فرح سعدیہ: ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، اسی موضوع پر آج ہماری گفتگو ہو گی ولنگ ویز کے سی۔ای۔او ڈاکٹر صداقت علی سے جو کہ ماہر سائیکالوجسٹ اور ماہرسائیکاٹرسٹ بھی ہیں۔ آپ کے فیملی کاؤنسلنگ کے سیشنز بھی اتنے ہی اچھے ہوتے ہیں جتنے کے ایڈکشن ٹریٹمنٹ۔
اسلام و علیکم ڈاکٹر صاحب! کیسے ہیں آپ؟

ڈاکٹر صداقت علی: الحمداللہ میں خیریت سے ہوں۔

فرح سعدیہ: کل کے میچ میں پاکستان کو شکست ہوئی اور اس ہار کے دکھ سے باہر آنے میں تو بہت کوشش کر رہی ہوں۔ آپ کا کیا خیال ہے اس دکھ کو قبول کیا جائے یا بھول جائیں؟

ڈاکٹر صداقت علی: دکھ سے نکلنے کیلئے ایک باقاعدہ اسٹرکچر ہوتا ہے۔ میچ کے انعقاد سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے، لہذا وہ میچ کی اہمیت کو ضرورت سے زیادہ بڑھا دیتے ہیں اور بہت اسٹرکچرڈ انداز میں بناتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو ٹورنامنٹ کرواتے ہیں اور اس کے حقوق زیادہ مہنگے بیچتے ہیں، دوسرا وہ میڈیا جو اس کو خریدتا ہے وہ بھی اس کی اہمیت کو بڑھاتا ہے تاکہ فائدہ اُٹھا سکے۔

فرح سعدیہ: وہ کروڑوں خرچ کر کے اربوں کمانا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی چاہتی ہیں کہ میچ کی اہمیت کو بڑھایا جائے کیونکہ زیادہ لوگوں کی شمولیت ہو گی تو تشہیر کے مواقع زیادہ ملیں گے۔ آخرکار پیسہ عوام کی جیبوں سے نکال کر خواص کی جیبوں میں لایا جاتا ہے اور یہی وہ سب لوگ ہیں جو کسی بھی ٹیم کے میچ ہارنے کے بعد اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ جذباتی نہیں ہوتے۔ وہ لاجیکل ٹیکنیکنگ کرتے ہیں اور عوام اس کے برعکس ہوتے ہیں تو اُن کو رویہ کل کی نسبت بہت بدل جائیگا۔ جیسے اگر کل وہ بہت پرجوش تھے تو آج وہ مایوسی کا شکار ہونگے۔ لوگوں سے نہیں ملیں گے، ٹی وی نہیں دیکھیں گے اور اوندھے ہو کر لیٹ جائیں گے۔

فرح سعدیہ: باکل! بہت سارے لوگ تو آج میچ کا ذکر بھی نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر صداقت علی: لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ غم سے ابھرنے کے عمل سے ہم زندگی میں بے شمار موقعوں پر گزرتے ہیں لیکن کوئی نقصان یا صدمہ ہوتا ہے تو دماغ میں غبار سا اُٹھتا ہے، غم اور غصے کی کیفیت میں ایسا لگتا ہے کہ اب کچھ باقی نہیں رہ گیا اور یوں لگتا ہے کہ دنیا کا آخری دن تھا۔ وہ اپنی زندگی کے مشاغل میں بھی واپس نہیں جا پاتے اور ایک سٹیٹس کوما میں چلے جاتے ہیں۔ ذہنی صحت بھی خراب ہو سکتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میچ کی اہمیت ایک ماہ پہلے کتنی تھی؟ ہم یہ جانتے بھی نہیں تھے کہ پاکستان میچ کھیلے گا۔

فرح سعدیہ: اور نتیجہ یہ ہو گا!

ڈاکٹر صداقت علی: اور آج سے ایک ماہ بعد ہم میں سے کسی کی زندگی میں اس میچ کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔ صرف ان گیارہ کھلاڑیوں کی اہمیت رہ جائے گی جن کو آج ہم نے تنہا چھوڑ دیا حالانکہ اگر ان کھلاڑیوں میں سے کوئی ہمارا بھائی ہوتا تو کیا ہم ان کو لینے ائیرپورٹ نہ جاتے، میرے نزدیک تو انہوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ دنیا کی بہتریں ٹیموں سے مقابلہ کرنا۔

فرح سعدیہ: فسٹ چار میں آنا بڑی بات ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی: فسٹ چار میں آنا اور اچھے طریقے سے آنا کیونکہ ہم بہت سے میچ جیت کر آئے ہیں اس کے علاوہ ماضی قریب میں بہت سے سانحے پیش آئے یعنی ہماری ٹیم کا پچیس فیصد حصہ یعنی تین بہترین کھلاڑیوں کو اُن کی کوتاہی کی وجہ سے کھیل سے نکال باہر کرنا پڑا، پھر اس ٹورنامنٹ کے دوران آپ کو معلوم ہی ہے شعیب کے ساتھ جو واقع ہوا جس میں وہ غصے میں آئے اور پھر پریس کانفرس کی۔ اگر ان تمام واقعات میں حقیقت تھی تو اسی وقت ان سب کو پاکستان بھیجنا چاہیئے تھا اور جرمانے کے بعد رپلیسمنٹ منگوانی چاہیئے تھی۔ اسی طرح یہ بات بھی بہت عجیب ہے کہ جب ہم نے کواٹر فائل جیتا تو ہم نے پورا ہفتہ بری طرح ضائع کیا۔ اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ کوئی ٹیم کو جذباتی سطح پر مینج کرے اور ٹیم کی نفسیات کو سمجھے۔