ڈاکٹر صداقت علی: ایک کام ورزش بھی ہے یعنی جو انرجی کا خرچ کرنا ہے اس کو ییس کہنے کی عادت ڈالیں۔ جیسے اگر کوئی چھوٹے موٹے کام کرنا ہیں تو ان میں سستی نہ کریں۔ بلکہ اٹھ کے کر لیں۔ کچھ اور کام یعنی ایک منزل چڑھ کے اوپر جانا ہے۔ نیچے جانا ہے۔ تو ایسے موقعے پہ بھی ییس کہنا سیکھیں۔ اگر آپ دفتر میں کام کرتے ہیں تو انٹر کام کا یوز کرتے رہنا لفٹ کا یوز کرنا۔ آپ خود جائیں کسی کے کمرے میں کام کے لئے اس میں آپکا ہی فائدہ ہو گا اور اس سے آپ کے رابطے بھی بہتر ہوں گے۔

فرح سعدیہ: لفٹ کا استعمال ہی چھوڑ دیں۔ میں اکثر یہ کہتی ہوں کہ لفٹ لینا اور لفٹ دینا دونوں ہی ایک جیسے برے کام ہیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: اور ایک دن میں اگر دو تین مرتبہ سو یا دو سو میٹر وقفے وقفے سے چلیں تو یہ بہت بہتر ہو گا۔ جیسے دو گھنٹے کے بعد ہم 5 منٹ کیلئے تھوڑا سا چل پھر لیں۔ یعنی اپنی انرجی کو خرچ کرنا ہر موقعے پر سیکھیں تو اس سے ہمارا مینٹل میپ بہت کامیابی سے ورزش کار بن جائے گا۔ میں آپ کو بتائوں کہ یہ جو مینٹل میپس ہیں ایک دفعہ بن جائیں تو انکا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی ہم اپ سیٹ ہوں تو ہم وہ کام کر سکتے ہیں جو ہمارے مینٹل میپس میں ایک بار ہو چکے ہوں۔ آپ مجھے یہ بتائیے کہ وہ کونسا کام ہے؟ جو آپ یا میں اپ سیٹ بھی ہوں تو بہت اچھا کر لیتے ہیں۔

فرح سعدیہ: ڈاکٹر صاحب میں مارننگ شو کی کمال کی اینکر ہوں۔

ڈاکٹر صداقت علی: کیونکہ آپ کو اس کی اتنی پریکٹس ہے کہ آپ سالہا سال سے یہ کر رہی ہیں۔ تو جس چیز کی ہمیں بہت پریکٹس ہو جاتی ہے، عادت ہو جاتی ہے، وہ کام ہم اپ سیٹ بھی ہوں تو کر لیتے ہیں۔ جیسے کہ ڈرائیونگ آپ دیکھیئے کہ شہر میں بہت کم حادثے ہوتے ہیں۔ حالانکہ بہت زیادہ لوگ اپ سیٹ بھی ہوتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے ہم چیزوں کو پکا لیتے ہیں۔ جیسے کہ میں ورزش کو ییس کہنا کہہ رہا ہوں کہ دن میں کئی دفعہ ایک منٹ دو منٹ کی ورزش کرنا شروع کریں۔ ایک منٹ یا دو منٹ کے لئے کرسی پہ بیٹھے بیٹھے اُٹھیں۔ تھوڑا سا اپنے آپ کو اسٹریچ کر لیں۔ تو اس طرح چھوٹے موٹے کام یعنی جب بھی باتھ روم جائیں تو تھوڑا سا ہلکا پھلکا اپنے آپ کو اسٹریچ کر لیں۔ چاہے ورک پلیس پر ہو یا گھر میں اور جہاں تک ورزش کو ہاں کہنے کی عادت ہے اس کیلئے ضروری نہیں کہ آپ جوش میں آئیں کہ ہم ورزش کے لئے جا رہے ہیں اور خود کو زخمی کر لیں۔

فرح سعدیہ: یعنی خود کو نڈھال ہی نہ کر لیں۔

ڈاکٹر صداقت علی: جی بالکل! یہ نڈھال کرنے والے ہی کام ہوتے ہیں۔

فرح سعدیہ: بالکل صحیح ڈاکٹر صاحب! اچھا ڈاکٹر صاحب ایک کالر کو شامل کرتے ہیں کافی دیر سے ہولڈ پر ہیں۔ انہوں نے مجھے میسیج کیا تھا میں نے پوچھا آج کی زبردست بات شیئر کریں جو آپ کو لگتا ہے۔ وہ جو گاؤں میں ہم جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اوئے کوئی بات سناؤ۔ تو وہ ہی آج میں اپنے ویورز سے کہتی ہوں کہ کوئی بات سناؤ۔ تو وہ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ آج کی زبردست بات یہ ہے کہ بیگم نے ناشتہ نہیں دیا۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے لڑائی ہوئے جا رہی ہے۔ تو میں نے ریحان کو کہا کہ رحیم سے بات کر۔

!فرح سعدیہ: اشتیاق صاحب اسلام علیکم

اشتیاق: واعلیکم سلام

فرح سعدیہ: اب میرا خیال ہے کہ آپ کی مجھ سے بھی لڑائی ہونے جا
رہی ہے۔ ہے نہ۔۔۔۔

اشتیاق: نہیں۔ آپ سے کوئی لڑائی نہیں ہو رہی۔

فرح سعدیہ: اچھا! تو بیگم سے کیوں لڑائی ہو گئی۔ آدھا گھنٹہ اگر ناشتہ لیٹ ہو گیا ہے تو آپ بیگم سے لڑ پڑیں گے۔ ڈاکٹر صاحب ابھی کیا بتا رہے ہیں؟

اشتیاق: میرا کام اصل میں ایسا ہے کہ میں رات کو دیر سے آتا ہوں۔ رات کو آتے ہوئے ناشتہ لیکر نہیں آیا۔ تو اب جب کہ تھوڑی دیر پہلے یہ سوال ہوا ناشتہ کے بارے میں تو میں نے کہا کہ ناشتہ تو میں نہیں لایا۔

فرح سعدیہ: مطلب رات کو آپ آتے ہیں تو آپ صبح کا ناشتہ لے کر آتے ہیں؟

اشتیاق: جی جی بالکل! آج کی لڑائی بچ گئی آپ کی وجہ سے۔

فرح سعدیہ: یعنی میری آج کے دن کی سب سے زبردست بات ٹھری۔

!اشتیاق: جی بالکل

فرح سعدیہ:تھینک یو۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments