8 mistakes that family member of an addict make (Urdu)

8 غلطیاں۔۔۔ جو اہل خانہ کرتے ہیں

نشے کی بیماری منفرد ساخت کی ہے۔ یہ اانتہائی پیچیدہ، دائمی، نفسیاتی، معاشرتی و روحانی مرض ہونے کے علاوہ عیار اور طاقت ور بیماری ہے۔ عمومی امراض میں مریض کے ساتھ ساتھ اس کے قریبی لوگ بھی فکر مند ہوتے ہیں۔ نشے کے بیماری میں ایسا نہیں ہوتا۔ سرجری اور ویکسین سے بھی اس موذی مرض کا علاج ناممکن ہے۔ اس بیماری کا علاج ٹوٹکوں سے بھی ممکن نہیں۔ لہذا بین الاقوامی طور پر رائج علاج کو اپنانا نا گزیر ہے۔ اس کے لئے مریض کے علاوہ اس کے اہلِ خانہ کو بھی تفصیلی مطالعے اور عمدہ  تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ نشے کے مرض میں مبتلا شخص کے قریبی لوگ اس بیماری کے بارے میں علم خاصل کریں کیونکہ مطلوبہ تربیت کے بغیر وہ مریض کو مستقل اور حقیقی مدد نہیں دے سکتے اور ان آٹھ غلطیوں کو دہراتے رہتے ہیں جس سے نشے کا مریض نشہ تو نہیں چھوڑتا بلکہ دن بدن اس دلدل میں مزید دھنستا جاتا ہے۔

پہلی غلطی:

جب مریض دی گئی ذمہ داریاں پوری نہیں کرپاتا تو اہل خانہ اس پہ غصہ کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا مریض کو اس کی بیماری یہ بوجھ اٹھانے کی اجازت دیتی ہے؟ یقیناً نہیں، جب تک مریض نشے کے استعمال سے دور نہیں ہوتا تب تک اسے ذمہ داریا ں دینا اور انہیں پورا کرنے کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔

دوسری غلطی:

مریض کے نشے کی مقدار میں ظاہری کمی سے یہ سمجھ لینا کہ مریض نے نشہ چھوڑ دیا ہے۔ نا سمجھی ہے۔

اکثر اوقات مریض کے روئیے میں چڑچڑے پن میں کمی سے اہل خانہ یقین کر لیتی ہیں کہ وہ کافی بہتر ہو گیا ہے۔ نشے کے استعمال میں کمی کا یہ دور آخر کار شدید مسائل میں تبدیل ہو جاتا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نشے کی بیماری سے نکلنا، اس قدر آسان نہیں۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو اب تک ہو چکا ہوتا۔

تیسری غلطی:

مریض کی غلطیوں کے لئے ذمہ داریاں قبول کرنا اور دوسروں سے معذرت کرنا۔

مریض کی طرح اہل خانہ بھی حقیقت حال کا اعتراف کرنے کی بجائے خود فریبی کے زیر اثر مریض کی غلطیوں کیلئے جواز پیش کرتے ہیں۔ یہ معاونت کا طرزعمل ہے۔ جو مریض کا نشہ جاری رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

چوتھی غلطی:

نشے کے دوران مریض سے بحث مباحثہ کرنا۔

کسی ایسے شخص کے سامنے غصے کا اظہار کار لاحاصل ہے۔ جس کا دماغ طاقت ور کیمیائی مادوں سے بری طرح متاثر ہو۔ اہل خانہ کے دلائل کتنے ہی ٹھوس کیوں نہ ہوں، مریض نہیں کبھی نہیں سنتا، محض مشتعل ہو سکتا ہے اور مزید نشہ استعمال کر سکتا ہے۔

پانچویں غلطی:

اہل خانہ کا عام لوگوں سے مشورہ لینا جو بیماری کے بارے میں قطعاً نہیں جانتے۔

قریبی دوست واحباب کا اس بیماری کے بارے میں علم مریض کے اہل خانہ سے بھی کم ہوتا ہے پھر ان سے مشورہ کیا بہتری لائے گا؟ جب ان کے مشوروں پہ عمل نہیں کیا جاتا تو تعلقات میں سرد مہری آ جاتی ہے اور اہل خانہ کی تنہائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

چھٹی غلطی:

اہل خانہ اپنی ذہنی صحت پر شک کرنے لگتے ہیں۔

چونکی اہل خانہ حقیقی معلومات کے حصول میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لئے مریض کی تنقید دل پر لیتے ہیں۔ یہ اہل خانہ کی ان خواہشات کا فطری ردعمل ہوتا ہے جو وہ مریض سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ مریض نشہ چھوڑ بھی دیں تو اہل خانہ اپنی نفسیاتی حال سے خود باہر نہیں آ سکتے۔ انہیں اس ذہنی دباوّ سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کسی ماہر نفسیات سے مدد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ساتویں غلطی:

مریض قانون توڑنے پر جیل جائے تو اہل خانہ فوری طور پر اسے چھڑانے پہنچ جائیں، تب اسے اپنی غلطی کا احساس کیوں کر ہو گا؟ جب تک مسائل پیدا ہونے کی اصل جڑ یعنی نشے کے علاج کا کچھ نہ کیا جائے تب تک مسائل یونہی موجود رہیں گے۔

اہل خانہ کی جانب سے مریض کو نقصان سے بچانے کی یہ کوشیشیں محض نادانی ہے۔

آٹھویں غلطی:

باقاعدہ پیشہ ورانہ مدد خا صل کئے بغیر مسائل حل کرنے کی کوشیش کرنا۔

جب تک اہل خانہ حقیقی رہنمائی حاصل نہیں کریں گے، ان کا تنہا ہونا باعث حیرانی نہیں ہے۔ محض قریبی دوست احباب سے سرگوشیوں میں اس مسئلے کا اظہار کرنا بے معنی ہے۔ ان خالات میں اہل خانہ کیلئے مسائل بدستور بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اہل خانہ مریض کے ساتھ پیش آنے والے واقعات وحادثات کو اپنے لئے خدا کی طرف سے سزا سمجھتے ہیں۔ در حقیقت یہ نشے کی بیماری کا فطری ردِ عمل ہے۔

یہ مسائل ہر اس گھر میں نظر آتے ہیں۔ جہاں نشے کے استعمال کا مسئلہ موجود ہو۔ اہل خانہ ان آٹھ غلطیوں کو جان کر آئندہ محبت بھری گرفت کے اصولوں پر عمل کر کے اپنی اور اپنے پیارے کی زندگی میں نئے سرے سے خوشحالی لا سکتے ہیں۔

 

Eight (8) Mistakes by Families of Addicts

Insidious in its nature and development, addiction is widely recognized to be a cunning and baffling disease. It can sustain itself in the face of resistance. Despite all the negative changes it brings into a patient’s and the family’s lives, the addictive behaviours persist and a vicious cycle follows. With the best education and counseling provided at Sadaqat Clinic, families can play a significant role in their loved one’s addiction treatment. However, without professional help, they may resort to ways that can in fact aggravate the problem at hand. Here are 8 common mistakes that families make when their loved one is suffering from the disease of addiction.

1. They get frustrated with the patient when he does not fulfill his responsibilities. However, the disease of addiction can leave an individual incapable of managing his fundamental roles. Families must understand that it is unfair of them to expect such responsibilities from an individual suffering from this complex bio-psycho-social-spiritual disease.

2. They think that addiction has “significantly improved” when there merely has been a reduction in drug use or frequency of behavioural outbursts. These reductions or pauses in usage are short-lived. This disease requires a multidisciplinary approach and life-long management for long-term recovery.

3. They make excuses for patient’s inappropriate behaviours (e.g., domestic abuse with spouse, anger outbursts with siblings, etc.). The problem is that family is often in denial as well. By protecting their loved one from experiencing the negative consequences of drug and alcohol use, they are enabling his disease of addiction.

4. They engage in arguments and verbal altercations with the patient. In active addiction, patients are immune from family’s reasoning and rationalizations for seeking treatment. Decreased inhibition and rebelliousness are also behavioural characteristics of addiction that further affect patient’s ability to listen to his family.

5. They seek help from people who lack adequate knowledge regarding the disease concept of addiction. This includes consulting with friends and relatives. Families must understand that the patient needs help from medical personnel who are well-versed in this field. Friends are unable to provide evidence-based strategies.

6. They take patient’s comments personally and begin to doubt their own sanity. This leads to cracks in their relationship with their loved one, which proceed long after the patient stops using drugs and alcohol. For this reason, families often need counseling and treatment, alongside the patient, to mend this relationship.

7. They keep the patient out of trouble e.g., get him out of legal problems. This is another example of enabling behaviours. By keeping him from seeing the link between his addictive behaviours and negative implications of them, the patient remains ignorant and continues abusing drugs and alcohol.

8. They try to find solutions on their own and do not seek professional help. Consulting friends, trying out non-scientific treatments, and interpreting the disease as a punishment from God only serves to exacerbate the disease of addiction.

Knowing these 8 mistakes that families of addicts make are very important as they occur in almost every household that gets hit with the disease of addiction. Sadaqat Clinic, the best rehabilitation centre in Karachi, Islamabad, and Murree, helps families by training them on tough love principles and appropriate methods of approaching the patient, with the overarching goal of improving the patient’s and family’s quality of life.