: مسئلہ پیپر سے ہوتا ہے یا تمباکو سے؟

ڈاکٹر صداقت علی: پیپر کی بات نہیں ہے تمباکو میں 4000 کیمیکلز ہیں ان میں سے ایک نکوٹین ہے جس کی خاطر لوگ اسے پیتے ہیں اس کے علاوہ اس میں زہر ہے جیسے آرسینک۔ نکوٹین بظاہر خود ایک زہر ہے اور آرسینک سے 4 گنا زیادہ طاقتور ہے۔ نکوٹین اور سارے کیمیکلز تمباکو کے پودے میں پائے جاتے ہیں اور اسے جانور نہیں کھاتے ایک بکری آئے گی اسے سونگھ کر چلی جائے گی لیکن ایک بندہ آئے گا اسے پئے گا اور پھر سے اسے پینا پسند کرے گا۔

جارج: سگریٹ نوشی آپ کے دل اور پھیپھڑوں کے لئے خراب ہے پھر بھی لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اس کے کیا نفسیاتی عوامل ہیں؟

حسن سمرو: بنیادی طور پر نکوٹین جسم کی ضرورت ہے جیسا کہ بہت سے لوگ چائے پیتے ہیں اور چائے کے بغیر نہیں سو پاتے۔ کیونکہ ان کو نکوٹین چاہیئے۔ ڈاکٹر صاحب! ایسی کچھ تدابیر بتائیں کہ سگریٹ کو چھوڑا جا سکے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دنیا میں سمجھا جاتا ہے کہ صرف سمجھدار اور کامیاب لوگ سگریٹ پیتے ہیں اور کھلاڑی ان سب چیزوں سے دور رہتے ہیں تو یہ بالکل غلط بات ہے سب سے زیادہ نشے والی چیزیں کھلاڑی استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کی زندگی بہت مقابلہ آور ہوتی ہے۔ دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرز بالکل بھی سگریٹ نہیں پیتے۔ یہ بھی غلط ہے، ڈاکٹرز عام سوسائٹی سے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں۔ میڈیکل کالجز کے ہاسٹلز میں آپ کو سب سے زیادہ طالب عمل سگریٹ پیتے نظر آئیں گے۔ تو اس کا مطلب ہے اس کا سمجھداری سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ سگریٹ پیتے ہیں، الکوحل لیتے ہیں یا نشہ کرتے ہیں وہ لوگ سٹریس کو قابو کرنے کے جدید طریقے نہیں جانتے۔ تو ماڈرن زندگی گزرتے ہوئے جب آپ سٹریس پر قابو پانے کے ماڈرن طریقے نہیں جانتے تو آپ پرانے طریقوں پر عمل کریں۔ جیسے الکوحل 10 ہزار سال سے پرانا طریقہ ہے لوگ ابھی بھی اسی طریقے پر چلتے ہیں۔ اسی طرح ہزاروں سال ہو گئے لوگ تمباکو کو استعمال کر رہے ہیں اور پھر اپنے آپ کو ماڈرن کہتے ہیں اگر کوئی سٹریس مینجمنٹ کے ماڈرن طریقے سیکھ لے تو اسے سگریٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لوگوں کی طرز زندگی یہ بنا ہوا ہے کہ صبح اٹھ کر چائے، کافی لیں گے جو کہ ٹیک آف ہے پھر سگریٹ لیں گے اور پھر جب سونا ہے تو شام میں الکوحل لیں گے یہ غلط ہے۔

جارج: سگریٹ کے نفسیاتی کیا اثرات ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ اسے سکون آور سمجھتے ہیں لیکن کیمیکلی یا ادویاتی لحاظ سے نکوٹین کے اندر سکون آور کوئی چیز نہیں ہے لیکن لوگ نفسیاتی طور پر اسے دیکھتے ہیں کہ یہ سکون آور ہے۔ نفسیاتی طور پر یہ توجہ ہٹانے والی چیز ہے۔ جیسے لوگ ٹی وی نہیں بھی دیکھنا چاہتے تو لگا ضرور لیتے ہیں کہ تھوڑا سا شور ہو جائے گا۔ سگریٹ چھوڑنے کے حوالے سے بات کریں تو ایک لفظ ہے پلان۔ پلان کئے بغیر کوئی کام نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے ناکامی ہوتی ہے اور ناکامی آپ کو بہت پیچھے لے جاتی ہے اور پھر آپ گنتے رہتے ہیں کہ کتنی دفعہ ناکام ہوئے۔ سگریٹ چھوڑنے والوں کو کبھی یہ نہیں گننا چاہیئے کہ وہ کتنی سگریٹ چھوڑنے میں ناکام ہوئے انہیں ہمیشہ یہ سوچنا چاہیئے کہ وہ ایک اچھی کوشش کر رہے ہیں اور وہ بلاآخر کامیاب ہو جائیں گے اس کے لئے پلان کرنا بہت ضروری ہے کہ آپ نے کونسے لائحہ عمل پر جانا ہے اگر آپ ایک درجن پلان بناتے ہیں اور اپنی طاقت کو تقسیم کر دیتے ہیں تو آپ کو کامیابی نہیں ملے گی۔ کامیابی تب ملتی ہے جب آپ کسی ایک پلان پر پوری طرح سے عمل کریں اور ساری انرجی اس پر لگا دیں۔ جیسے وزن کم کرنے کا ایک کامیاب ترین طریقہ یہ ہے کہ روزانہ اپنا وزن کریں اور ساری زندگی اپنا وزن کریں۔ باتھ روم میں یا کسی ایسی جگہ پر ویٹ مشین رکھ لیں اور کسی بھی دن ایسا نہ ہو کہ آپ وزن نہ کریں۔ ہر روز وزن کرنے سے آُپ اپنا وزن کم کر لیں گے۔