فرح سعدیہ: خوش آمدید اور صبح و بخیر! اس وقت میرے ساتھ ولنگ ویز کے ڈاکٹر صداقت موجود ہیں جو کے بہت اجھے ایڈکشن سائکاٹرسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فیملی کونسلنگ بھی کرتے ہیں۔ ہم نے اکثر مختلف اشتہارات میں دیکھا ہو گا جس میں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں بعض اوقات تین تین لڑکیاں بھی ہیں۔ اگر ہم ڈرامے اٹھا کے دیکھ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ بیوی ایک ہے اور دوستی کسی اور کے ساتھ ہے اور جس سے دوستی ہے اسکی دوستی کسی اور کے ساتھ اور اگر بیوی کسی ایک شوہر کی، تو محبت کسی اور کے ساتھ اور یہ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا میں کوئی رشتہ خالص رہ ہی نہیں گیا- وفا کا جو تصور ہے وہ ناپید ہوتا نظر آتا ہے دنیا میں بس اسی طرح نفسانفسی کا عالم ہے اور سب کچھ معاشرے میں بگڑا ہوا ہے، کوئی شوہر قابلِ بھروسہ نہیں لگتا۔ کوئی بیوی وفادار نہیں لگتی بس اسی طرح سے چل رہا ہے یہ جو ہم سب چیزیں بڑے چسکے کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ اب دیکھے اس میں آگے کیا ہو گا؟ یہ چسکے کے علاوہ ہمیں اور بھی بہت کچھ دے رہا ہوتا ہے جس کا ہمیں اندازہ نہیں ہوتا۔ وہ کیا چیزیں ہیں جو ہمیں اس طرح کی چیزوں کو دیکھنے سے ملتی ہے اور وہ کیا اثرات ہیں جس کے بارے میں باخبر رہنا اور محتاط رہنا ہے؟ ہم یہ بات چیت کریں گے اور ڈاکٹر صداقت ہمارے ساتھ ہیں۔
اسلام و علیکم!

ڈاکٹر صداقت علی: وعلیکم اسلام

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: جی الحمدالله

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب میں نے تو ڈرامے دیکھنے ہی چھوڑ دیئے ہہں

ڈاکٹر صداقت علی: وہ کیوں؟

فرح سعدیہ: اسی دکھ سے مجھے لگتا ہے دنیا میں کوئی چیز رہ ہی نہیں گی اس کا مطلب —–

ڈاکٹر صداقت علی: انہوں نے ایک موضوع بنایا جس میں لوگوں کو بڑی دلچسپی ہے خاص طور پرجو ڈرامے ہمارے ہمسایہ ملک میں ہیں وہ اس سہ طرفہ کے ساتھ چلتے ہیں یہ سہ طرفہ پچھلے ساتھ ستر سال سے آپ ہر روز دیکھتے ہیں جس میں ایک مرد اور دو عورتیں اور پھر ایک یہ کشمکش تو یہ بہت زیادہ ایک ایسی چیز ہمارے دماغوں میں رچ بس گئی ہیں۔

فرح سعدیہ: تو یہ کیا ہماری خیام خیالی ہے یا ہماری ضرورت ہے یا یہ وا قع حقیقت ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: اصل میں اسکا کچھ تعلق تاریخ سے بہت زیادہ ہے اور آج کل اس کے حالات اس کو اور بھی گمبھیر بنا رہے ہیں تو تاریخ میں یہ کہ مرد ہمیشہ سے ایسی صلاحیتوں کے مالک تھے جو اس وقت عورتوں میں نہیں تھیں اور وہ کچھ خاص صلاحیتیں تھیں جو اس وقت بڑی خاص تھیں آج وہ اتنی خاص نہیں رہیں۔جیسے مرد جسمانی طاقت میں زیادہ تھے اور کمانا مرد کا دائرہ اقتدار تھا یہ دو خوبیاں مردوں کو ممتاز بنایا کرتی تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنا استقاط سمجھے تھے اور انکی سوچ تھی کہ ایک عورت انکے زیادہ تصرف میں ہونی چاہیئےاور آپ دیکھ لیجیئے کہ تاریخ میں جتنے ممتاز مرد ہیں انکی ایک سے زیاد بیویاں تھیں۔

فرح سعدیہ: چلیں وہ تو ممتاز تھے بہت سے غیر ممتاز لوگ بھی یہی شغف رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: میں اب اسکی طرف بعد میں آؤں گا۔ پہلے میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ دنیا کی تاریخ میں ایک شخص کی سترہ سو بیویاں تھیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور اب شاید اس ریکارڈ کو کوئی توڑ نا سکے۔

فرح سعدیہ: نہیں! ہو سکتا ہے بہت سارے چھپے ہوئے ہیں۔ ہاہاہا

ڈاکٹر صداقت علی: جی شاید ہو بھی— لیکن یہ ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا گیا مردوں کا جسمانی طور پر طاقتور ہونا اور روزگار کے حوالے سے انکی اجارہ داری ٹوٹتی جا رہی ہے۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: اب اس سے تھوڑا الٹ چیز ہے!

فرح سعدیہ: لیکن ہمارے ڈراموں کی روش بدلی ہے ہم نے جو دیکھا ہوا ہے اس میں فیملی نظر آتی تھی۔ خاندان نظر آتا تھا۔ روایات نظر آتی تھیں۔ کردار نظر آتے تھے اب آپ دیکھیے، وہ ڈرامے کا ہیرو ہے اور اسکی بیچارگی دکھائی گئی ہے کہ بیچارہ پیار کسی اور سے کرتا ہے اور بیوی اسکی یہ ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: بعض اوقات کسی کو موقع نہیں ملتا یہ مسئلے بھی ہوتے ہیں۔ ماں، باپ یا کوئی اور بہت زیادہ مجبور کر کے کہیں کسی کی شادی کر دیتے ہیں اس کی وجہ سے بھی یہ چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن میں جو بتا رہا ہوں کہ تاریخ میں ایسے ممتاز مرد ہوتے تھے جنکی طرف عورتیں مائل ہوتی تھیں کہ یہ اتنے ممتاز ہیں جو کہ خود انکے پاس وہ صلاحتیں جیسے جسمانی طاقت یا کمانے کی صلاحیت نہیں ہوتی تھی۔

فرح سعدیہ: ہوں—-

ڈاکٹر صداقت علی: اب جسمانی طاقت کی ویسے اہمیت نہیں رہی اور کمانے کی طاقت اب عورتوں میں بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ مردوں کے ہاتھ میں۔ لیکن اب ایک الٹ انکشاف ہو گیا کہ اب لڑکیاں زیادہ قابل اور بہتر بودوباش میں گزر رہی ہیں اب اگر آپ معاشرے میں دیکھیں تو دس میں سے آٹھ لڑکیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہی ہیں آپ میڈیکل کالج میں دیکھیں وہاں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے اور جو ماہر نفسیات بنتے ہیں وہ لوگ ان میں ایک اور بیس کی نسبت، کسی بھی کلاس میں بیس لڑکیاں اور ایک لڑکا ہو گا۔

فرح سعدیہ: سہی، لیکن یہ کیا ہمارے معاشرتی لباس کو متاثر کر دے گا؟

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: کوئی دس میں سے ایک لڑکا ایسا ہوتا ہے جسے کہا جا سکے کہ اس کا معیار زندگی ایک جوڑ کے توڑ پر بہت اچھا ہے۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: اب دس میں نو لڑکیاں—-

فرح سعدیہ: کوالیفائی کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: کوالیفائی کر رہی ہیں۔

فرح سعدیہ: اور مردوں میں دس میں سے ایک کر رہا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اب اس میں محض یہ ایک خام و خیالی مردوں کو ملنا شروع ہو گئی ہے کیونکہ اچھے لائق لڑکے ملتے ہی بہت کم ہیں اور لائق لڑکیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے تو پھر جو مقابلہ ہے وہ مردوں کے حق میں چلا گیا کہ کسی کو محض اس وجہ سے زیادہ انتخاب مل جاتا ہے کہ وہ مرد ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا ہم نے تو یہ بات کی نا کہ ہمارے معاشرے میں چل رہا۔ وہ جو ہم سکرین پہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: سکرین پہ اسی وجہ سے آ رہا ہے کیونکہ جو معاشرے میں بھی ہو رہا ہے، ایک لڑکا ہونے کی وجہ سے محض کسی کا ایک لڑکا ہونا ایک بڑی قابلیت بن گی ہے کہ لڑکا ہونے کی وجہ سے زیادہ لڑکیاں مقابلہ کر رہی ہیں اور اس لڑکے میں کوئی خوبی بھی ہو جیسے کہ وہ وجیہح ہو یا وہ تعلیم یافتہ ہو امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہو تو خود با خود اس کے لیے راہ ہموار ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ—-

فرح سعدیہ: اچھا اس کو ایک لمحے کے لیے چھوڑتے ہیں—- ڈاکٹر صاحب گھر میں جب ڈرامہ چل رہا ہوتا ہے ماں بھی دیکھ رہی ہے اور ساتھ بیٹی بھی بیٹھی دیکھ رہی ہے۔ ماں تو ہو سکتا ہے سمجھداری کے معیار پہ ہے وہ ساری چیزوں کو سمجھ سکتی ہے بیٹی عمر کے اس حصے میں نہں ہے یا اسنے زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے اس طرح کی چیزوں کے اس پہ کیا اثرات آ رہے ہیں اس طرح کے موضوعات کے اتنے برمحل اتنے کھلے خیالات کی بات چیت؟

ڈاکٹر صداقت علی: اس میں سارا اختلاف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کو برا سمجھ رہے ہیں یعنی سب جانتے ہیں جو چیز معاشرتی طور پر بری ہے مناسب نہیں ہے بے مقصد ہے اس کی طرف فطرت کے تقاضوں کے تحت مائل ہو رہے ہوتے ہیں- عام طور پر کوئی لڑکی پسند نہیں کرے گی کہ وہ کسی ایسے مرد کی طرف مائل ہو، جو میسر نہیں ہے جس کا پہلے سے جوڑ ہو۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: جس کا پہلے سے ساتھ ہے۔

فرح سعدیہ: سہی! وہ پہلے سے ہی کسی کے ساتھ منسوب ہے کسی کے ساتھ تعلق ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: تو عام طور پر لڑکی کو اس کی طرف متوجہ نہیں ہونا لیکن چونکہ وہ فطرتی طور پر چھینا جھپٹی پہ جو اچھے لڑکوں کی کمی اور قہر ہے۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب اتنا بھی قحط ورجعال کی کیفیت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں ایسا نہیں ہے۔

فرح سعدیہ: ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں جیسے معاشرے میں، معاشرتی اونچ نیچ ہوتی ہے تو چھینا جھپٹی ہے۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: آپ دیکھیے۔

فرح سعدیہ: آپ یہ ثابت کر رہے ہیں لیکن مجھے اس بچی کا بتائیے؟

ڈاکٹر صداقت علی: میں ثابت نہیں کر رہا میں صرف یہ کہہ رہا ہوں ہمیں ان عوامل کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔

فرح سعدیہ: کیا لڑکیاں پڑھنا چھوڑ دیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: میں یہ نہیں کہوں گا- میں تو یہ کہوں گا کہ لڑکیاں ضرور پڑھیں لیکن ان میں جو مقام ہے ان کو پروان چڑھایا جائے دوسرا ان کے اندر وہ صلاحتیں پیدا کی جائیں کہ اپنی صلاحتوں کی بنیاد پر انہی کو چنا جائے۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: اس کی بجائے کہ بہ خود پیچھے بھاگے جو صدیوں سے دستور ہے جو انسان کے ساتھ ہمیشہ چلتا آیا ہے بلکہ یہ مردوں کا عمل ہونا چاہیئے کہ وہ عورتوں کی طرف بڑھے۔

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور جسے ہم اپنے آپ کو پیچھے لانے والی بات کہتے ہیں، جیسے آپ دوسرے جانداروں میں بھی دیکھیں کہ جو نر ہے وہ مادہ کی طرف رحجان کرتا ہے یہ عورت کی عزت بھی ہوتی ہے ایک مادہ کی بھی عزت ہوتی ہے کہ مردوں کا رحجان ان کی طرف ہو۔ لیکن مردوں کو جب یہ مقام مل گیا جو معاشرے میں اس وقت ہے کہ ایسے لڑکے کم ہیں جن کی طرف آپ اس نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ میری زندگی کا ہمسفر بنے۔
فرح سعدیہ: بالکل اس میں ہم جو تیار شدہ چیزیں دیکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ جو مرد اچھے پیسے کماتا ہو وہ اچھا انسان بھی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اچھا تعلم یافتہ ہے تو وہ آپ کے ساتھ اچھی زندگی بھی گزار سکتا ہے۔ بہت ساری چیزیں ملتی جلتی ہوتی ہیں آپ کو بہت ساری چیزوں کو مادہ پرستی سے تھوڑا سا ہٹ کے بھی دیکھنا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے آپ فلموں ڈراموں میں دیکھتی ہیں۔ کسی ایک مرد کی طرف دو دو تین تین خواتین کا رحجان اور اس کشمکش کو کہانی کی بنیاد بنایا جاتا ہے تو کیا آپ دیکھتی ہیں کہ وہ لڑکا ایک مزدور ہے؟

فرح سعدیہ: نہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: وہ کسی راج کے پیچھے کام کرنے والا ہے؟

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: کیا آپ ایسا دیکھتی ہیں؟

فرح سعدیہ: نہیں نہیں! یہی تو ایک بات ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ایک اس کو شاہ رخ کا تصور ہے دوسرا سلمان خان کا تصور ہے۔

فرح سعدیہ: ہاں۔

ڈاکٹر صداقت علی: کہ جو دیکھنے میں بھی خوبصورت دکھتا ہے جو باڈی بلڈر ہے جس کا اصل میں پیشہ ہے وہ فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے اپنا خیال رکھتا ہے وہ مالدار بھی ہے۔

فرح سعدیہ: ہاں (مسکراتے ہوئے)۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور وہ تعلیم یافتہ بھی دکھایا گیا ہو گا۔

فرح سعدیہ: یعنی آپ کے خیال میں (مسکراتے ہوئے)۔

ڈاکٹر صداقت علی: ڈراموں میں دو دو تین تین عورتیں گھومتے ہوئے نہیں دیکھتے جو کہ ان پڑھ ہوں!—-

فرح سعدیہ: یعنی عورتیں بہت مادہ پرست ہو گئی ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں نہیں! مادہ پرست کی بات نہیں ہے۔ دیکھیے آپ مجھے بتائیے کسی ان پڑھ کے پیچھے آپ نے ڈراموں میں دیکھا کہ کوئی ان پڑھ گوار ہے اور اچھا حلیہ نہیں ہے تو اس کے پیچھے لڑکیاں گھوم رہی ہیں تو ظاہر بات ہے۔

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: کہ اگر کوئی پڑھا لکھا بھی ہے اچھا حلیہ بھی ہے اور وہ کماتا بھی ہے اس کے پیچھے خاندان بھی اچھا ہے معاشرتی مقام بھی اچھا ہے اور دیکھنے میں بھی بھلا آدمی لگتا ہو اور دیکھنے میں بہت شریف آدمی بھی لگتا ہے۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: پھر حقیقی طور پر آپ جو فلموں میں چیز دیکھتے ہیں۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: تو وہ زندگی میں بھی آپ کے ساتھ ہوتی ہے۔

فرح سعدیہ: ایک کالر آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ جی اسلام ؤ علیکم! آپ کا کیا حال ہے؟

کالر: جی شکر الحمدللہ۔

فرح سعدیہ: جی۔

کالر: جی وہ سوال کرنا تھا خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو پوچھنا یہ تھا کہ میری کزن ذہنی مریض ہے ان کے دو بچے ہیں جن کی عمر بارہ سال اور سات سال ہے۔

فرح سعدیہ: ہوں۔

کالر:تو وہ چاہ رہی ہیں کہ وہ خالہ زاد ہیں تو وہ شادی کر لے تو وہ ان کا خیال کرے گی۔ پوچھنا یہ تھا کہ اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں تو اس لیے میں نے کہا چلو، ان کے اوپر چونکہ وہ کچھ مسئلے ہو جاتے ہیں۔

فرح سعدیہ: آپ کھل کے بتائیے؟ آپ نے بتایا ایک خاتون ہیں۔

کالر: جی وہ۔

فرح سعدیہ: مطلب؟

کالر: وہ اپنے گھر کا کام نہیں کر سکتی تو وہ تھوڑے سے جیسے ذہنی مریض ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: مطلب تشخیص ہی ہے ان کو یہ بیماری کسی ذہنی —-

کالر: ہاں وہ تقریبا دس سال سے ہیں۔

فرح سعدیہ: اچھا ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھے ہم ذہنی مریض سے یہ سمجھتے ہیں۔

کالر: اب اس اپریل میں شادی کو سترہ سال ہو جائیں گے۔

فرح سعدیہ: شادی کو سترہ سال ہو جائیں گے، اچھا تو مرد یہ چاہ رہا ہے کہ وہ اپنی خالہ زاد سے شادی کر لے؟

کالر: نہیں نہیں! وہ یہ نہیں چاہ رہے۔ وہ ان کو قائل کر رہی ہیں وہی جو میری کزن ہے وہ ان کو شادی کے لیے قائل کر رہی ہیں— کیونکہ گھر کو توجہ نہیں مل رہی اور گھر ٹھیک نہیں چل رہا۔ بڑی مہان اور کمال خاتون ہیں تو آپ کو ان سے مسئلہ کیا ہے؟

کالر: تو وہ ادھر کزن کو ادھر اپنے شوہر کو قائل کر رہی ہیں تو وہ جیسے ایک رولہ سا بن جاتا ہے خاندان میں عجیب سے حالات—-

فرح سعدیہ: اچھا۔

کالر: سمجھ نہیں آ رہی عجیب سی گڑ بڑ ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا آپ ساتھ رہیں ہم بات کر رہے ہیں۔ جی ڈاکٹر صاحب!

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیے جو ذہنی مریض کہا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں وہ ایک الگ روایت ہے جو ایک غلط انداز میں بات کی جاتی ہے۔

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یعنی کسی کو بھی— جس سے آپ کو ناراضگی ہے یا آپ اسے پسند نہیں کرتے۔

فرح سعدیہ: آپ بڑے آرام سے خطاب دے دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: جس سے آپ کا اتفاق رائے نہیں ہے تو آپ کسی کو بھی ذہنی مریض کہ دیتے ہیں۔ دیکھیے کیا وہ شیزوفیرنیا ہے؟ بائی پولر ہیں؟ یا یو۔سی۔ڈی ہے یا کیا ہے یہ ہونا چاہیئے؟

فرح سعدیہ: تشخیص ہونی چاہیئے۔

ڈاکٹر صداقت علی: بات سمجھ میں اس طرح نہیں آتی کہ کوئی بیوی اپنے خاوند سے کہے کہ آپ دوسری شادی کر لیں۔

فرح سعدیہ: جب کہ بچے ہیں سب کچھ ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: جی فطرت کے تقاضوں کے، انسان کے فطرت کے تقاضوں کے یا خاتون کی فطرت کے خلاف ہے۔

فرح سعدیہ: سہی۔ لیکن وہ اگر خود کہہ رہی ہے کہ آ بیل مجھے مار تو؟ سہی’تو پھر ان کو کیا کرنا چاہیئے تو میرا خیال ہے کہ وہ تھوڑا سا ڈرامہ کرنا شروع کر دیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں نہیں! ان کو چاہیئے کہ وہ اپنی بہتری کی طرف جائے۔

فرح سعدیہ: وہ تو ذہنی مریض ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: لیکن وہ جو ہمارے اپنے، وہ ذہنی مریض رسمن کہہ رہے ہیں دراصل حقیقت میں ہمارے اپنے ان دیکھے دائرے ہوتے ہیں ان دیکھے دائروں سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمارے اپنے جو اہم مسائل ہوتے ہیں یا جو ہماری بہت اہم الجھنیں ہوتی ہیں کئی دفعہ ہم اسے صرفِ نظر کرتے ہیں۔ یعنی ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر جو چیز ہمارے بہت قریب ہوتی ہے۔

فرح سعدیہ: ہم اہمیت نہیں دیتے۔
ڈاکٹر صداقت علی: اپنی چیز کو دیکھتے دیکھتے اپنے پاس لائے آپ کو اپنی چیز نظر آنی بند ہو جائے گی۔ تو ایک خاص طریقے سے آپ چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں آپ اگر غور کریں تو آپ اپنے مسائل کو بھی جان سکتے ہیں کونکہ ہم اپنی آنکھوں سے ویسے بھی غلط طرف دیکھتے ہیں۔
فرح سعدیہ: کہنے کا مطلب ہے کہ ابھی جو میں کہہ رہی ہوں اگر آزمانے کے طور پر ایک لمحے کے لیے یہ سوچیں کہ وہ جو کہہ رہی تھی ہو گیا ہے اور وہ صاحب کسی اور خاتون کی طرف دلچسپی لے رہے ہیں تو پھر دیکھیں حالات کیا آتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: قدرتی عمل تو اسی وقت آئے گا جب آپ اچھے بھلے اپنے گھر کو خود ایک بنیاد رکھ دیں گے اور بعض خواتین کو مہان بننے کا شوق ہوتا ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا (مسکراتے ہوئے) وہ اس طرح کی باتیں اور اکثر خواتین اپنے خاوند کو ایسی دعوت دیتی رہتی ہیں آپ بیشک دوسری شادی کر لیں اب اس دعوت میں وہی ایک رسمی دعوت ہوتی ہے۔ صداقت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر صداقت علی: اب اس دعوت میں یہ ہے کہ اچھا کھانا۔ آپ کھانا تو نہیں کھائیں گے؟

فرح سعدیہ: ہاہاہاہا۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہاں تو اس طرح کی دعوت————پیدا کر سکتی ہے لہذا کسی بیوی کو مذاق میں بھی اپنے خاوند کو یہ بات نہیں کہنا چاہیئے کہ وہ دوسری شادی کر لے پھر مجھے نہیں پرواہ آپ ایک اور شادی کر لیں۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: تو پھلے جب یہ باتیں مذاق مذاق میں ہونے لگتی ہیں تو ہو سکتا ہے خاوند اس مذاق کو نا سمجھ پائے اور اس مذاق کی طرف چل پڑے اور بعد میں خاتون کو مشکلات ہوں۔

فرح سعدیہ: بالکل سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: تو اس طرح کی چھیڑچھاڑ باتوں اور مذاق میں بھی نہیں کرنی چاہیئے۔

فرح سعدیہ: بالکل سہی۔ چلیں پھر پیچھے جو ہم اس کے ہم پر اثرات کی بات کر رہے تھے، آپ جو چیزیں دکھا رہی ہیں اس کا آپ کو اثر لگ رہا ہے؟ کہ ذہنی طور پر خواتین پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیئے سب سے پہلے بات ہے کہ جب تناسب خراب ہو جاتا ہے جب جوڑ جو ہے وہ ٹھیک سے نہیں ملتے یہاں تک کہ جو مارکیٹ ہوتی ہے جو مارکیٹ کی جگہ ہوتی ہے جس میں اجناس ہوتی ہیں۔ تو ان کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا سب سے زیادہ کس چیز پر اثر پڑتا ہے۔

فرح سعدیہ: میسر ہونے پہ، ضرورت ہونے پہ یا بیچنے پر۔

ڈاکٹر صداقت علی: کون سی چیز زیادہ یا کم؟

فرح سعدیہ: ضرورت اور بیچنا۔

ڈاکٹر صداقت علی: ضرورت اور بیچنے پہ۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: اس کو آپ کتنا بھی بدلنا چاہیں اپ اس پہ کتنے بھی قوانین—– نہیں اس پر کیا اثر پڑرہا ہے چلیں وہ مان لیا کہ وہ بڑی آخیر ہو گئی ہے بڑی مشکلات ہو گئی ہیں، اس کا اثر؟

ڈاکٹر صداقت علی: اس کا اثر وہی ہو گا جو اجناس کا ہوتا ہے کہ بعض اوقات چیزوں کی قیمتیں گر رہی ہوتی ہیں تو تو بعض اوقات انھیں پھینک دیا جاتا ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا انھیں ایتھوپیا نظر نہیں آتا؟

ڈاکٹر صداقت علی: وہ اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ اسے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے کونکہ اسکی وجہ سے گندم کی جو قیمت ہے اتنا گر جاتی ہے۔

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اسی طرح انسان بھی بعض اوقات اپنے آپ کو کسی دلدل میں پھینک دیتا ہے۔

فرح سعدیہ: اچھا اب پھر خواتین اس مقام پر کیا کریں مطلب یہ کہ۔

ڈاکٹر صداقت علی: خواتین کو شروع سے ہی اپنے لیے تیاری کرنی چاہیئ۔- دیکھیئے روز گار کے لیے ہم اٹھارہ سال پڑھتے ہیں اور یہ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے کہ روزگار کے لیے ہم سولہ سترہ یا اٹھارہ سال پڑھتے ہیں۔ تو یہ جو ازدواجی زندگی ہے، یہ بھی تو ہماری زنگی کا بہت اہم پہلو ہے۔

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور اتنا ہی اہم پہلو ہے جتنا کہ روزگار یا اس سے بھی زیا دہ ہے بتائیے کہ اس کے لئے کتنا جانتے ہیں ہم کتنا ہنر سیکھتے ہیں کہ اپنے آپ کو ازدواجی زندگی کے لئے تیار کریں۔ کچھ اس طرح کہ ہماری عزت میں کمی نا آئے۔

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور ہم خوش وخرم زندگی گزار سکیں۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: فطری طور پر اگر کوئی سوچتا ہے کہ شادی جو ہے اس کے لئے زندگی کا مزیدار آغاز ہو گا تو —–

فرح سعدیہ: ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: شاید اس حد تک درست ہو گا کہ مزیدار آغاز ہو مگر آگے چل کے شادی میں بہت جھمیلے پڑ جاتے ہیں تو ان کے لیے—۔
فرح سعدیہ: ذمہ داریاں ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: بہت سے مسائل پڑ جاتے تو۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: اگر آپ نے ان کے لیے تیاری نہیں کی۔

فرح سعدیہ: سہی۔

ڈاکٹر صداقت علی: تو آپ کو اس کے لیے گلہ شکوہ نہں کرنا چاہیئے۔

فرح سعدیہ: ہم اسی کو آگے لے کے چلیں گے پروگرام کے اگلے حصے میں بات چیت کریں گے کہ کیا ایک خاتون کو ایک اچھی بیوی بننے میں جو تیاریاں اور جن باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے وہ کون سی ہیں؟
ایج سکالر کے طور پر ہم چاہیں گے کہ آپ مشورہ دیں کہ وہ کون سی اہم بھول ہے جو خواتین کرتی ہیں جس کے نتیجے میں ازدواجی تعلق خراب ہوتے ہیں بعض اوقات زندگی مشکل اور اجیرن بن جاتی ہے؟
تو خوش رہتے ہوئے اور دوسروں کو خوش رہنے کے طریقے سکھانے کے لیے آپ نے ہم سے جمعرات کو رابطہ کرنا ہے—–
ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ! آپ سے اجازت لینے کا وقت ہے۔ میری ہمیشہ کی طرح آپ سب لوگوں کے لیے دعا ہے یہی آپ کی ہر صبح خوشگوار ہو اور ہر خوشگوار صبح کا انجام صبح و بخیر۔ انشا الله کل پھر ملیں گے اس وقت کے لیے۔ الله حافظ—-