ٖٖفرح سعدیہ: جناب اب میں آپ کی ملاقات کروانے جا رہی ہوں اپنے آج کے مہما نوں سے جو ہمیں بتائیں گے کہ پاکستان ایک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ اس پہ ان کی ماہرانہ رائے کیا ہے اس حوالے سے یہ ہمیں مشورہ دیں گے اور ہماری راہنمائی کریں گے۔ میرے ساتھ جو مہمان ہیں ان میں سب سے پہلے ڈاکٹر صداقت جنہیں ہم لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں ماہر نفسیات ہیں اور بڑے اچھے معالج ہیں مختلف جگہوں پر ہماری راہنمائی کرتے رہتے ہیں ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ۔ ان کے ساتھ ہیں ڈاکٹر سجاد صاحب جوعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک سٹیڈیز کے چیئرمین ہیں۔ بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ کی تشریف آوری کا اس کے علاوہ میرے ساتھ ہیں ارشد صاحب جو کہ بچوں کے حقوق پہ کام کرتے ہیں۔ بہت شکریہ ارشد صاحب آپ بھی تشریف لائے اور مسز نعیم یاسمین صاحبہ بھی موجود ہیں۔ بات آپ سے شروع کرنا چاہوں گی ارشد صاحب ہم نے ہمیشہ یہ تکرار سنی ہے کہ بچوں کے حقوق ہیں انہیں جینے کا حق ہے انہیں پڑھنے کا حق ہے کیا ہماری حکومت یا این۔جی۔اوز لوگوں کو یہ بات بتانے میں ناکام ہیں جو اتنے بڑے حادثات ہو رہے ہیں بندوق لے کے بچوں کو اس طرح مار دیا جاتا ہے؟

محمدارشد: سب سے پہلے تو میں بحیثیت انسان، والد اور انسانی حقوق کے ایک کارکن کے، یہ جو پشاور کا سانحہ ہوا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں اور آپ نے جو سوال پوچھا ہے یہ تو ہم سب کو پتہ ہے کہ ایسی تربیت تو نہ اسلام میں ہے نہ کسی قانون میں ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے اور پاکستان کی ریاست کیلئے ایک جگا دینے کی کال ہے میں یہ کہوں گا کہ ریاست کو جاگنا چاہیئے۔

فرح سعدیہ : ڈاکٹر صاحب بہت دکھ اور صدمہ ہے غصہ تو ہے ہی لیکن بے بسی کی کیفیت اس سے بھی زیادہ ہے، کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: جیسا کہ آپ نے پہلے بھی کہا کہ جب بھی بے بسی ہو تو آپ دعا کریں ساری قوم دعا کر رہی ہے کیوں کہ بے بسی کی بے انتہا کیفیت ہے جب وقت گزرے گا تو یہ ایک پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈِس آڈر ہوتا ہے کیونکہ پوری قوم کو ایک تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہوتا ہے جب 9-11 کا واقعہ ہوا تھا تو امریکی قوم کئی سال تک اس کے خراب اثرات سے نہیں نکل سکی ہم پر تو مسلسل دس گیارہ سال سے ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔ سب سے المناک واقعہ کل ہوا ہے۔

فرح سعدیہ: کیا یہ اتفاق ہے کہ انہیں 16 تاریخ پسند آئی اور انہوں نے اتفاقاً 16 کو ہی جا کر ہمارے دل پر ایک اور وار کیا اور کیا یہ ایک پیغام ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: میرے خیال سے یہ اتفاق ہے کیوں کہ ان کا تو صبح، دوپہر اور شام یہی کام اوڑھنا، بچھونا ہے کہ جیسے ان کے دماغوں پر تباہی چھائی ہوئی ہے وہ اس کو چاروں طرف پھیلانا چاہتے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے انکی جو کوششیں کامیاب بھی ہوئیں تو پھر مشکل ہدف پر آ گئے ہیں اور حکومت اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کر سکی کیونکہ جب بھی آپ مشکل ٹارگٹ بنا دیتے ہیں تو پھر وہ آسان ٹارگٹ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تو کرتے کرتے نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔

فرح سعدیہ: تو اب کیا کریں ڈاکٹر صاحب بچے رو رہے ہیں ہم کتنے عرصے تک اس کیفیت میں رہیں گے میرے بچے مجھ سے بات کرتے ہیں تو میں سمجھ نہیں پاتی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں میں ہاں ہوں کرتی رہتی ہوں۔ وقت لگ رہا ہے ان کو سمجھنے میں، چیزوں کو سمجھنے کا جو نظام ہے تباہ ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں انسانوں کے ساتھ تباہ کاریاں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہیں انسانی آبادی تباہ کاریوں کا سامنا کرتی رہی ہے اور پھر کامیابی سے آگے بڑھتی آئی ہے وقت جو ہے وہ مندمل کرتا ہے اور پھر ہماری سوچیں مندمل کرنے میں مدد دیتی ہیں اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ تعزیت کرنے کا اور خاص طور پر جو چینلز کے ذریعے تعزیت ہو رہی ہوتی ہے لوگ کال کرتے ہیں سننے والے اسے محسوس کرتے ہیں ہر ایک کی آنکھوں میں آنسو ہیں تو اسی سے غم ٹوٹتا ہے۔ لوگوں کو حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتائیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کس طرح یہ سوچیں پروان چڑھتی ہیں اور ہم اپنی سوچوں کو تعمیری کیسے رکھ سکتے ہیں، انہیں سائنسی کیسے رکھا جا سکتا ہے اور آپ کن چیزوں کی طرف رجوع کریں کہ جو آپ کی زندگی میں نشوونما کرتی ہیں اور کن چیزوں کی طرف رجوع نہ کریں جو آپ کی زندگی کو تباہی سے دوچار کریں۔

فرح سعدیہ: آپ نے نوٹ کیا ہے کہ ہمیں ان ممالک کی طرف سے کوئی تعزتی پیغام نہیں ملا صرف ترکی نے ہمارے ساتھ ایک دن سوگ منانے کا اعلان کیا ہے لیکن وہ تمام ممالک جو پرچار کرتے ہیں جن کے مدرسے یہاں پر قائم ہیں ایسے مدرسے جہاں پر تشدد پسندی کو فروغ ملتا ہے۔ یہ سعودی عرب اور ایران پر جنگ ہمارے ہاں لڑی جاتی ہے یہ شعیہ، سنی فساد جس میں اتنے لوگ مرتے ہیں، یہ انہی ممالک کی اقتدار اور طاقت کی جنگ ہے جو کہ آج تک لڑی جا رہی ہے اور پاگلوں کی طرح اس میں یہ اچھا مسلمان یہ برا مسلمان میں ٹھیک، وہ غلط میں حق وہ باطل کا شکار ہوئے ہم نے اپنے گھر جلائے بچوں کے خون بہائے اور ہم نے تمام وہ ظلم کیے اور اس طرح پھر ظلم ہی ہوتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ جس طرح ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں معاف کرے ہماری آنکھیں کھل جائیں ہم حقائق کو دیکھ سکیں اور اس کے مطابق کام بھی کر سکیں۔

فرح سعدیہ: مسز نعیم میں آپ سے پوچھنا چاہوں گی کہ میں تو دعا کا ذکر کر رہی ہوں آپ ہمیں بتائیں کہ کیا کریں کہ ہمارے دلوں کو سکون ملے؟

مسز نعیم یاسمین: جی اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب ہی بڑے غم میں ہیں جتنا بھی اس سانحے کو بڑا کہا جائے کم ہے لیکن بات اگر اس سے آگے نکل کر کی جائے تو میں کہوں گی کہ بحیثیت انسان جسے رب نے افضل ترین قرار دیا ہے یہ سوال بنتا ہے کہ رب کدھر ہے؟ اس کا جواب میں ایسا دینا چاہتی ہوں کہ کیا ہم سب رب کی رحمت، کرم نوازی کا جو خاصہ ہے ہم اس کو پورا کرتے ہیں؟ کہ ہمیں اسکی رحمت پہنچتی ہے، مدد ملتی ہے کیا ہم ان رحمتوں کے اہل ہیں۔۔۔ جب کہ ہم رب سے رجوع میں بھی نہیں ہیں؟

فرح سعدیہ: رب سے رجوع کرنا کیا ہے؟

مسز نعیم یاسمین: رب سے رجوع یہ ہے کہ اپنے آپ کو ٹٹولا جائے کہ کیا ہم رب کی پسند میں آ رہے ہیں ؟ کیا ہم اسکی پسند میں موجود ہیں؟

فرح سعدیہ: دیکھیں جن لوگوں نے آ کر مارا ہے ان کے چہرے پر سنت رسول ﷺ تھی، عربی میں بول بھی رہے تھے اور انہوں نے گولیاں بھی چلائی؟

مسز نعیم یاسمین: وہ لوگ رب سے بڑے نہیں ہیں لیکن ہمیںیہ بات ماننی پڑے گی کہ رب سے ہماری دوری ہے، ہم تک رب کی رحمت نہیں پہنچ رہی اور اس کو ختم ایسے کر سکتے ہیں کہ اپنے آپ سے بات کی جائے۔ ٹٹولا جائے اپنا جائزہ لیا جائے۔

فرح سعدیہ: جائزہ کس طرح سے لیا جائے؟

مسز نعیم یاسمین: جائزہ اس طرح سے لیا جائے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے اس قدر دور کیوں ہے؟

محمد ارشد: دیکھیں ہم باہر کی اور دشمنوں کی باتیں کر رہے ہیں، جو کچھ ہو رہا ہے اسی ملک میں ہو رہا ہے اور جو کچھ کرنا ہے وہ بھی ہم نے اسی ملک میں ہی کرنا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں یہ ایک نئی سوچ پیدا ہو گئی ہے کہ شاید ہم میں کوئی خرابی ہے! شاید ہم بہت برے ہیں! بہت گنہگار ہیں! ہم نے پچاس، ساٹھ کی دہائی بھی دیکھی ہے جب بہت کم لوگ داڑھی رکھتے تھے، نماز بہت کم لوگ پڑھتے تھے اب مسجدیں بھری ہیں لوگ حج کرتے ہیں عمرہ کرتے ہیں یہ جو اپنی مذمت ہے کہ ہم میں پتہ نہیں کیا ہے یہ ایک نئی سوچ پیدا ہو گئی ہے کہ وہ ہمیں نیک بنانے پر اس طرح تلے ہیں کہ ان بچوں کو مارنے کا ذریعہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

مسز نعیم یاسمین: یہ جو اس طرح ہے تو رب کی رحمت کیسے آئے جس معاشرے میں شارٹ کٹس ہیں جہاں بددیانتی لازمی ہے، جہاں حق حلال میں کسی کی روزی پوری نہیں ہو سکتی؟

ڈاکٹر صداقت علی: تو اس کا مطلب ہے کہ بچوں کو مارا جائے؟

مسز نعیم یاسمین: نہیں مارا نہ جائے مگر یہ سب اسی وجہ سے ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ تقریبا اسی سوچ کا معتدل ورژن ہے کہ اگر ہم نیک لوگ نہیں تو ہمیں مار دیا جائے۔

فرح سعدیہ: دیکھیں ہمیںیہ حق ہی حاصل نہیں کہ ہم فیصلہ کریں کہ کس انسان کو جینے کا حق ہے اور کس کو نہیں! ہر انسان کو جینے کا حق ہے چاہے وہ عیسائی ہے مسلمان ہے، شعیہ ہے، سنی ہے اچھا ہے نہیں ہے جو بھی ہے اس کو جینے کا حق ہے ہمیں یہ اختیار کس نے دیا کہ ہم ان سے یہ حق چھین لیں؟

ڈاکٹر محمد سجاد: اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں بات کروں گا اسلامی شریعت کے بنیادی مقاصد کی، جس میں پہلا حکم تحفظ جان ہے یعنی یہ بچے جو تعلیم کے لئے جا رہے تھے جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے بچے تعلیم کے لئے جاتے ہیں تو فرشتے ان کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں یہ تو علوم نبوت کے وارث تھے خوشخبریاں ہیں نبی کی طرف سے ان کے لئے، اتنے پر امن اتنے معصوم ان کا کیا قصور ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ تو زخموں پہ نمک چھڑکنے والی بات ہے کہ 2005 میں زلزلہ آتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگوں کے گناہوں کا نتیجہ ہے۔

مسز نعیم یاسمین: ڈاکٹر صاحب کیا کریں ہم اس غم کو بھولنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن میرا خیال ہے ہمیں اسے یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ اس کو یاد رکھتے ہوئے کیسے ایک مثبت حکمت عملی نکال سکیں یا کوئی طریقہ کار وضع کریں۔

ڈاکٹر صداقت علی: جو زمانے کا دستور ہوتا ہے، اثرحاضر جو دستور ہوتا ہے وہ اپنانا پڑتا ہے۔ اثرحاضر کا دستور آتا ہے یونائیٹڈ نیشن سے جو اقوام متحدہ ہے وہ دنیا میں رسم و رواج کو فروغ دیتی ہے تعلیم، صحت اور روایتوں کو فروغ دیتی ہے لیکن ہمارے ملک میں تو یہ حالات ہیں کہ ہم تو پولیو کے قطرے پلانے پہ بھی راضی نہیں ہوتے۔ دیکھیں دنیا میں سیکڑوں کی تعداد میں ممالک ہیں، اُن میں سے کتنے ہیں جن کے حالات ہم سے ملتے جلتے ہیں۔

فرح سعدیہ: تو یہی نظریے کے لوگ ہیں جو پولیو کے قطرے پلانے والوں کو گولی مار دیتے ہیں کیا یہ کچھ ویسی ہی سوچ کا انداز چل رہا ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: یہ وہی سوچ کا اندازچل رہا ہے جسے ہم نے پسماندہ رکھا ہوا ہے گویا ہمارا قصور یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے کچھ علاقوں کو علاقہ غیر کہا گیا اور ان کے ساتھ غیروں جیسا سلوک کیا گیا وہاں سکول نہیں بنے، تعلیم اور روشنی نہیں آئی ان کو اپنی روایتوں کے اندر گم رہنے دیا گیا اور جب ان کے ہاتھ کہیں سے طاقت لگی ان کے ہاتھ اسلحہ آیا تو انہوں نے اس کا ا ندھا دھند استعمال شروع کر دیا ۔دنیا میں ترقی کیسے ہوتی ہے آپ مغرب کو دیکھ لیں یا مڈ ل ایسٹ دیکھ لیں۔ ویسے ہی ہم بھی ترقی کر سکتے ہیں ویسے ہی ہم امن کی طرف جا سکتے ہیں دنیا میں ایسے ممالک ہیں جہاں فوجیں ہی نہیں ہیں جاپان کو دیکھ لیں دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے اپنا طرز عمل بدل کے اپنے آپ کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

فرح سعدیہ: لیکن وہاں پر احتساب تو ہے نا! ہماری افواج کو ان کے اندر جا کر مارنا پڑا کیونکہ اگر وہ ان کو گرفتار کرتی تو کوئی سزا نہیں ہے۔ ان کو بس جیل میں ڈال دیا جاتا کیونکہ پھانسی تو دے نہیں سکتے!

ڈاکٹر صداقت علی: ہم چوک میں سرخ بتی کاٹنے والے کو بھی نہیں پکڑتے سڑک بلاک کرنے والے کو بھی نہیں پکڑتے ہم تمام غیر قانونی حرکتیں کرنے والوں کو کرنے دیتے ہیں۔ جب حکومت چھوٹے معاملات میں اپنا آپ نہیں دکھاتی تو پھر اتنے بڑے معاملات میں کیسے کچھ کر سکے گی لہذا چھوٹے سے شروع ہوں، چھوٹے چھوٹے قوانین پہ عمل پیرا ہوں توتب جا کہ بات بنے گی۔ ادھر دبئی میں دیکھیے کوئی سرخ بتی کاٹ کہ گھر نہیں جا سکتا، تو قانون پر عمل ہونا لازمی ہے۔

فرح سعدیہ: اس عدم تحفظات کے خوف میں آدمی کیسے اپنا کردار ادا کرے؟

ڈاکٹر صداقت علی: ایک تو یہ کہ اگر آپ کو آنے والے دنوں کے بارے میں سوچتے ہوئے وسوسے آتے ہیں یا ڈر لگتا ہے تو فریم کو چھوٹا کر لیں ہم اسے ایک دن یا ایک گھنٹے تک محدود کر سکتے ہیں عملی طور پر کچھ کرتے رہیں اور کچھ نہیں تو اٹھ کے چلتے پھرتے رہیں قدرتی جب ہم اٹھ کہ چلتے ہیں تو بے چینی کم ہوتی ہے روزمرہ کے کام کریں۔ ایک دوسرے کے اوپر اپنا غصہ نہ نکالیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا انداز اپنائیں یعنی زندگی کو نارمل بنانے کی کوشش کریں۔

ڈاکٹر محمد سجاد: ہمارا ملک جو کہ اس وقت فتنہ اور فساد میں مبتلا ہے قران کریم میں ہے کہ جو دنیا میں فتنہ اور فساد پھیلائیں انہیں سولی پر چڑھایا جائے قتل کیا جائے اس وقت ملک کے اندر جو فتنہ گر ہیں ان پر تحقیق کریں اور ان کو سامنے لایا جائے۔

محمد ارشد: پہلے بھی واقعات ہوئے اصل میں ہم بھول جاتے ہیں اگر اس واقعہ نے ہمیں نہ ہلایا تو پھر اس قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہمیں دیکھنا ہو گا ہمیں یہ سب کیسے ٹھیک کرنا ہے۔ ڈاکٹر صداقت علی صاحب نے فاٹا کی طرف بہت اچھا اشارہ کیا، ہم نے ان کو سائیڈ پہ کیا ہوا ہے اور اپنے سارے گناہ بھی ان پر ہی ڈال دیتے ہیں۔ ان کو تعلیم دیں تاکہ وہ اپنے نظام کو ٹھیک کریں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہمیں کچھ نہ کچھ لائحہ عمل بنانا ہو گا اس کیلئے میری تجویز یہ ہے کہ سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس لے اور ہماری راہنمائی کرے جب وقت کے قاضی خاموش رہتے ہیں تو خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

ہمارے ملک میں کسی بھی دہشت گرد کو حتمی انجام تک نہیں پہنچایا جاتا۔ نیا واقعہ ہوتا ہے تو پرانے واقعات پس منظر میں چلے جاتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں باقاعدہ ادارے کام نہیں کر رہے انصاف بہت دیر سے ملتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے معاملات ہیں جن کو اگر ہم ٹھیک کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔ اگر ہم ان کو درست کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ہمارے پاس مثالیں موجود ہیں۔ اگر ایمانداری کی مثال دیکھنا چاہتے ہیں تو ناروے میں دیکھیں اگر بے ایمانی سیکھنا چاہتے ہیں تو افریقہ کے ایسے ممالک بھی ہیں اگر ہم اسلام کا علم اٹھاتے ہیں تو ہم دنیا میں کرپٹ کیوں مشہور ہیں؟ کیا ہم خود اپنے آپ کو بھی کرپٹ تسلیم کرتے ہیں؟ جہالت کے ساتھ ساتھ غربت بھی اس کی بنیادی وجہ ہے۔