Poor Patient’s Health

مریض کی خراب صحت

ایک عجیب سا خالی پن، مایوسی، بے طاقتی، یادداشت میں خرابی، بے خوابی ، ذہنی دباؤ اور شکستگی، سوچنے میں دشواری اور دگرگوں ذہنی کیفیات مل جل کر مریض کیلئے زندگی گزارنا دشوار گزار راہوں کی ماند بنا دیتی ہیں۔ اس حالت کو کا نام دیا جا سکتا ہے۔ سلگن جسمانی، نفسیاتی اور سماجی علامات پر مبنی وہ گورکھ دھندہ ہے جو مریض کو دوبارہ نشے کے استعمال کی طرف دھکیلنا شروع کر دیتا ہے۔

The Patient Becomes Very Confused

مریض خاصہ کنفیوز ہو جاتا ہے

وہ تکلیفیں جو نشہ چھوڑنے کے فوراً بعد سامنے آتی ہیں انہیں کہتے ہیں اور یہ زیادہ سے زیادہ تین ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں تاہم اس کے بعد کچھ عجیب و غریب جسمانی اور ذہنی کیفیات ابھر کر سامنے آتی ہے جنہیں سمجھنا خود مریض کیلئے خاصا دشوار عمل ہوتا ہے کیونکہ اس کیفیت میں مریض خاصہ کنفیوز ہو جاتا ہے۔

Correcting Damages

نقصانات کو درست کرنا

نشہ چھوڑ کر خوش و خرم زندگی گزارنے کا خواب صرف نشے کے پرہیز سے کچھ زیادہ مانگتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ نشے سے پہنچے والے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی نقصانات کو درست کیا جائے، تاہم اور بھی ضروری یہ ہے کہ ناصرف آپ نشے کے بغیر خوش و خرم رہنا اور اپنے مسائل خود حل کرنا بھی سیکھ لیں۔

مریض کے رویوں اور طور طریقوں کے اتار چڑھاؤ

جہاں سلگن میں مریض تکلیف دہ اندرونی کیفیات اور گلی سڑی سوچوں میں پیچ وتاب کھا رہا ہوتا ہے وہاں دیکھنے والوں کو بھی مریض کے رویوں اور طور طریقوں کے اتار چڑھاؤ واضح نظر آتے ہیں خاص طور پر ہونے سے پہلے ان مریضوں میں کچھ علامتیں واضح نظرآتی ہیں جنہیں بھی کہاجاتا ہے۔ انہیں ریلیپس سے خبردار کرنے والی نشانیاں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

ریلیپس کیا ہے؟

ریلیپس کو اردو میں ارتداد کہتے ہیں۔ ارتداد کا لفظ ’’مرتد‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ایمان لا کر پھر جانا ہے۔ ریلیپس نشے کے علاج کی دنیا کا ڈراؤنا خواب ہے جس پر کوئی بھی کھل کر بات کرنا اور سننا ہرگز پسند نہیں کرتا۔ مریض کے اہل خانہ اسے بدشگونی سمجھتے ہیں اور معالج اس سے کنی کتراتے ہیں اور یہی ہے وہ ملی جلی جو زیادہ تر ریلیپس کے پس پردہ کار فرما ہوتی ہے۔ ریلیپس پر قبل ازوقت بات کرنا، اس کی پیش گوئی کرنا، اس کے آگے بند باندھنا، شفاء راستہ بناتے ہیں۔

اکثر سمجھا جاتا ہے کہ جو مریض علاج کے بعد دوبارہ نشہ شروع کر دے وہ ریلیپس کہلائے گا۔ یہ بات درست نہیں ۔ بہت سے مریض خوشی خوشی دوبارہ نشہ شروع کر دیتے ہیں۔ ریلیپس تو اسی صورت میں کہا جائے گا جب کہ مریض اچھی طرح نشے کی بیماری کو سمجھ لے اور اسے پختہ یقین ہو جائے کہ وہ اب محفوظ طریقے سے دوبارہ نشہ نہیں کر سکتا اور دوبارہ نشے کے استعمال سے اس کی زندگی برباد ہو گی، پھر وہ بحالی کی منصوبہ بندی سیکھے اور اس پر عمل پیرا ہو اور اگر وہ پھر بھی نشے سے دور رہنے میں ناکام رہے تو یہ ریلیپس قرار پائے گا۔ علاوہ ازیں نشے سے بچاؤ کیلئے قوت ارادی کا بھی استعمال کیا گیا ہو گا، ہاتھ پاؤں بھی مارے گئے ہوں اورآخر کار جب ہمت جواب دے گئی ہو تو اسے بھی ریلیپس ہی کہا جائے گا۔ کچھ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ محض نشے سے پرہیز کرتے رہیں تو انہیں ریلیپس کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ دراصل انہیں معلوم نہیں کہ بحالی محض نشہ چھوڑنے کا نام نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ نشہ نہیں کرتے لیکن وہ سوبر نہیں ہوتے۔ ان لوگوں کو ریلیپس کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

ریلیپس کے پروسیس کو سمجھنا

جن حالات میں کوئی ریلیپس ہوتا ہے، ان حالات کو سمجھے بغیر ریلیپس کے پروسیس کو سمجھنا بھی ممکن نہیں اگرچہ ریلیپس کے متعلق زیاد ہ تر تحقیق ہیروئن اور شراب کے نشے کے مریضوں پر کی گئی ہے لیکن بہت سی شہادتیں موجود ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ریلیپس کے بچاؤ کے یہی طریقے دوسری منشیات کیلئے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ اس لئے ہم زیادہ تر کسی خاص نشے کا ذکر کئے بغیر محض لفظ ’’نشہ‘‘ استعمال کریں گے۔

ریلیپس کو سمجھنے اور اس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ بحالی کے عمل کو سمجھ لیں اور یہ بھی سمجھ لیں کہ ادھوری بحالی کیا ہوتی ہے؟ یہاں ہم بحالی کے پورے عمل کو بیان کریں گے اور دیکھیں گے کہ بعض اوقات بحالی مکمل ہونے سے پہلے ہی رک کیوں جاتی ہے؟ ہم ریلیپس کے بارے میں چند غلط فہمیوں کا بھی جائزہ لیں گے۔ یہ غلط عقیدے ریلیپس کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں اور انہیں بدلنے سے ریلیپس سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ریلیپس کا سفر

بہت سے لوگ جب ’’ریلیپس‘‘ کے بارے میں سوچتے ہیں تو وہ نشہ کر لینے کے فعل کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں۔ بے شک نشے کا استعمال ریلیپس ہے لیکن تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریلیپس کا پروسیس نشے کے استعمال سے پیشتر ہی شروع ہو جاتا ہے۔ نشے کے استعمال سے پہلے ہی کچھ بگاڑ شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ انہیں اپنے فیصلوں اور رویوں پہ کنٹرول نہیں رہتا اور انہیں کچھ جذباتی یا جسمانی مسائل پیش آنے لگتے ہیں۔ ریلیپس کا سفر بحالی کی مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر بحالی میں آپ کو کو ئی مشکل پیش آتی ہے یا آپ کوئی تکلیف محسوس کرتے ہیں تو آپ ریلیپس ہو رہے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ اگر عمومی طور پر آپ وہ چیزیں نہیں کررہے ہیں جو بحالی کیلئے ضروری ہیں تو آپ لاشعوری طور پر ریلیپس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر آپ میں پھنس گئے ہیں تو آپ کو ریلیپس کا انتہائی خطرہ لاحق ہے۔

نشے کی بیماری سے بحالی تب شروع ہوتی ہے جب آپ تسلیم کرنے لگتے ہیں کہ آپ محفوط طریقے سے منشیات استعمال نہیں کرسکتے۔ لیکن صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ منشیات نقصان دہ ہیں، آپ کو ان کے استعمال کو بھی لازمی بند کرنا ہو گا۔ نشے سے پرہیز صرف بحالی کے عمل کا آغاز کرتا ہے، یہ خوشحال زندگی کا مقصد حاصل کرنے کیلئے محض ایک نکتہء آغاز ہے۔

Fluctuations in Patient Attitudes & Behaviors
Relapse Warning

کے انتباہ Relapse

اگر مریض ریلیپس کے انتباہ کی ان علامات کو جن میں سے وہ گزر رہا ہوتا ہے اپنے شعور میں لے آئے تو وہ ریلیپس کے اس گورکھ دھندے کو خطرناک نتائج پیدا ہونے سے پہلے ہی روک سکتا ہے ۔ ریلیپس سے بچاؤ کی منصوبہ بندی اسی طرح ہی ممکن ہے۔

مریض کے نشہ چھوڑتے ہی اہل خانہ کے سب دکھ درد دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں تاہم مریض کیلئے زندگی فوری طورپر اتنی آسان نہیں ہوتی بلکہ کچھ کھٹن ہوجاتی ہے۔ خصوصاً ان مریضوں کیلئے جنہیں سلگن کا سامنا ہوتا ہے۔ نشہ کرنے سے تعلق رکھنے والے دکھ تو یکسر ختم ہو ہی جاتے ہیں لیکن نشہ چھوڑنے کے بعد دکھوں کی ایک نئی قسم وجود میں آتی ہے جو کہ اہل خانہ اور احباب بھی سمجھ نہیں پاتے۔

یہ دکھ کچھ ایسی نوعیت کے ہوتے ہیں جو اول تو مریض خود بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں، دوئم اگر وہ بتائیں تو بھی اہل خانہ ان کو ’جھٹکا‘ کردیتے ہیں۔ دل کے ارمان ان کی بے آواز چیخوں اور خشک آنسوؤں کے درمیان تیرتے رہتے ہیں۔ یہاں آ کر مریض کی ہو جاتی ہے۔سیلاب کی طرح بڑھتے ایک مقدس جہاد ہے۔

کی علت Relapse

اس دوران یہ باقاعدہ ایک سیکھنے کا کام ہے۔ فیملی کونسلنگ میں ریلیپس سے نپٹنے کیلئے اسے نصاب کا نہایت اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ جہاں فیملی کے ساتھ بالواسطہ کام کرنے میں معالج کا کردار بہت اہم ہے وہاں بھی کسی طرح کم نہیں، اسے براہ راست مریض کے دکھ و درد کا ساتھی بننا ہوتا ہے۔

ریلیپس کی علت میں مبتلا ان تمام مریضوں کو روٹین کے سے ہٹ کر ایک کی ضرورت ہوتی ہے۔ روایتی فالواپ پروگرام ان مریضوں کیلئے کارآمد رہتا ہے جو بحالی کے باقاعدہ پروگرام میں آسانی سے نشے کی علت کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ آؤٹ ڈور ٹریٹمینٹ پروگرام بھر پور مدد فراہم کرتا ہے تاہم کچھ مریضوں کو ریلیپس کی علت سے بچانے کیلئے یہ بھی کافی ثابت نہیں ہوتا، ایسے میں پھران کیلئے تجویز کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ مریض نشے کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن انہوں نے ابھی نشہ نہیں کیا ہوتا اس لئے وہ اور ان کے اہل خانہ داخلے پر رضامند نہیں ہوتے ۔ اگر نشے کی بیماری کے بنیادی نظرئیے پر کام ٹھوس بنیادوں پر بروقت کر لیا جائے تو انہیں انڈور ٹریٹمینٹ پر رضامند کرنے میں ہر گز مشکل پیش نہ آئے گی۔ عام لوگوں کے ذہن میں نشے کی بیماری کا مطلب صرف نشہ کرنے سے منسلک ہے جبکہ نشہ نہ کرتے ہوئے جو تکلیفیں سامنے آتی ہیں ان کے علاج معالجے کا تصور ابھی عام نہیں۔ اہل خانہ یہ بات آسانی سے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ نشہ چھوڑنے کے ہفتوں مہینوں بعد بھی نشے کی باقیات مریض پر قیامت ڈھاتی رہتی ہے۔

Addiction to Relapse