اہم سوال و جواب


* مریض خود علاج کی ضرورت کو کیوں نہیں مانتا؟
نشے کی طلب مریض کے حواس پر اس طرح چھائی رہتی ہے کہ وہ از خود مدد کا طلب گار نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ نشے کا طلب گار رہتا ہے۔ دراصل نشے کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے وہ حالات کی اصل تصویر دیکھ ہی نہیں سکتا۔ سب حیران ہوتے ہیں کہ جو کچھ مریض کرتا ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان مریض کو ہی پہنچتا ہے، پھربھی وہ اپنا بچاؤ کیوں نہیں کرتا؟ حد تو یہ ہے کہ جب کوئی اسے علاج کا مشورہ دیتا ہے تو وہ علاج کی ضرورت سے ہی انکار کر دیتا ہے۔ دراصل نشے کی جو مقداریں وہ عرصہ دار تک استعمال کرتا رہا ہے وہ اس کی دماغی کارکردگی اور قوتِ فیصلہ کو متاثر کرتی ہیں۔اس کے بگڑے ہوئے حالات صاف نظر آتے ہیں۔ جبکہ مریض دعویٰ کرتا ہے کہ ابھی تو کچھ بھی نہیں بگڑا۔ بیماری میں تکلیف کی شدت بھی علاج کی ضرورت کا احساس دلاتی ہے۔
نشے کی بیماری میں مریض جب چاہے اپنی تکلیف کو چھپا سکتا ہے۔ اس کی ’’دوائی ‘‘ اور اس کا ’’ڈاکٹر‘‘ اس کی جیب میں پڑا رہتا ہے۔ اسے جلدی کاہے کی ہے؟

* اہل خانہ از خود علاج کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟
ہم اپنے پیارے میں نشے کی بیماری بروقت کیوں نہ دیکھ سکے؟ کیا اس میں نشے کی بیماری کی کافی علامتیں موجود نہ تھیں؟ کیا وہ ہمیں سرخ سگنل نہیں دے رہا تھا؟ کیا ہم دوسرے کاموں میں الجھے ہوئے تھے؟ کیا وہ سب کچھ چھپانے میں کامیاب رہا؟ یا اپنے پیارے کو نشئی تصور کرتے ہوئے ہمارا دل دکھتا تھا اور ہم اپنی توجہ اس معاملہ سے ہٹا لیتے تھے؟
اہل خانہ نشے کی بیماری کے ساتھ کئی سال گزارنے کے بعد بھی اسے پہچان نہیں پاتے۔ ایسا اس لئے ہے کہ انسانی دماغ ناخوشگوار واقعات سے توجہ ہٹانے کی باکمال صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت ہر شخص میں ہوتی ہے۔ عام حالات میں یہ سب چلتا ہے۔ تاہم جب ہر طرف بکھرے ہوئے شواہد کے باوجود اہل خانہ سمجھتے ہیں کہ سب خیر ہے، نشے کی بیماری اس میں پلتی رہتی ہے۔ اگر ہم ایسا ہی کرتے رہے ہیں تو اس میں کوئی انوکھی بات نہیں۔ ایسے حالات میں عام ردِعمل یہی ہوتا ہے۔ زلزلوں کی پتی پر رہنے والے لوگ ہر وقت جھٹکوں کیلئے تیار رہتے ہیں۔ وہ اپنا طرز زندگی اسی سانچے میں ڈھال لیتے ہیں۔ کسی نشے کے مریض کے ساتھ رہنا بھی ایسے ہی ہے لیکن یہاں ہم بے بس نہیں۔ خود بدل جانے کی بجائے ہم مریض کو بدل سکتے ہیں بشرطیکہ ہم پہلے حقائق کو پہچانیں، نشے کی بیماری کو سمجھیں اور اپنے پیارے کو جامع علاج مہیا کریں۔

* جو رضا مند نہ ہوں ان مریضوں کا علاج کیسے ہو؟
خود فریبی علاج کیلئے از خود رجوع نہیں کرنے دیتی۔ عام مریض جہاں علاج کے آرزو مند ہوتے ہیں نشے کا مریض علاج کو رد کرتا ہے۔ اہل خانہ اور ماہرین مل کر مریض کی فلاح کیلئے جو اقدامات کرتے ہیں انہیں انٹروینشن کا نام دیا جاتا ہے۔ انٹروینشن کے ذریعے مریض کے علاج کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ مریض باآواز بلند مدد نہیں مانگتا لیکن اس کی تلخی دراصل مدد کی پکار ہوتی ہے۔ اس پکار میں چھپی ہوئی بے آواز چیخیں آپ نہیں سن پاتے۔

* مریض کو علاج پر کیسے آمادہ کیا جائے؟
اگر اہل خانہ بیماری کے نتائج اور حالات قابل قبول انداز میں مریض کے سامنے پیش کریں تو اس کی آمادگی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں جب مریض نشے میں مدہوش ہونے کے باعث اپنے لئے کوئی بہتر فیصلہ نہیں کر سکتا، اہل خانہ اجتماعی طور پر انٹروینشن کر کے اسے علاج پر مائل کر سکتے ہیں۔ نشے کے مریض کی زندگی میں انٹروینشن ایک ایسا کام ہے جس میں لڑائی جھگڑے کا کوئی مقام نہیں۔ یہ ایک ایسا بامعنی منصوبہ ہے جس کیلئے باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,