HALT

سلگن کی علامات سے نپٹنا ممکن ہے۔

ہمارے بارے میں

غلط عقیدوں اور نقصان دہ رویوں کو پہچاننا

سلگن کے خلاف خود کو قبل از وقت مضبوط کرنے پر آ پ جتنی زیادہ توجہ دیں گے اتنے ہی آپ سلگن سے محفوظ ہو جائیں گے، اول تو آپ کو سلگن کا سامنا ہو گا ہی نہیں اور اگر ہو گا تو سلگن کی شدت کم ہو گی۔ وہ حالات جو آپ میں سلگن کی علامات پیدا کرتے ہیں اُن میں اپنی نگہداشت نہ کرنا اور بحالی کے پروگرام پر توجہ نہ دینا شامل ہیں۔ اگر آپ ریلیپس کے بغیر سلگن سے بحال ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی زندگی میں دباؤ پیدا کرنے والے حالات کے بارے میں باخبر رہنے اور اُن کا سدباب کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں دباؤ آپ میں سلگن کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ وہاں فوری اور مؤثر حکمت عملی سلگن کی شدت کو توڑ دیتی ہے۔

چونکہ آپ سلگن جیسے حالات کو پیدا ہونے سے یقینی طور پر روک نہیں سکتے اس لئے حفظِ ماتقدم کے طور پر آپ کو ان سے نپٹنے کے مؤثر طریقے سیکھنے ہونگے۔ حالات آپ کی بحالی کو ڈانواڈول نہیں بناتے بلکہ ان حالات پر آپ کا نامناسب ردعمل آپ کیلئے مسائل پیدا کرتا ہے اور آپ کا ردعمل نامناسب اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے تیاری نہیں کی ہوتی اور آپ اچانک نہتے ہی سلگن کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ دباؤ سلگن کو اسٹارٹ کر دیتا ہے اور اگر پہلے سے سلگن موجود ہو تو ذہنی دباؤ اسے مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ، ذہنی دباؤ سے نپٹنے کے طریقے سیکھنے سے حتمی طور پر سلگن کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

چار ایسے روئیے جو سلگن سے نپٹنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں، اگر آپ ان چار سنہری رویوں پر اپنی توجہ مرکوز کر لیں اور ان میں مہارت بھی حاصل کر لیں تو ہم بڑے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ سلگن سے نپٹنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ یہ سنہری روئیے کیا ہیں، یہ جاننے کیلئے چند سطور تک اپنا تجسس برقرار رکھیں اور فی الحال وحید کی کہانی پڑھئیے۔

وحید کی متبادل سرگرمیاں

معالج کے مشورے پر وحید نے کچھ متبادل سرگرمیاں اختیار کرنے کا سوچا تاکہ اُس کا رد عمل نارمل ہوسکے۔ بجائے کافی کے اس نے صبح اُٹھتے ہی پھل کھانا شروع کر دئے، خصوصاً اسے ٹھنڈا تربوز بہت مزہ دیتا تھا۔ اس سے کچھ افاقہ ہوا۔ اُس نے ناشتہ بھی آزمانے کا فیصلہ لیا۔ عرصہ دراز سے اس نے کبھی ناشتہ نہیں کیا تھا۔ صبح کے وقت اس کا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کرتا تھا۔ چائے کافی اور سگریٹ، بس اُس کے دن کا آغاز کچھ ایسی ہی چیزوں سے ہوتا تھا۔

اس نے اپنے ذہن کو تبدیلی پرآمادہ کر لیا تھا۔ براؤن بریڈ کے دو سلائس، دو انڈے روزانہ بدلتی ہوئی شکلوں میں ایک کپ بغیر چینی والی چائے، یہ اُس کیلئے مزے کا ناشتہ تھا۔ اس طرح اسے اور زیادہ مدد ملی۔ وحید اور اکبر نے کیفین کے بغیر کافی پینا شروع کردی اور پیسٹری کھانی بھی بند کردی۔ وہ کھانے کیلئے گھر جلدی واپس آنے لگااور کچھ ورزش شروع کر دی۔ خاص بات یہ تھی کہ ورزش کیلئے جم جا کر دو گھنٹے تک خود کو ہلکان کرنے کی بجائے اس نے ورزش کو ہلکے پھلکے انداز میں تقریباً سارے دن کے دورانیے میں پھیلا دیا۔ یعنی دن میں کئی دفعہ ورزش لیکن کسی موقع پر بھی تین منٹ سے زیادہ نہیں۔ پھر اس کا دل چاہا کہ دوپہر کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارے۔ تھکاوٹ سے بچنا اس نے بطور خاص اپنی عادت میں شامل کر لیا تھا۔ اس نے آرام اور کام کو چھوٹی چھوٹی باریاں دینا شروع کردیں۔ گھر آتے ہی ذرا ذرا سی بات پر اُس کا بھڑک اُٹھنا اب ماضی کی بات ہو چکی تھی۔

سلگن کیلئے ابتدائی طبی امداد

آئیے! اب ہم بات کرتے ہیں چار سنہری رویوں کی، جو سلگن کیلئے ابتدائی طبی امداد کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان چاروں نہری رویوں کو ہالٹ پروگرام بھی کہتے ہیں۔ HALT کا لفظ سلگن سے نپٹنے میں مدد دیتا ہے۔
H سے مراد Hungry یعنی بھوکا ہے۔
A کا مطلب ہے Angry یعنی غصیلا ،
L کا مطلب Lonely یعنی تنہا اور
T کا مطلب Tired یعنی تھکا ماندہ ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سلگن کی حالت میں آپ بھوک ، غصے ، تنہائی اور تھکاوٹ سے حتیٰ المقدار کوشش کریں کہ بچیں۔

سلگن سے چھٹکارا پانے والے بتاتے ہیں کہ اپنی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنے والے ریلیپس سے بچ نکلتے ہیں۔ صرف یہ جان لینا کہ کھانے پینے کے خیال رکھنے، غصے اور منفی جذبات پر قابو پانے، دوسروں سے مل جل کر رہنے اور کام کاج کے ساتھ ساتھ اگر آپ منشیات کے چنگل میں سے بھی گزرتے ہوئے ہوں تو دونوں ادوار کو یاد کریں تو آپ جان لیں گے کہ اُن دنوں آپ اپنی ان ضرورتوں کا ذرا برابر دھیان نہیں رکھتے تھے۔ بحالی کا اہم اصول یہ بھی ہے کہ آپ اُن دونوں کے رویوں کو 180 ڈگری میں بدل ڈالیں۔ آئیے دیکھتے ہیں اسلم آپ کو کیا بتا رہے ہیں؟

سلگن پر قابو پانے کیلئے مندرجہ ذیل مشورے بھی مفید ہیں :

* آپ جس قدر اظہار خیال کر سکتے ہیں کریں۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں، کیا محسوس کر رہے ہیں، حتیٰ کہ وہ باتیں جو آپ کو بے بنیاد اور فضول محسوس ہوتی ہیں اُن کا بھی اظہار کریں۔ ان لوگوں سے بات کرنا شروع کریں جو رائی کا پہاڑ بناتے ہیں نہ پہاڑی کی رائی ۔

* کسی سے پوچھیں کہ آپ کی باتیں، آپ کے روئیے اور جو کچھ آپ کر رہے ہیں کیا وہ درست ہے؟ جیسے آپ چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ہو سکتا ہے حقیقت اس سے بہت مختلف ہو۔

* نشے کی بیماری، بحالی اور سلگن کی علامات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ اس طرح تشویش، احساس جرم اور بوکھلاہٹ کم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

* ورزش صحت وتندرستی اور دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ورزش آپ کے دماغ میں وہ کیمیکل پیدا کرتی ہے جس کی مدد سے آپ اچھا محسوس کرتے ہیں۔ ناچنا بھی ایسی ورزش شمار ہو گی بشرطیکہ یہ بھنگڑہ قسم کا ناچ ہو۔

* آپ جو کچھ کھاتے ہیں اس کا ذہنی دباؤ سے بہت گہرا تعلق ہے۔ آپ کی غذا سلگن کی علامات سے نپٹنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کھانے کی نئی عادات اپنانے کی ضرورت ہے۔ آپ میٹھی گولیاں، مٹھائیاں، چائے، کافی، مشروبات سے پرہیز کریں۔ یہ اشیاء آپ کے جسم میں خوف یا جوش جیسا ردعمل پیدا کرتی ہیں۔

* بھوک دباؤ پیدا کرتی ہے۔ آپ کھانے کے اوقات یوں ترتیب دیں کہ آپ کو کوئی کھانا چھوڑنا نہ پڑے اور آپ بنیادی کھانوں کے درمیان تین ہلکے پھلکے کھانے یعنی اسنیکس بھی کھائیں۔

* آپ سکون کی مشقوں کیلئے کوئی کتاب یا کیسٹ خرید سکتے ہیں۔ اب تو سکون آور میوزک والے آڈیو پروگرام موجود ہیں، ایسے پروگرام آپ کو صداقت کلینک سے مل سکتے ہیں۔ ایسے آڈیو پروگرام خاص طور پرآپ کی ضرورت کیلئے تیار بھی کئے جا سکتے ہیں۔

* متوازن زندگی گزاریں۔ متوازن زندگی سے مراد وہ زندگی ہے جس میں جسمانی، نفسیاتی اور سماجی طور پر توازن ہو۔آپ بالاتر ہستی کواپنی زندگی میں عمل دخل کا موقع دیتے رہیں۔ متوازن طرز زندگی کیلئے مضبوط سماجی تعلقات کا تانا بانا چاہئے۔

* روحانیت اپنی ذات سے بالاتر کسی ہستی کے ساتھ آپ کے عملی تعلق کا نام ہے جو آپ کی زندگی کو مقصد اور معنی دیتا ہے جب آپ کسی روحانی پروگرام پر عمل کرتے ہیں تو آپ شعوری اور عملی طور پر کوشش کرتے ہیں کہ آپ اپنے سے بالاتر کسی ہستی کا حصہ بن جائیں۔

* اہل خانہ کے جو نقصانات کئے گئے ہیں اُس پر معذرت چاہیں اور تلافی کریں۔ جہاں تلافی ممکن نہ ہو وہاں اپنے روئیے بدلیں، خاص طور پر طریقوں کو بہتر بنائیں اور ان کے اطمینان کو مقدم جانیں۔

* اللہ تعالیٰ آپ کا مالک و خالق ہے، وہی آپ کی زندگی کی گاڑی کو چلائے رکھتا ہے۔ اسی کے فضل سے آج آپ نشے کی غلامی سے آزاد ہیں لیکن نشے کی تصوراتی زنجیروں سے چھٹکارا پانا ابھی باقی ہے۔ ہر آزادی ایک موقع پر آ کر ہمت کا امتحان مانگتی ہے۔ بہتر ہے آپ صبح شام خداتعالیٰ سے شعوری رابطہ بنائیں اور ہر معاملے میں راہنمائی چاہیں، پھر اس ’’تبادلہ خیالات‘ کی روشنی میں فیصلہ کریں کہ آپ نے کن چیزوں کو اپنی زندگی میں باقی رکھنا ہے اور کن چیزوں کو اپنے روزمرہ معمولات سے خارج کر دینا ہے۔

وحید کی کہانی۔
’’نشہ چھوڑے چھ ماہ ہونے کو آئے تھے لیکن اُس کے باوجود وحید کئی دفعہ چیزوں کو یاد رکھنے میں معمول سے زیادہ مشکل محسوس کرتا تھا۔ کبھی کبھی وہ زیادہ چڑچڑا ہو جاتا اور تشویش محسوس کرتا۔ اُس کا زیادہ اُٹھنا بیٹھنا اکبر کے ساتھ تھا۔ اکبر اور وہ دونوں روزانہ اکٹھے کافی پیتے، میٹھی پیسٹریاں کھاتے، سگریٹ پیتے اور ڈھیروں باتیں کرتے۔ وحید دوپہر تک وہاں رہتا پھر جب وہ گھر واپس پہنچتا اور کھانا کھاتا تو رات کے دو بج چکے ہوتے۔ گھر میں وہ ذرا ذرا سی بات پر شدید ردعمل محسوس کرتا اور اُس کا دل گھر سے نکل جانے کو چاہتا‘‘۔
اسلم کی کہانی۔
’’جب میں ہیروئن کے شکنجے میں تھا تو مکمل طور پر کھانے پینے سے لاپرواہی برتتا تھا۔ درحقیقت میں اس قدر مصروف رہتا تھا کہ اس طرف کبھی دھیان ہی نہیں جاتا تھا۔ صبح بستر سے اپنے آپ کو گھسیٹ کر نکالنا، نشے کی فکر کرنا، پھر پچھتاوے میں پڑے رہنا، گالیاں کھانا، گالیاں دینا، نشے کیلئے چومکھی لڑائی لڑنا، یہاں خورد و نوش کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ اب ایسی تو کوئی مصیبت باقی نہیں رہی، اب تو میں بطور مشغلہ کھانا پکاتا ہوں، خود بھی کھاتا ہوں اور دوسروں کو بھی کھلاتا ہوں۔
یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ غصہ تو میری ناک پر دھرا رہتا تھا۔ بس ذرا کسی نے انگلی اُٹھائی تو میں آپے سے باہر ہوجاتا، پھر نشہ کر کے ہی چین ملتا۔ نشہ کر لینے کے بعد مجھے کوئی فرق نہ پڑتا، چاہے کوئی مجھ پر کتنا ہی گوبر کیوں نہ پھینک دے۔ اب تو کایا ہی پلٹ گئی ہے ناں! غصہ آنا نارمل سی بات ہے۔
کوئی نہ کوئی ناراض تو کرے گا ہی، یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بات بھی بڑی نہیں ہوتی، آخر کون سی قیامت آ جائے گی؛ مجھے اب آپے سے باہر ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں غصے کو محسوس کر سکتا ہوں اور بس۔ غصے کی شناخت اور اس کے پسِ پردہ وجہ کو جان لینا ہی میرے لئے کافی ہے۔ اب مجھے ضرورت نہیں رہی کہ اسے پی جاؤں یا لوگوں پر اگل دوں۔
ہر کوئی جانتا ہے کہ تنہائی کس قدر بھیانک کال کوٹھریوں میں پھیلی سیاہی کی مانند شے ہے۔ مجھے یاد ہے کہ منشیات کے چنگل میں رہنے کی ایک بہت بڑی وجہ تنہائی بھی تھی۔ میں تنہائی کے احساس کو سُن کرنا چاہتا تھا۔ اسی کیلئے مجھے نشے کی ضرورت پڑتی تھی۔ واہ واہ! کیا بات ہے؟ مجھے نشے سے اس کے سوا کچھ بھی نہ ملتا تھا کہ میں اپنے آپ کو جیتے جاگتے انسا ن سے چھپا سکتا تھا، ڈمپ کر سکتا تھا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اب مجھے ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ مجھے درحقیقت اب پتا چلا ہے کہ اکیلے ہونے میں اور تنہا ہونے میں کافی فرق ہے۔ پرانے نشئی دوستوں سے دور رہتے ہوئے تنہا رہ جانے کا احساس ہوتا ہے، لیکن اب میں این اے کے دوستوں سے رابطہ کر کے اپنی تنہائی کو دور کر سکتا ہوں۔ این اے میٹنگ میں شرکت کرنا تو لاجواب ہے۔
نشے کے دنوں میں مجھے تھکاوٹ کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ مجھے آرام کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہ تھی۔ میں نشہ کر کے اپنے آپ کو سُن کر سکتا تھا۔ ناک آؤٹ کر سکتا تھا۔ کتنااحمقانہ طرز عمل تھا میرا۔ اب مجھے تھکاوٹ میں بھاگے پھرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہی، میں آرام کر سکتا ہوں۔ نشے میں ان بنیادی ضرورتوں سے لاپرواہی برت سکتا تھا کیونکہ نشے کا جھوٹا خدا میرے ساتھ تھا، پر اب میں اپنی نگہداشت سے ہی سکھ پا سکتا ہوں‘‘۔