ٹچ اینڈ گو میٹنگز کے طریقہ کار

کوئی بھی نشے کا مریض جب صداقت کلینک میں داخل ہوتا ہے تو اُس کی اپنی فیملی سے ہونے والی ابتدائی ملاقاتوں کو ٹچ ایند گو میٹنگ کہا جاتا ہے۔ ٹچ ایند گو میٹنگ کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ یہ میٹنگ کیسی ہوتی ہے؟ فیملی سے کیا توقع کی جاتی ہے؟ مریض میں دن بدن بہتری کیسے آتی ہے؟ فیملی اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے کیا کچھ کرتی ہے؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جو ذہن میں ابھرتے ہیں، آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ان میٹنگز سے مثبت نتائج کیسے نکلتے ہیں؟

دستور کے مطابق پہلے دو ہفتوں میں تقریباً 12 ٹچ اینڈ گو میٹنگز ہوتی ہیں۔ ہر میٹنگ کی تیاری کیلئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ چونکہ یہ میٹنگز علامات پسپائی کے دوران ہوتی ہیں اس لئے اہل خانہ کو قبل از وقت کچھ ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثرمریض کے داخلے سے قبل ہی یہ ٹریننگ شروع ہوجاتی ہے۔ اہل خانہ روزانہ سیشن کیلئے آتے ہیں جس میں اُن کی کونسلنگ ہوتی ہے اور علاج کے حوالے سے چند ضروری احتیاطی تدابیر بتائی جاتی ہیں۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے دوران فیملی کو مریض سے کھڑے کھڑے ملنا ہوتا ہے، کیونکہ مریض اور فیملی شروع میں طویل ملاقاتوں کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں، اُن کے درمیان پھڈا ہو جاتا ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا دورانیہ 5 منٹ ہوتا ہے۔ اہل خانہ مریض سے تھوڑا تکلف سے ملتے ہیں، گلے ملنے اور منہ چومنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اہل خانہ کیلئے یہ جذباتی طورپر کچھ مشکل ہوتا ہے تاہم وہ اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے مضبوط قوت ارادی کے ساتھ مریض کی فلاح و بہبود کیلئے اہم فیصلے کرتے ہیں اور اپنی رِٹ قائم کرتے ہیں جس سے بامقصد علاج کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ جب تک اہل خانہ مریض پر حاوی ہونا نہیں سیکھتے، تو مریض کی نشے سے بحالی کا منصوبہ خطرے میں رہے گا۔ چونکہ مریض کو سب سے زیادہ خطرہ خود اپنے آپ سے ہوتا ہے، اس لئے لازم ہے کہ فیملی اپنی رٹ قائم کرئے اور فیصلے کرے جو نشہ کی طلب کے ہاتھوں مجبور مریض خود نہیں کر سکتا۔ اگر فیملی دوران علاج اپنا اثرورسوخ استعمال نہیں کرتی تو علاج میں بس رونا پیٹنا ہی رہ جاتا ہے۔

مریض کے ساتھ اس موقع پرکچھ ٹھوس اور سنجیدہ رویہ کیوں ضروری ہے؟

اگرچہ ٹچ اینڈ گو ملاقاتوں کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے، تاہم اہل خانہ اپنے پیارے کو دیکھ کر تسلی محسوس کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا اطمینان مریض کے ہاتھوں جلد ہی پارہ پارہ ہو جاتا ہے پہلی ملاقات میں مریض جذباتی ہوتا ہے، نشہ ترک کرتے ہی بے سکون ہونا قدرتی بات ہے، اُسے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا، مریض پوری ’’ایمانداری‘‘ سے غم و غصے کا اظہار کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبان، ہسپتال کا عملہ، سہولیات اور’’پلاؤ میں مٹر‘‘ نیز ہر چیز نشانہ بنتی ہے اس لئے اہل خانہ کو پہلے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ انہیں ابتدائی ملاقاتوں میں مریض سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئے۔ احتیاطََ انہیں شدید ردعمل کیلئے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ ملاقات سے پہلے اہل خانہ کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ اگر مریض ان پر غصہ کرے یا بد تمیزی سے پیش آئے تو وہ ملاقات ختم کر دیں، کمرہ چھوڑ کر نکل آئیں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ اپنی فیملی کے اس غیر متوقع روئیے پر مریض کو کچھ جھٹکا لگتا ہے نشے کے ساتھ ساتھ مریض فیملی پربھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ایک طرف وہ نشہ نہیں کر سکتا اور دوسری طرف جب فیملی اس طرح آنکھیں پھیر لیتی ہے تو اُس کے لئے کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ توجہ حاصل کرنے کیلئے اپنا رویہ بدلنے پر تیار ہو جائے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں کونسلر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اہل خانہ کو مریض کی کڑوی اور کسیلی باتوں کے خلاف تحفظ دے تاکہ وہ شرمندگی اور ندامت سے بچ سکیں، کونسلر خاموش تماشائی نہیں بنتا بلکہ اپنے معقول رویوں سے مریض پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کونسلر اس ملاقات کا بغور مشاہدہ کرتا ہے اور اس کی روشنی میں اگلی ٹچ اینڈ گومیٹنگ کیلئے حکمت عملی طے کرتا ہے۔ جب مریض اہل خانہ سے مثبت بات چیت کرنے، خوش دلی سے علاج میں دلچسپی کا اظہار کرنے اور اپنی ذات سے ہٹ کر اہل خانہ کی خیریت کا طالب ہونے لگتا ہے تو ملاقات کا دورانیہ دس منٹ تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ تبادلہ خیالات میں جوں جوں اہل خانہ ’’تگڑے‘‘ ہوتے چلے جائیں تو ملاقاتیں طویل ہوتی چلی جاتی ہیں۔

پہلی ٹچ اینڈ گو میٹنگ اکثر مریض کے علاج میں آنے کے بعد اگلے روز ہی کروا دی جاتی ہے پھر دو ہفتوں میں بقایا ٹچ اینڈ گو میٹنگز کرائی جاتیں ہیں۔ اس کے بعد مریض کے ساتھ فیملی کے سیشن شروع ہوتے ہیں جن میں صحت مندانہ تبادلہ خیالات کے ساتھ ساتھ نشے سے نجات کے حوالے سے اہم موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا مقصد فیملی کی جذباتی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے اس دوران ان کی توجہ ٹریننگ پر مرکوزرکھنا بھی انتہائی ضروری ہے جس کا مقصد اہل خانہ کو اُس کردار کیلئے تیار کرنا ہوتا ہے جس کے بغیر مریض کی بحالی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ اگر فیملی کو ٹریننگ کیلئے بلایا جائے اور ان کے پیارے سے ملاقات نہ کروائی جائے تو وہ اپنی توجہ ٹریننگ پر نہیں رکھ پاتے کیونکہ ان کا دھیان تو سورج مکھی کے پھول کی طرح اپنے پیارے کی طرف ہوتا ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے بارے میں اہل خانہ کی بریفنگ داخلے سے قبل ہو تو بہت آسانی رہتی ہے کیونکہ مریض نے جس طرح گھر میں ان کا ناک میں دم کر رکھا ہوتا ہے یہ باتیں انہیں آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔ داخلے کے بعد جدائی کا وقفہ ان کی سوئی ہوئی محبت کو جھنجھوڑ کر جگا دیتا ہے اور جذبات میں اِک ہلچل سی مچ جاتی ہے اس کیفیت میں وہ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے پس پردہ محرکات سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ بعض اوقات اہل خانہ مریض میں جذباتی اتار چڑھاؤ اور منفی رجحانات دیکھتے ہوئے خود مایوس ہو جاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں علاج کو سبوتاژ کر دیتے ہیں۔ نشے کی زندگی میں مریض تو جب چاہے اپنے موڈ اور مزاج کو جادو کی پُڑیا سے بدل سکتا ہے تاہم اہل خانہ اس ساری صورت حال میں مسلسل تڑپتے رہتے ہیں حتیٰ کہ کچھ افراد خانہ تو روگی ہو جاتے ہیں۔ وہ مریض کے ساتھ محبت اور نفرت کے ایک دوہرے چنگل میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنے کیلئے انہیں الگ سے خاص کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

روگ میں کاؤنسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے یہ کیسا روگ ہے؟

ملاقات سے پہلے فیملی کو ضروری ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ مریض سے پراگندہ سوالات نہ کریں۔ پراگندہ سوالات وہ ہوتے ہیں جو الجھنیں پیدا کرتے ہیں، جیسے کہ ’’وہ کیسا ہے؟ علاج کیسا جارہا ہے؟ کیا تم یہاں ٹھیک ہو؟ تم خوش تو ہو نہ؟‘‘ بلکہ اس کے بجائے انہیں یہ کہنا چاہئے کہ ’’آپ کا چہرہ کتنا تروتازہ ہو گیا ہے، تمہارے بال کتنے اچھے لگ رہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ تم نے گزشتہ کئی دنوں سے شراب یا منشیات استعمال نہیں کی۔ یہ نئی صورتحال بہت اچھی لگ رہی ہے مجھے تم بہت پیارے ہو اور میں تمہیں صحت مند دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے خوشی ہے کہ تم علاج میں آ گئے ہو اور یہ سب سے بہترین علاج گاہ ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ آپ ایسا تب ہی کہہ سکتے ہیں، جب آپ نے علاج گاہ کے بار ے میں اچھی طرح چھان بین کر لی ہو اور اپنے پیارے کو بہترین علاج گاہ میں ہی داخل کرایا ہو‘‘۔ اگر مریض اس موقع پرعلاج اور کونسلر کے خلاف بات کرے تو ملاقاتی خاموشی سے بغیر کچھ کہے روانہ ہو جاتے ہیں، یہ سب کچھ قدرتی انداز میں ہونا چاہئے کہ جیسے وہ پہلے ہی جانے کیلئے پر تول رہے تھے اور جاتے جاتے کہتے ہیں کہ وہ کل پھر، فلاں وقت آئیں گے۔ اگر مریض کہے کہ آپ کیوں جا رہے ہیں؟ تو وہ اسے کہیں کہ انہیں علاج کے خلاف بات کرنا اچھا نہیں لگا اور وہ امید کرتے ہیں کہ آئند ہ وہ اس قسم کی بات نہیں کرے گا۔ اگر مریض مشکلات اور سہولتوں کی کمی کے بارے میں بات کرے تو ملاقاتی اسے ہدایت کرتے ہیں ’’آپ اس سلسلے میں ہمارے جانے کے بعد خود کونسلر سے بات کریں، ہمیں یقین ہے کہ آپ اچھی بات چیت کے ذریعے ان ضرورتوں کو پورا کر لیں گے‘‘

علاج اور کونسلر کے بارے میں منفی ریمارکس پر اتنا رد عمل کیوں؟

فیملی پہلی دفعہ مریض کو ایسی حالت میں مل رہی ہوتی ہے جبکہ اس نے کئی دنوں سے نشہ نہیں کیا ہوتا۔ اہل خانہ جانتے ہیں کہ محض چند گھنٹے نشے کے بغیر گزریں تو وہ کتنا بے چین و بے حال ہوتا ہے اور کس قدر ردِعمل دیتا ہے؟ اس سے وہ اچھی طرح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہسپتال میں کئی دن گزر چکے ہیں، جہاں نشہ ملنے کی کوئی صورت بھی نہیں، مریض کتنا ناخوش ہو سکتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اہل خانہ یہ تصور کرتے ہیں کہ جب وہ اسے ملیں گے تو وہ بہت خوش ہو گا۔ کیا وہ نانی کے گھر آیا ہوا ہے؟


ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں تین کونسلر موجود ہوتے ہیں، اگر فیملی کی طرف سے صرف ایک فرد ہی ملاقات کرنے کیلئے آئے مثلاً بیوی، والدہ یا والد تو ملاقات کے بعدایک خاتون کونسلر فیملی ممبر کے ساتھ چلی جاتی ہے جبکہ باقی دو مرد کونسلرمریض کی دلجوئی کیلئے اُس کے پاس کھڑے رہتے ہیں۔ اگر ملاقاتی صرف مرد ہوں تو دونوں کونسلرز مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ میٹنگ کے دوران کونسلر اور ملاقاتی مریض کے کمرے میں موجود صوفے، کرسی یا بیڈ پر نہیں بیٹھتے بلکہ کھڑے رہتے ہیں۔ ملاقات کیلئے آنے والا کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا ہوتا ہے اور کونسلر مریض اور اہل خانہ کے درمیان حفاظتی ’’دیوار‘‘ بناتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہیں، ارے ایسا کیوں؟ ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں تین کونسلرموجود ہوتے ہیں، اگر فیملی کی طرف سے صرف ایک فرد ہی ملاقات کرنے کیلئے آئے مثلاً بیوی، والدہ یا والد تو ملاقات کے بعدایک خاتون کونسلر فیملی ممبر کے ساتھ چلی جاتی ہے جبکہ باقی دو مرد کونسلر مریض کی دلجوئی کیلئے اُس کے پاس کھڑے رہتے ہیں۔ اگر ملاقاتی صرف مرد ہو تو دونوں کونسلرز مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ میٹنگ کے دوران کونسلر اور ملاقاتی مریض کے کمرے میں موجود صوفے، کرسی یا بیڈ پر نہیں بیٹھتے بلکہ کھڑے رہتے ہیں۔ ملاقات کیلئے آنے والا کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا ہوتا ہے اور کونسلر مریض اور اہل خانہ کے درمیان حفاظتی ’’دیوار‘‘ بناتے ہیں۔

عموماً ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں مریض اپنی فیملی کو مختلف طریقوں سے مجبور کرتا ہے تاکہ وہ اُسے گھر لے جائے مثلاً وہ  ہسپتال کے خلاف باتیں کرتا ہے، بار بار فیملی کے سامنے دعویٰ کرتا ہے کہ اگر وہ اُسے گھر لے جائیں گے تو وہ زندگی میں کبھی شراب یا منشیات کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا اور اگر وہ اُس کی بات نہیں مانیں گے تو پھر گھر واپس آتے ہی پہلے سے بھی زیادہ نشہ کرے گا۔ مریض کی یہ بات اہل خانہ کو کاری ضرب لگاتی ہے۔ ایک طرف دوبارہ نشہ کرنے کی دھمکی، دوسری طرف ایک دلفریب وعدہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپ اُسے صرف ایک وعدے کیلئے علاج میں لائے تھے؟ وعدے تو وہ صبح وشام کر رہا تھا۔ اگر کوئی دوبارہ نشہ کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور اپنے ہی نقصان کی بات کرتا ہے تو وہ کتنا صحتمند ہے۔ ایسے بندے کی قوت ارادی کتنی ہو گی؟ اور وہ اپنا وعدہ کیسے پورا کرے گا؟ اہلِ خانہ میں سے کوئی روگی ہو چکا ہو تو وہ ایسی مشکل صورت حال میں اپنے آپ کو کیسے سنبھا لے گا؟

بعض اوقات وہ جسمانی تکلیفوں اور پریشانیوں کا ذکر کرتا ہے کہ ’’اُسے یہاں درد ہو رہا ہے وہاں درد ہو رہا ہے بہانے بناتا ہے کہ نیند نہیں آتی‘‘۔ مریض اپنی بیوی سے کہتا ہے ’’میں تمہیں چھوڑ دوں گا یا کبھی بات نہیں کروں گا ‘‘ تو بیوی کہے ‘‘ہم اس پر بعد میں بات کریں گے، اس وقت سب سے اہم آپ کی صحت اور بحالی ہے” مریض کہتا ہے ’’اس کا بزنس تباہ ہو جائے گا اور ہمارے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں رہے گی‘‘ تو پھر بیوی کہے ’’آپ کی صحت اور بحالی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں‘‘۔ کبھی فیملی کو تقسیم کر کے حکمرانی کے اصول پر چلتا ہے ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں آنے والے فیملی ممبران کو ہدایات دیتا ہے کہ ’’اس طرح کریں جیسے وہ کہتا ہے‘‘۔ عجیب وغریب اشارے کنائے کرتا ہے۔ علاج میں خصوصی یا وی آئی پی سلوک چاہتا ہے، کوشش کرتا ہے کہ اُس کی حمایت کی جائے، کبھی خود کو بہت کمزور اور بیچارہ دکھائی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ حتیٰ کہ پہلے سے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر ڈرامہ کرتا ہے جیسے کہ پسینے سے شرابور ہے، ضعف کی کیفیت بتاتا ہے، علاج گاہ میں الگ تھلگ اور روٹھے ہوئے ہونے کی ایکٹنگ کرتا ہے، وہ علاج میں شمولیت سے پرہیز کرتا ہے، بھوک ہڑتال کر کے فیملی کو مسلسل دباؤ میں رکھتا ہے۔ یہ بات بھی آپ کے مدنظر رہنی چاہئے کہ مریضوں کو علاج کے ابتدائی مرحلے میں علاج کے تقاضے پورے کرتے ہوئے %100 خوش نہیں کیا جا سکتا۔ علاج کا تقاضا یہ ہے کہ ڈاکٹر فیملی سے جو کہے فیملی اُس کی ہدایت پر عمل کرتی رہے، کیونکہ علاج گاہ کو ان تمام قباحتوں سے نپٹنے کا طویل تجربہ ہوتا ہے اور جلد ہی مریض بہتری کی طرف چلا جاتا ہے۔

ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا دورانیہ طے شدہ ہوتا ہے اور کونسلر ملاقاتی کو پیشگی بتاتا ہے کہ میٹنگ مقررہ وقت یا اس سے پہلے جب وہ کہے تو ختم کر دی جائے۔ اس موقع پر جب مریض یہ دیکھتا ہے کہ فیملی کونسلر کی بات مان رہی ہے تو پھر وہ بھی ماننے لگتا ہے۔ فیملی ممبرز ایک دوسرے کو دیکھ کر مقررہ وقت کے گزر جانے کا احساس دلاتے ہیں اور میٹنگ ختم کر دیتے ہیں۔ ان تمام مذکورہ بالا ہدایات یا ضروری باتوں کو مدنظر رکھا جائے تو ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے ٹھوس نتائج نکلتے ہیں۔

ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا دورانیہ طے شدہ ہوتا ہے اور کونسلر ملاقاتی کو پیشگی بتاتا ہے کہ میٹنگ مقررہ وقت یا اس سے پہلے جب وہ کہے تو ختم کر دی جائے۔ اس موقع پر جب مریض یہ دیکھتا ہے کہ فیملی کونسلر کی بات مان رہی ہے تو پھر وہ بھی ماننے لگتا ہے۔ فیملی ممبرز ایک دوسرے کو دیکھ کر مقررہ وقت کے گزر جانے کا احساس دلاتے ہیں اور میٹنگ ختم کر دیتے ہیں۔ ان تمام مذکورہ بالا ہدایات یا ضروری باتوں کو مدنظر رکھا جائے تو ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے ٹھوس نتائج نکلتے ہیں۔ یہاں آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اپنے پیارے سے ملاقات میں اس قدر تکلف کیوں؟ پابندیاں کیوں؟ خرچہ ہم کریں اور مرضی ڈاکٹر کی چلے؟ ہم خود فیصلہ کیوں نہ کریں؟

پہلی ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں مریض جذباتی اور علاج سے انکاری ہوتا ہے، جبکہ اہل خانہ علاج پر زور دیتے ہیں، نشے سے جدائی کی وجہ سے وہ رائی کا پہاڑ بناتا ہے اور ہر چیز میں کیڑے نکالتا ہے اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ فیملی کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مریض کی بات کا برا نہ منائے کیونکہ وہ تو بیمار ہے لہذٰا فیملی جواب میں غصہ نہیں کرتی اور نہ ہی بات بات پر صفائی پیش کرتی ہے۔ فیملی اُس کے تندوتیز سوالوں کا جواب دیئے بغیر میٹنگ ختم کر دیتی ہے۔ مریض کے منفی رویوں کو مثبت بنانے کیلئے یہ طریقہ کافی زور دار ثابت ہوتا ہے۔ باتوں کے ذریعے سمجھانے بجھانے کی نسبت یہ عملی طریقہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

اگلی میٹنگ سے قبل انفرادی کونسلنگ کے دوران مریض کو انتباہ کیا جاتا ہے کہ اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کو سبوتاژ کرنے سے باز رہے اور علاج پر توجہ دے۔ مریض کی فیملی سے بدتمیزی جاری رہے تو ابتدائی ملاقاتوں کا سلسلہ روکا بھی جا سکتا ہے تاکہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو۔ ملا قاتیں روکنے سے مریض وقتی طور پرغصے میں آ جاتا ہے۔ پھر کونسلرز مریض کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ اس بات چیت کے دوران اُس کی خود فریبی کا جال توڑتے ہیں۔ جلد ہی مریض کو حالات کی سنگینی کا احساس ہو جاتا ہے۔ مریض اپنے رویئے پر معذرت کرتا ہے اور آئندہ اچھی ٹچ اینڈ گو میٹنگز کی راہ ہموار ہو جاتی ہے، عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے بعد مریض میں بہتری کے آثار نظر آتے ہیں اور آدھی درجن میٹنگز کے بعد مریض پر سکون ہو جاتا ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے دوران مریض کے بھڑکے ہوئے جذبات اگرچہ آپ کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں تاہم اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مریض کی رنجش کم ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ احسن طریقے سے علاج میں ایڈجسٹ ہوتا چلا جاتا ہے۔

فیملی کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ میٹنگ کے دوران مریض اگر کوئی ہدایات دے تو ان پر عمل پیرا نہ ہوں، مریض کی کسی مرضی کو پورا کرنے کی حامی نہ بھریں اسے کوئی لارا لپا نہ لگائیں بلکہ اسے علاج اور اپنی صحت یابی کی جانب توجہ دینے پر زور دیتے رہیں کیونکہ اس وقت صرف آپ ہی مریض کی فلاح وہ بہبود اور بحالی کیلئے اہم فیصلے کر سکتے ہیں۔ اپنے پیارے کی مرضی نہ مانیں؟ اس کی کوئی بات نہ سنیں؟ آپ سوچتے ہیں آخر اس آمرانہ رویے کی وجہ؟

اگر علامات پسپائی کی شدت ہو تو یہ بات پہلے ہی اہل خانہ کو بتا دی جاتی ہے تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار رہیں۔ مریض کی بہتر خدمت معالج کی ذمہ داری ہے تاہم علامات پسپائی کی شدت کبھی کبھی مریض کو بے حال کر سکتی ہے، اسے چھپانا یا اس پر معذرت خواہ ہانہ رویہ مناسب نہیں۔ کونسلر میٹنگ کے دوران اپنا یا علاج گاہ کا دفاع نہیں کرتا بلکہ خاموش رہتا ہے اور اس وقت بات کرتا ہے جب ملاقات ختم ہو جاتی ہے۔ اہل خانہ بھی اس موقع پر فیملی کونسلرز سے باز پرس نہیں کرتے کیونکہ اس سے مریض کو شہ ملتی ہے اور وہ معالج کے ساتھ اپنے باہمی رشتے کے تقدس کو پامال کرنے لگتا ہے۔ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا اہل خانہ کیلئے لازم ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ میٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد ہر چیز کی وضاحت کرنا کونسلر کے فرائض میں شامل ہے۔ 

پہلی ٹچ اینڈ گو میٹنگ اچھی ہو تواگلی میٹنگ تک مریض میں مثبت تبدیلیاں نظر آنے لگتیں ہیں۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں اس قسم کا ماحول ہونا چاہیئے کہ اگر کونسلر ملاقاتی سے کہے ’’چلیں‘‘ تو وہ جواب دے ’’جی چلیں میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ اگر مریض کہے کہ وہ کوئی پرائیویٹ بات کرنا چاہتا ہے تو ملاقاتی کو کہنا چاہیئے کہ ’’میرے اور کونسلر کے درمیان کوئی پردہ نہیں، آپ جو بھی بات کرنا چاہتے ہیں ان کے سامنے ہی کریں‘‘۔ اگر مریض کہے کہ یہ کریں وہ کریں یا وہ کہے کہ میں آپ کو کوئی خط دینا چاہتا ہوں تو آپ کہیں ’’یہ بات آپ کونسلر سے کہیں یا پوچھیں ‘‘


ٹچ اینڈ گو میٹنگ کا ڈھا نچہ ایسا ہوتا ہے کہ مریض کے ذہن پر بہرحال اس کے مثبت اثرات ہی پڑتے ہیں۔ اہلِ خانہ کیلئے اطمینان کی بات یہ ہوتی ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مریض پر سکون ہوتا نظر آتا ہے اور علاج میں اس کی دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے کئی رسم ورواج اہلِ خانہ کو فی الفور سمجھ نہیں آتے تاہم نتائج دیکھ کر وہ مطمئن ہو جاتے ہیں کونسلر ساتھ ساتھ ہر قدم کے پس پردہ محرکات کی وضاحت بھی کرتا ہے لیکن اہلِ خانہ کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں آم کھانے سے غرض ہے پیڑ گننے سے نہیں اگر ہمارا مریض نشے سے نجات کی راہ پر گامزن ہے تو ہمیں اس کے علاوہ کچھ اور نہیں چاہیے۔ جب مریض کی جسمانی تکلیفیں دور ہو چکی ہوتی ہیں تو گروپ کونسلنگ اور انفرادی کو نسلنگ کے ذریعے نشے کے بغیر زندہ رہنے کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ دوران علاج مریض آہستہ آہستہ نشے کے بغیر خوش رہنا سیکھ لیتا ہے وہی مریض جو علاج کے ابتدائی حصے میں منہ سے شعلے نکالتا ہے، علاج کے آخری حصے میں پر سکون ہو جاتا ہے۔