فرح سعدیہ: زبردست ڈاکٹر صاحب! لیکن اب کرکٹ بند اور تعلقات کے موضوع شروع کرتے ہیں، یہ بتائیں کہ جب ہنستے بستے میاں بیوی کے درمیان کوئی تیسرا آ جاتا ہے جو کہ عام طور پر ایک دوشیزہ ہوتی ہے جس کو یہ بندہ احساس دلاتا ہے کہ وہ بیوی ہے لیکن مجھے تم سے پیار ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ نے کہا تھا کہ یہ جو بیچ رشتوں کے آنے والے لوگ ہوتے ہیں یہ بڑے خاص ہوتے ہیں، ان میں کیا خاصیت ہوتی ہے؟

ڈاکٹر صداقت علی: دیکھیں عام طور پر ایسے لوگوں کا اخلاقی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے جو کسی ہنستے بستے جوڑے کی زندگی میں شامل ہوتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ کسی نہ کسی لحاظ سے وکٹم ہوتے ہیں اور وہ زندگی میں ایسے موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں وہ حالات کے رحم و کرم پر اس جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں اور اس کے بہت سارے عموامل ہیں جو ان کے قابو میں نہیں ہوتے۔

فرح سعدیہ: مثلاً ایسی کیا چیزیں ہوتی ہیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: مثلاً ان کی زندگی میں حالات ایسے ہو سکتے ہیں ۔

فرح سعدیہ: کیا انہیں لگتا ہے کہ کوئی انہیں پیار نہیں کرتا؟

ڈاکٹر صداقت علی: مثلاََ خواتین کے حوالے سے دیکھیں تو اگر اُن کے والد کی موجودگی یا پسنددیدگی اُن کیلئے نہ ہو تو کسی آئیڈیل مرد کی جانب آسانی سے راغب ہو جاتی ہیں، دوسری طرف جب متعلقہ مرد کا معاشرتی مقام دوسرے کے مقابلے میں نمایاں ہو تو اُن کے ساتھ اپنی خودی کو منسلک کرنا کافی آسان ہوتا ہے۔ جبکہ لڑکی یہ سمجھتی ہے کہ یہ بہت معصومانہ رشتہ ہے اور دوسری طرف مرد کا کردار عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہ اس معصومانہ رشتے کو ’’مرد اور عورت‘‘ کے رشتے میں بدل دیتا ہوں۔ اپنی زندگی کی کسی محرومی یا محرومیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ ایسا کرتا ہے۔

فرح سعدیہ: صحیح!

ڈاکٹر صداقت علی: اس کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں ہیں جیسے کوئی جذباتی طور پر پریشان ہو، اسے سہارے کی ضرورت ہو یا وہ زندگی میں بہت نا امید ہو۔

فرح سعدیہ: یہ بہت سارے فیکٹس ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: دراصل ہم بات ایک ایسی خاتون کے بارے میں کر رہے، جن کا ہم اخلاقی جائزہ لے رہے ہیں کہ اس وقت وہ اپنے تعلقات میں کس مقام پر کھڑی ہیں اور وہ اسے کس طرح دیکھی اور سمجھتی ہیں اور ان کی کامیابی جو وہ سمجھتی ہیں اُس کے امکانات کتنے ہیں؟

فرح سعدیہ: ہم صرف اسی تعلق کی بات کر رہے ہیں جہاں سامنے والا شخص شادی شدہ ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: فی الحال تو ہم اس طرح کی بات چیت کرنا چاہیں گے کہ کوئی شادی شدہ عمر میں بڑے کامیاب شخص کے جب قربت میسر ہو تو یہ محبت کے جذبات شدت سے پیدا ہونگے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ خواتین میں محبت کا جذبہ جو خدا کی طرف سے کیمیکلی پیدا کیا گیا ہے وہ صرف اولاد کیلئے ہے۔

فرح سعدیہ: یہ تو اولاد نہیں ہوتی جن سے وہ پیار کرتی ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: یہ بالکل اولاد نہیں ہوتی لیکن خواتین کا پیار کرنے کا ایک ہی جذبہ ہے جو کیمیکلی میڈڈ ہے، وہ کیمیکل اکیسٹوسن ہے جو خواتین میں اپنے بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت یا ممتا کیلئے ہوتا۔ اگلی مرتبہ ہم اسی موضوع پر گفتگو کو جاری رکھیں گے کہ اگر آپ تعلق جاری رکھیں گی تو آپ کی قسمت میں کیا خرابی ہے؟ اگر آپ شادی کر کے کامیاب ہونا چاہتی ہیں تو پھر آپ کی قسمت میں کیا خرابی ہے اور اگر آپ اسے چھوڑ دینا چاہتی ہیں تو پھر آپ کی قسمت میں کیا خرابی ہے؟

فرح سعدیہ: ان بہت ساری خرابیوں کا حل کیا ہے اس کا ذکر ہم پھر کریں گے، شکریہ ڈاکٹر صاحب!
اجازت دیجیئے اللہ حافظ!

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments