فیملی انٹروینش

اہل خانہ اور ماہرین مل کر مریض کی فلاح کیلئے جو اقدامات کرتے ہیں انہیں انٹروینشن کا نام دیا جاتا ہے۔ انٹروینشن کے ذریعے مریض کے علاج کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ مریض باآواز بلند مدد نہیں مانگتا لیکن اس کی تلخی دراصل مدد کی پکار ہوتی ہے۔ اس پکار میں چھپی ہوئی بے آواز چیخیں آپ نہیں سن پاتے۔

اگر اہل خانہ بیماری کے نتائج اور حالات قابل قبول انداز میں مریض کے سامنے پیش کریں تواس کی آمادگی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں جب مریض نشے میں مدہوش ہونے کے باعث اپنے لئے کوئی بہتر فیصلہ نہیں کر سکتا، اہل خانہ اجتماعی طور پرانٹروینشن کے ذریعے اسے علاج پر مائل کر سکتے ہیں۔ نشے کے مریض کی زندگی میں انٹروینشن ایک ایسا کام ہے جس میں لڑائی جھگڑے کا کوئی مقام نہیں۔ یہ ایک ایسا بامعنی منصوبہ ہے جس کیلئے باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

Family Intervention

!جب وہ مانتا نہیں

انٹروینشن وہ طریقہ کار ہے جس میں اہل خانہ اور دوست احباب مل کر ماہر کی راہنمائی میں مریض سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس ملاقات میں وہ مریض کے سامنے نشے سے پیدا ہونے والے مسائل کی منظر کشی خوبصورتی اور ملائمت سے کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ مریض خود فریبی میں سے نکل کر حالات کی اصل تصویر دیکھ لیتا ہے۔ حالات کی اصل تصویر دیکھنے کے بعد کوئی مریض بھی زیادہ دیر تک علاج کو رد نہیں کر سکتا۔

ضروری نہیں کہ مریض علاج سے پہلے آمادہ ہو۔ ہاں! یہ ضروری ہے کہ اہل خانہ میں سے کوئی مریض کیلئے وہ فیصلہ کرے جو خود مریض نہیں کر سکتا۔ انتظار کی کوئی ضرورت نہیں۔ انٹروینشن کا بیڑا عام طور پر گھر کا کوئی ایسا شخص اُٹھاتا ہے جو مریض کی جان بچانے کیلئے ذاتی نفع و نقصان کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ وہ شخص نشے کی بیماری میں پوشیدہ حقیقی خطرات کو پہچان لیتا ہے۔

اہل خانہ تنہا تنہا مریض سے بات کریں تو مریض اپنے بارے میں بیان کئے گئے حقائق کو جھٹلاتا ہے۔ ریسرچ کی بدولت اب مل جل کر حقائق کو ایسے انداز میں مریض کے سامنے پیش کرنا ممکن ہو گیا ہے کہ وہ انہیں جھٹلا نہ سکے۔ انٹروینشن کے دوران جب مریض یہ جان لیتا ہے کہ اہل خانہ مجھے تکلیف نہیں دینا چاہتے بلکہ میرا دُکھ دور کرنا چاہتے ہیں تو وہ تعاون پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

اہل خانہ ’’انٹروینشن‘‘ میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ انہیں فکر ہوتی ہے کہ مریض سے تعلقات نہ بگڑ جائیں حالانکہ تعلقات پہلے ہی بگڑ چکے ہوتے ہیں۔ انہیں مریض کی طرف سے جھگڑے یا نقصان کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ بیماری کو سمجھنے کے بعد یہ خیالات بدل جاتے ہیں۔ انٹروینشن سے پہلے اہل خانہ سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور مریض کے شب و روز میں سے ایسے واقعات تلاش کرتے ہیں جن کا تعلق نشے کے استعمال سے ہو اور جہاں نشے کے نتیجے میں مریض یا اہل خانہ کو شرمندگی، نقصان، خطرے یا تباہی کا سامنا ہوا ہو۔

Intervention Data

انٹروینشن ڈیٹا

ان واقعات کو ‘’انٹروینشن ڈیٹا‘‘ کہا جاتا ہے۔ انٹروینشن میں حصہ لینے والے تمام افراد ان نکات پر مبنی اپنی اپنی فہرست تیار کرتے ہیں۔ ان نکات میں وہ مریض کو آگاہ کرتے ہیں کہ اگر اس نے علاج قبول نہ کیا تو آئندہ اسے نشے کے نتیجے میں ہونے والی تکلیفیں تنہا ہی جھیلنی پڑیں گی۔ تکلیفیں اسے نشے سے نجات کی راہ دکھا سکتی ہیں۔

انٹروینشن میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ آٹھ افراد شرکت کرتے ہیں۔ اہل خانہ کے علاوہ قریبی عزیز اور مریض پر اثرو رسوخ رکھنے والے دوسرے افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی نشے کی بیماری سے بحال ہو چکا ہو تو اس کی شمولیت بھی بہت فائدہ مند ہو گی۔ نوجوان پر اعتماد ہوں تو بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی مریض کو مشتعل کرنے کا باعث بنتا رہا ہو تو اس کو بھی شامل نہیں ہونا چاہیئے۔ سب کیلئے نشے کی بیماری کو سمجھنا ضروری ہے لیکن سربراہ کا علم تو دوسروں سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے۔ انٹروینشن سے پہلے ماہر کی زیر نگرانی ریہرسل بھی ضروری ہے جس میں ایک شخص مریض کا ’’کردار‘‘ ادا کرتا ہے اور باقی افراد باری باری سے اپنے ’’نکات‘‘ پیش کرتے ہیں۔

طے شدہ پروگرام

انٹروینشن میں مریض کے ساتھ تبادلہ خیال

تمام افراد طے شدہ پروگرام کے تحت صبح کے وقت مریض سے ملتے ہیں جب وہ زیادہ نشے میں ہو اور نہ تروڑک میں۔ سربراہ مریض کو سب کی آمد کا مقصد بیان کرتا ہے اور اس سے وعدہ لیتا ہے کہ وہ خاموشی سے تمام افرا د کے نکات سن لے۔ مریض کا کردار ایک سامع کے طور پر متعین کر دیا جاتا ہے کیونکہ انٹروینشن میں مریض کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع نہیں ہوتا۔

ذیل میں نمونے کے طور پر انٹروینشن کے کچھ نکات دیے گئے ہیں۔
 دو ہفتے پہلے آپ کی رضائی کو آگ لگ گئی تھی اور اگر میں نہ آتی تو آپ جل گئے ہوتے۔ میں آپ کے سونے تک آپ کی چوکیداری کرتی تھی آئندہ میں یہ ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتی ( بیوی)

 دو دفعہ مقامی تھانے دار آپ کے نشے کے لین دین کے بارے میں مجھے تھانے بلوا چکا ہے۔ اگر کوئی قانونی گرفت ہوئی تو میں آپ کی کوئی مدد نہ کر سکوں گا ( باپ)

 پچھلے ہفتے تم نے میری چیک بک پر جعلی دستخط کر کے پانچ ہزار نکلوائے تھے۔ نشے کی خاطر تم قانون کو ہاتھ میں لو گے تو تمہیں اس کے نتائج خود بھگتنے پڑیں گے ( بھائی)

نشے کی وجہ سے آپ خاندان کی خوشی غمی میں شریک نہیں ہوتے۔ پچھلے ایک ماہ میں آپ گیارہ دن ملازمت پر نہیں گئے۔ میں آپ کیلئے مزید بہانے نہیں بنا سکتی ( بیوی)

ایک ماہ پہلے تم نشے کی مدہوشی میں غسل خانے میں گر گئے تھے اور تمہیں ملازموں نے دروازہ توڑ کر باہر نکالا تھا (والدہ)

 پچھلے دنوں کچھ لوگ میرارشتہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ امی آپ کو ان سے چھپانے میں لگی ہوئیں تھیں، آپ بار بار سامنے آ رہے تھے اور مجھے بہت ندامت ہو رہی تھی (بہن)

Discussion With The Patient in The Intervention

ہم یہ کیسے کرتے ہیں

Avoid Provocation

اشتعال انگیزی سے بچیں

اگر مریض تکرار پر اتر آئے تو آپ اس کی بات کا جواب نہ دیں بلکہ وہی نکتہ آپ دوبارہ پڑھ دیں۔ نکات کو اسی طرح پیش کریں جیسے ریہرسل میں پیش کیا تھا۔ اشتعال انگیزی سے بچیں اور محبت اور فکرمندی کا انداز برقرار رکھیں۔ ہر کوئی اپنے نکات ختم کرتے ہوئے مریض کو کہے، ’’ہم جانتے ہیں کہ تم ہمیشہ ایسی زندگی گزارنا نہیں چاہتے!‘‘ اور مریض کو مشورہ دیں ’’بہتر ہے علاج کیلئے رجوع کرو‘‘ چونکہ مریض کو کسی بات کا جواب نہیں دینا ہوتا اسی لئے توجہ ’’جواب بنانے‘‘ کی بجائے سننے پر ہوتی ہے۔ اسی طرح بار بار اور مؤثر انداز میں کہی ہوئی باتیں اس پر اثر کرنے لگتی ہیں۔ بار بار کہنے سے نہ جھجکیں۔ اسے انکار کے نتائج سے بھی آگاہ کرتے رہیں لیکن یاد رہے کہ وہ کہیں جس پر عمل کا ارادہ ہو۔ انٹروینشن میں آپ مریض سے نشہ چھوڑنے کا وعدہ نہیں مانگتے بلکہ اسے علاج قبول کرنے کیلئے کہتے ہیں۔ انٹروینشن کے دوران مریض کو کھسکنے کا موقع نہ دیں۔

Objectives of The Intervention

انٹروینشن کے مقاصد

تسلسل کے ساتھ نکات پیش کرتے رہیں۔ پہلے مریض غصہ کرتا ہے۔ پھر چہرے پر نا گوار تاثر لئے چپ بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی خاموشی سے نہ گھبرائیں۔ خاموشی اس کے ذہن پر مثبت اور مؤثر کام کرتی ہے۔ وہ بے چینی سے پہلو بدلتا ہے، پھر رونے لگتا ہے اور پھر ہاں کر دیتا ہے۔ کبھی خاموشی اور آنسو ’’ہاں‘‘ کا کام دیتے ہیں۔ کم و بیش دو گھنٹے میں انٹروینشن کے مقاصد پورے ہو جاتے ہیں۔ مریض کے داخلے کا بندوبست یہ مرحلہ آنے سے پہلے ہی ہونا چاہئیے۔ دیرکرنے سے وہ دوبارہ خود فریبی میں آ سکتا ہے۔ صحیح بنیادوں پر کی جانے والی انٹروینشن میں کامیابی کی شرح 90 فیصد ہوتی ہے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ کوئی معجزہ ہی ان کے مریض کو علاج پر راضی کر سکتا ہے، انٹروینشن ان کیلئے معجزے کا ہی کام دیتی ہے۔

بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

یاد رکھیئے! کوئی بھی شخص مسائل کی وجہ سے نشے کا مریض نہیں بنتا۔ ہاں مسائل کی وجہ سے نشے کا استعمال شروع کرسکتا ہے۔ نشے کی بیماری جسمانی نظام خرابی سے شروع ہوتی ہے۔ نشے کی بڑھتی ہوئی مقداریں مل کر بیماری کی شدت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ نشے کی بیماری مسلسل بڑھتی ہے۔

اگر آپ کا واسطہ کسی نشے کے مریض سے ہے تو آپ کا خاصا وقت اس سوچ بچار میں گزرتا ہو گا کہ اسے علاج کیلئے کس طرح قائل کیا جائے؟ اگر آپ اس کوشش میں تاحال کامیاب نہیں ہوئے تو لمحہ بھر ٹھہر کر سوچیئے! کہیں آپ کے طریقہ کارمیں تو کوئی خامی نہیں؟