ڈاکٹر صداقت علی: میں ہمیشہ اس بات کو اہم سمجھتا ہوں کہ ٹیم کیلئے کوئی کاؤنسلر ہونا چاہیئے جو سٹریس مینجمٹ سکھائے۔ جو لوگ اتنی بڑی سطح پر کسی ملک کی نمائندگی کرتے ہیں یہ لوگ تھوڑے سے سائیکو تھیمک ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے مزاج میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ جیسے کہ دیکھیں پاکستانی ٹیم نے بلاوجہ پریس کانفرس کی جبکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مصباح بھی بات کر رہے تھے جبکہ ان کی باڈی لینگویج اور موڈ کافی ڈِم تھا۔ عمر گل بھی غیر مناسب انداز میں بات کر رہے تھے۔ میڈیا کا سامنا کرنا ان کی مقصد نہیں تھا ان کو اپنے آرام، کھانے پینے، نیند اور زیادہ پانی پینے پر توجہ دینی چاہیئے تھی۔ کیونکہ جب بھی ہمیں سٹریس کا سامنا ہوتا ہے تو یہ چیزیں کارآمد ہو سکتی ہیں۔ کثرت سے پانی پینا، جتنا زیادہ کوئی پانی پیئے گا اُس کی ٹوکسن اسی وقت ختم ہو گی۔ اس کے علاوہ سونے کو کبھی قربان نہ کریں۔ جتنے لوگ نمایاں ہیں وہ ان چار چیزوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے اور نہ ہی کرنا چاہیئے۔ ان کو اپنی نیند جو کے قدرتی ہو اس کے بارے میں بہت پابند ہونا چاہیئے۔

فرح سعدیہ: اور اگر کسی کو عشق ہو جائے تو؟

ڈاکٹر صداقت علی: نہیں

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب آپ نے سنا نہیں ہے کہ موت کا ایک دن معین ہے۔ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟ جن کو نہ آئے وہ کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں یہ شعر جن کا ہے وہ بھی موڈ اور مزاج کے بارے میں اتار چڑھاؤ رکھتے تھے، اسی لئے انہوں نے اس طرح کے اشعار کہے۔ کہ بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے لہذا یہ اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ تو پہلی بات یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں کو نیند پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے، جبکہ یہ شوق شوق میں خاموشی سے نیند کو قربان کر دیتے ہیں اور بعد میں نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اچھا محسوس نہیں کرتے۔ ان کی کارکرگی بھی اچھی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ سارا دن کچھ نہ کھانا اور پھر رات کو ڈٹ کر کھانا یہ بھی بہت نقصان دہ ہے۔

فرح سعدیہ: یہ جو ساری باتیں ہم کر رہے ہیں یہ صرف کھلاڑیوں کیلئے نہیں ہیں بلکہ ہر انسان کیلئے ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: ہر انسان اتنا اہم کردار ادا نہیں کر رہا ہوتا۔ اہم کردار معاشرے میں صرف چار فیصد یا حد سے حد بیس فیصد ادا کرتے ہیں جبکہ اسی فیصد کو کوئی اہم کردار ادا نہیں کر رہے ہوتے۔

فرح سعدیہ: اپنی زندگی میں نہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: باکل بھی نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بالکل بے فکر ہیں جنہوں نے کچھ حاصل نہیں کرنا ہوتا۔ صرف چار فیصد لوگ جنہوں نے دنیا کی رونقیں بحال رکھی ہوئی ہیں یا دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

فرح سعدیہ: اچھا؟

ڈاکٹر صداقت علی: نیند اور خوراک کے بارے میں ہم نے بات کی۔ اب باری ہے تھکاوٹ کے احساس کی۔ جب اہم کردار ادا کرنے والے لوگ جسم میں تھکاوٹ کے احساس کر دیتے ہیں تو اُن کی زندگی میں مسائل کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے علاوہ پانی کو نظر انداز کرنا یعنی سوچا جائے کہ جب پیاس لگے گی تو پانی پیوں گا۔

فرح سعدیہ: اچھا اگر نیند نہ آئے تو زبردستی سویا جائے۔ بھوک نہ لگے تو زبردستی کھایا جائے؟

ڈاکٹر صداقت علی: زبردستی نہیں بلکہ آپ منصوبہ بندی کرتے ہیں جو چیز آپ اہم سمجھتے ہیں آپ اسے یقینی بناتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ کل پرسوں کسی ٹی وی چینل پر عمران خان کہہ رہے تھے کہ ایک دفعہ وہ اپنی ٹیم کو سلانے کی کوشش کر رہے تھے اور وہ سو نہیں رہے تھے تو انہوں نے انہیں خواب آور گولیاں کھلا دیں۔ میں یہ مشورہ بالکل نہیں دوں گا کیونکہ وہ نیند نہیں ہوتی بلکہ نشہ ہوتا ہے۔ جس سے پٹھے ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور نتیجتََہ کھلاڑی اچھا کھیل پیش نہیں کر سکتے۔ قدرتی طور پر یہ اچھے کھلاڑی ہوتے ہیں بس کچھ کارآمد کوششوں سے ان میں وہ صلاحیت دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے۔

فرح سعدیہ: چلیں اب ہم کھلاڑیوں کے موضوع سے باہر نکلتے ہیں اور ناظرین کی بات کرتے ہیں جن کو یہ بتایا گیا ہے کہ ستاروں کے عروج کی بنا پر پاکستانی فتح یقینی ہے۔ جب اس مائینڈسیٹ سے ناظرین میچ دیکھیں اور اچانک یہ حقیقت معلوم ہو کہ پاکستان ہار گیا ہے تو ایسے بے چارے لوگ کیا کریں؟

ڈاکٹر صداقت علی: وہ یہ کریں کہ تھورا سا روئیں، آنسو بہائیں، کھلاڑیوں کے خلاف بولیں، پی سی بی کے خلاف بیان دیں اور یہ سب کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ آپ اپنے دکھ کو اگر اندر رکھ لیتے ہیں تو یہ خطرناک بن جاتا ہے۔ اب آپ ایک لمحے کو سوچیں کہ کیا اس میچ کی اتنی اہمیت ہے کہ آپ کی زندگی کا پہیہ رک جائے؟ لہذا آپ کو اپنی پرسنل کئیر کرنی چاہیئے۔ اگر کھانا چھوڑ دیا ہو تو کھالیں، نہانا دھونا لیں، کپڑے بدلیں اور پھر جائزہ لیں کہ جو زندگی میں ادھورے کام تھے وہ کیا ہیں۔ پھر جسمانی کام کریں کیونکہ جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو ہمارا ذہن جسمانی کاموں کے اوپر زیادہ وِل پاور رکھتا ہے۔ اس وقت ہم ذہن کو یہ حکم دے سکتے ہیں کہ تم پریشان نہ ہو۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments