جب آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ حدود کا تعین کرتے ہیں تو بہت سے لوگ آپ کو حدود کا تعین کرنے سے منع کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ پرانے زمانے سے جو ہمارے ہاں کلچرچلا آر ہا ہے وہ اس چیز کو تقویت دے رہا ہوتا ہے کہ اگر آپ برداشت کریں گے تو آپ بہت nice ہونگے۔ اگر آپ ظلم سہیں گے شہید وفا بنیں گے ۔ اگر آپout of the wayجا کراپنے آپ کو چھوڑ کر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو آپ نیک انسان ہونگے۔آپ اعلیٰ درجے کے انسان ہونگے جب آپ کو اس طرح کی تعلیم دی جائے گی تو پھر مشکل ہو جائے گا کہ آپ کا صحیح کام کرنا، اور صحیح کام کو زیادہ لوگ غلط کہیں گے کیونکہ تاریخی طور پر انسانوں کو سرواؤ کرنے کے لئے کچھ رویوں کی ضرورت تھی اور آج ان رویوں کی ضرورت نہیں ہے پرانے زمانے میں اتنے سسٹمز نہیں تھے حکومتیں نہیں تھیں، ڈیپارٹمنٹس نہیں تھے، دنیا میں کوئی نظام نہیں تھا، کوئی اقوام متحدہ نہیں تھی، کوئی باقاعدہ جمہوری حکومتیں نہیں تھیں کوئی پولیس نہیں تھی ظلم سے بچانے کے لئے اور کوئی انتظام نہیں تھا سرکاری طور پر لوگوں کی مدد کرنے کیلئے یا تعلیم فراہم کرنے کے لئے یا انصاف فراہم کرنے کے لئے۔ تو دنیا جب تہی دامن تھی، جب دنیا میں کچھ بھی بہترین نہیں تھا تو انسانوں کے زندہ رہنے لئے ضروری تھا کہ وہ دوسرے انسانوں کو مارجن دیں، گریس مارکس دیں اور انسانوں کو ایک موقع اور دیں۔ لیکن آج دنیا میں ایک باقاعدہ نظام آ چکا ہے۔ دنیا ایک بڑے اچھے انداز میں تبدیل ہو چکی ہے اس میں باقاعدہ نظام آ چکا ہے۔ اس لئے اس دنیا میں اب اس قسم کے رویوں کو جاری رکھنا مناسب نہیں ہے جنہیں ہم اچھا برتاؤ کہتے ہیں۔ جس میں ہم اپنے آپ کے بارے میں اچھا محسوس کرنے کے لئے دوسروں کے ساتھ ایسے رویے رکھتے ہیں جو بظاہر اچھے ہوتے ہیں لیکن ان کو تباہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ بہت سے ملک، دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی یہی کرتے ہیں جو کہ ملکوں کو تباہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پاکستان کو شروع سے ہی دوسرے ملک قرضہ دیتے ہیں اور وہ قرضہ جب مل جاتا ہے تو موجیں ہو جاتی ہیں۔ پھر بندہ سنجیدگی سے اپنے حالات کے بارے میں نہیں دیکھتا اور قرضہ پہ قرضہ ملتا ہی رہتا ہے اور ابھی بھی جتنے قرضے چاہیں آپ لے سکتے ہیں دنیا کے ممالک سے۔ کچھ ممالک کو اچھا بننے کی بیماری ہوتی ہے وہ اچھا محسوس کرنے کے لئے دوسروں لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔ ہم سب بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ خود اچھا محسوس کرنے کے لئے ہم پہلے کچھ رقم الگ کرتے ہیں کہ یہ ہم نے کسی مستحق کو دینی ہے پھر کسی کے اوپر ٹھپہ لگا کر اسے یہ رقم دے دیتے ہیں اور بغیر محنت کے اس بندے کو انعام ملتا ہے۔ ایک دو دفعہ یا چند بار تو اس کو عادت پڑ جاتی ہے کہ بغیر کچھ کئے انعام کیسے حاصل کیا جاتا ہے وہ اچھی طرح سیکھ لیتا کیونکہ جن رویوں کو ہم انعام دیتے ہیں وہ بڑھ جاتے ہیں۔ اب دیکھیں آج کل کتنا رواج ہے ٹی وی پروگراموں میں لوگوں کو بلاتے ہیں اور کسی کو موٹر سائیکل دے، کسی کو کچھ دے، کسی کو کچھ دے، جس سے ان کی بڑی اچھائی ہوتی ہے لیکن لوگوں کے ذہن میں یہ پروگرامنگ ہو رہی ہے کہ یہ چیزیں حاصل کرنے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں۔ بس جا کر کسی مناسب بندہ سے رابطہ کریں۔ ایسا انعام جو بغیر کسی محنت کے کسی کو ملتا ہے یہ اس کے لئے کوئی کارآمد نہیں ہوتا۔ انعامات کو حاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔