انٹروینشن ڈیٹا سیریز پر مبنی ایک دستاویزی فلم ہے جو کہ ایک نشے کی لت میں مبتلا عادی کی حقیقی زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔

 

موجودہ قسط ولنگ ویز چینل نے ہوسٹ کی، یہ وہ چینل ہے جہاں آپ بہت سی معلوماتی ویڈیوز تلاش کر سکتے ہیں جو کہ زندگی کے مختلف پہلوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ قسط خاص طور پر ایک عادی کی زندگی پر مرکوز ہے جس کی زندگی خطرے میں ہے اور کس طرح اس کے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اقساط سب سے زیادہ ڈرامائی لمحات پر مبنی ہیں جو کہ زندگی اور موت کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتی ہیں۔

انٹروینشن کا بنیادی مقصد انسان کو نشے کا علاج کروانے کیلئے قائل کرنا تھا۔ ولنگ ویز کامیاب انٹروینشنز کا انعقاد اور خاندانوں کو تربیت دینے کیلئے جانا جاتا ہے۔ جبکہ اسے ملک میں سرخیل ہونے پر فخر ہے۔

اگر آپ انٹروینشن کی تربیت حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ’’رابطے کی تفصیلات‘‘ پر کلک کریں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نہ صرف پاکستان میں بین الاقوامی تربیت دے رہے ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے سرحد پار پہنچانے کیلئے بھی ممکن بنایا ہے۔

ایڈکشن پر مبنی یہ دستاویزی فلم ایک چوبیس سالہ لڑکی کی کہانی کو بیان کرتی ہے، کرسٹی جو کہ دس سالوں سے الکوحل اور میتھ کی لت میں مبتلا ہے۔ والد کے بیان کے مطابق وہ تین دنوں سے مسلسل بغیر سوئے الکوحل اور منشیات کا استعمال کر رہی ہے۔ وہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جب بھی نشے کے زیر اثر ہوتی ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسی شیطان کی گرفت میں ہے۔ نو سال کی عمر میں اس کے والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی اور اس کی والدہ کے بیان کے مطابق اس واقع نے اس پر شدید اثر ڈالتے ہوئے اسے تباہی کی طرف راغب کیا۔

کرسٹی نے چودہ سال کی عمر میں کرسٹل میتھ لینے کی کوشش کی جبکہ سولہ سال کی عمر میں وہ ہفتے میں تین سے چار بار کرسٹل میتھ کا استعمال کر رہی تھی۔ جب وہ دسویں گریڈ میں گئی تو اس کا رویہ نمایاں طور پر تبدیل ہو گیا۔ اس کی والدہ نے مزید بتایا کہ اٹھارہ سال کی عمر تک کرسٹی بے اختیار ہوتی چلی گئی۔کرسٹی نے 23 سال کی عمر میں اسی دباؤ کے زیر اثر ڈرائیونگ سیکھی اور اپنی کار کے ساتھ ساتھ ڈارئیونگ لائسنس اور سیلز کی نوکری بھی گنوا دی۔ بعد میں اس نے ایک سٹریپر کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ آخر کار فیملی نے مداخلت اور مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے بتایا گیا کہ اگر وہ علاج کی سہولت حاصل نہیں کرے گی تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا۔ اس لئے وہ ہتھیار ڈال دیتی ہے اور علاج کیلئے رضا مند ہو جاتی ہے۔ وہ علاج کی غرض سے پام بیچز کے بہیوریل ہیلتھ میں جاتی ہے، تیس دن علاج میں رہتے ہوئے کرسٹی نے اتنی خرابی پیدا کی کہ اسے کہا گیا کہ وہ قوانین پر عمل پیرا ہو یا پھر یہاں سے چلی جائے۔ اس نے علاج چھوڑنے کا انتخاب کیا اور گھر واپس آ گئی۔ کرسٹی کی فیملی نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر یہ اپنا علاج مکمل نہیں کراتی تو اسے گرفتار کروا دیا جائے مگر پھر بھی اس نے جانے سے انکار کر دیا۔ جج نے کرسٹی کو نوے دن جیل میں رہنے یا دو سال کا علاج کروانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا لیکن اس نے جیل کا انتخاب کیا۔ جیل سے رہا ہونے کے چھ ہفتے بعد ہی وہ ریلیپس کر گئی۔ وہ ابھی اپنے دادا کے ساتھ رہ رہی ہے اور ابھی تک الکوحل اور میتھ کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔

انٹروینشن کیا ہے اس کے متعلق پڑھنے کیلئے ’’انٹروینشن-جب وہ نہیں مانتا‘‘ پر کلک کریں۔

اگر آپ انٹروینشن کے متعلق مزید مواد پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو درج ذیل تحریر شدہ آرٹیکلز پڑھئیے۔

ڈاکٹر صداقت علی نے ڈؤ میڈیکل کالج سے ایم-بی-بی-ایس کیا اور ایڈیکشن سائیکاٹری کے شعبے میں مایہ ناز ماہر امراض منشیات و نفسیات ہیں۔ انہوں نے ہیزلڈن اور وائیٹل سمارٹ امریکہ سے تربیت حاصل کی۔ ڈاکٹر صداقت علی ولنگ ویز اور صداقت کلینک کے پراجیکٹ ڈائیریکٹر ہیں۔ ان کو انٹرنیشنل “Who is who”پروفیشنلز کی ڈائریکٹری میں شامل کیا گیا، کسی پاکستانی ڈاکٹر کیلئے یہ پہلا اعزاز ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے بڑے پیمانے پر ان کے انٹرویوز کئے۔ وہ ڈرگ ایڈیکشن، الکوحلزم، جوا، خودکشی کی روک تھام اور گھر سے بھاگنے جیسی بری عادتوں کو اچھی عادتوں میں بدلنے پر اپنے خیالات کا اظہار قومی ٹی وی چینلز پر دیتے ہوئے اکثر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو تربیت دیتے ہیں کہ اگر خاندان کا کوئی فرد خود کو تباہ کرنے کے طرز عمل میں مبتلا ہے تو اس کیلئے کیسے مداخلت کی جائے۔ انہوں نے بڑی تعداد میں قومی سہولتیں پیدا کی ہیں۔ ایڈکشن اور الکوحلزم کا علاج ولنگ ویزمیں آؤٹ ڈور اور صداقت کلینک میں اِن ڈور بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی کے کچھ ٹی وی پروگرامز درج ذیل ہیں۔

منشیات کے علاج اور کونسلنگ کے میدان میں ولنگ ویز کامیاب اور شاندار ادارہ ہے۔ 1979 میں ہم نے اس کام کا آغاز کیا جب پاکستان اچانک سے ہیرؤین کی زد میں آیا۔ ہم نے بہادری سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ذمہ داری اُٹھائی کہ ایڈیکشن کسی بھی مرحلے پر قابل علاج مرض ہے اور آج ہمیں نشے کے علاج کے میدان میں قابل اعتماد راہنما ہونے پر فخر ہے نہ صرف پاکستان میں بلکہ امریکہ، انگلستان اور یورپ میں بھی ہمارے مریض ہیں۔

یہاں مریضوں کا سائنسی طرز پر مبنی علاج کیا جاتا ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔ ہم اپنی ٹیم اور پروگرام کو جدید ترین ترقی کے ساتھ اپ ٹوڈیٹ رکھتے ہوئے اپنے مریضوں کے ساتھ تفصیلاً کام کرتے ہیں۔ یہ پروگرام صرف مریض تک محدود نہی ہے بلکہ خاندان پر بھی کام کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد خاندان میں سکون کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ یہ پروگرام مریض کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے بنایا گیا۔ ہماری تنظیم ایک انتہائی قابل ٹیم پر مشتمل ہے جو کہ تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ ہرچیز کے بارے میں وسیع علم رکھتی ہے۔ ہماری ٹیم میں میڈیکل سپیشلسٹ، سائیکاٹرسٹ، کلینکل سائیکالوجسٹ اور کونسلرز شامل ہیں۔ ہم جدید تحقیق اور طریقوں کے ذریعے اس بیماری کا علاج کر رہے ہیں، ہمارا مشن ایڈیکشن کی روک تھام ، علاج اور مینجمٹ کے حوالے سے ہے کہ بیماری اور اس کی پیچیدگیوں سے دنیا کو آزاد کروایا جائے۔