ڈاکٹر صداقت علی: میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کے لئے آپ بھی زیادہ شہید وفا نہ بنیں۔ لیکن ایک بات کا خیال رکھیں کہ ان کی توہین نہ کریں۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: اور ان کے اوپر بےجانکتہ چینی نہ کریں۔

فرح سعدیہ: ہر وقت نہ کرتے رہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: جی

فرح سعدیہ: اچھا اب 27 سال کا ہے اب کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: میں اس میں ایک بریکنگ نیوز کے حوالے سے کہتا ہوں کہ یہ ایک بریکنگ نیوز ہے تو لفظ نیوز کو یاد رکھیں نمبر ایک: چیز کے پیچھے نہ پڑے رہیں۔ پیچھے پیچھے ہر وقت پیچھے۔ ذرا ان کو چھوڑ بھی دیا کریں۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: اس کا مطلب وہ اموشنل ٹاکسک ہو جاتا ہے۔ جذباتی طور پر غیر موزوں۔ یعنی والدین میں بعض اوقات انا بہت ہوتی ہے۔ والدین اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ ہمیں تم سے کوئی امید نہیں ہمیں تم سے کچھ نہیں چاہیئے۔ تم اپنے جوگے ہو جاؤ تو بڑی بات ہے۔ تم اپنے لائق ہو جاؤ تو بڑی بات ہے۔ تو اس طرح کی جو خود پسندانہ ہو جاتے ہیں اس سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: اور جو بھڑ کی طرح ڈنگ مارنا۔ والدین کے لئے ایسے کہنا مجھے برا لگ رہا ہے۔ لیکن بعض اوقات والدین اتنے کڑوے ہو جاتے ہیں۔ بڑھاپے میں وہ اپنے بچوں کے لئے زہریلے ہو جاتے ہیں۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: جیسے بھڑ کی طرح انہیں ڈنگ لگتا ہے۔ تو اس سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: اور چوتھی چیز جو سب سے بڑی ہے وہ خاموش ہو جانا ہے۔ خاموش یعنی پھر چپ کر جانا بچوں سے جیسے روٹھ جانا اور باڈی لینگویج سے اور خاموشی سے ان کو پیغام دیتے رہنا۔

فرح سعدیہ: کہ ہم ان سے خوش نہیں ہیں بڑے غصے میں ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ چاروں چیزوں پر عمل کرنا شروع کر دیں۔ بچہ ٹھیک ہو جائے گا نیوز کو یاد رکھیں۔

فرح سعدیہ: بھلے اس کی عمر کچھ بھی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments