How can we help some one in addiction? ( Urdu)

ہم نشے میں کیسے مدد کرتے ہیں؟

نشے کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ نشے کے مریض کی خود فریبی ہے۔ اس خود فریبی کا شکار مریض کا متاثرہ خاندان بھی ہوتا ہے۔ جن کا دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا کہ ان کا لعل نشے کا مریض بن چکا ہے۔ وہ اسے بس اخلاقی برائی ہی سمجھتے ہیں۔ تاہم ایک اور خود فریبی وہ رویے ہیں جن کی بدولت اہل خانہ نشے کے مریض کو نشہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ اہل خانہ اپنے خاص جذباتی رشتے کی وجہ سے مریض سے خصوصی رعایت اور نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض ان کے اخلاق سے متاثر ہوکر نشہ چھوڑ دے۔ اہل خانہ کی مہربانیوں کی وجہ سے مریض کو حالات بالکل نارمل نظر آتے ہیں لہذا وہ نشہ جاری رکھتا ہے۔ یہ صورت حال معاونت کہلاتی ہے۔ معاونت کرنے والے نہیں جانتے کہ وہ لاشعوری طور پر مریض کو نشہ کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

یادرکھیے! مندرجہ ذیل روئیے معاونت کے زمرے میں آتے ہیں۔

مریض کی جگہ اس کی ذمہ داریاں نبھانا، لوگوں کے سامنے بہانے کرنا، اس کی بیماری کو راز بنانا اور ایسے موقعوں پر مریض سے دور رہنا جب نشے کے استعمال کی وجہ سے اسے شرمندگی کا سامنا ہو۔

مریض کو نشے کر لیے رقمیں فراہم کرنا، اس کے کیے ہوئے نقصانات بھرنا، اس کے قرض چکانا، غیرقانونی حرکات کرتے ہوئے جب مریض پکڑا جائے تو اسے فوری طور پر رہائی دلانا۔

مریض کے نشہ کرنے کے جواز تسلیم کرنا اور اس کے نشے کا الزام دوسرے لوگوں یا حالات پر دینا۔ جب مریض نشے میں دھت ہو تو اس کی حفاظت کی خاطر چوکیداری کرنا۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب معاونت سے حالات اور بگڑ جاتے ہیں تو اکثر اہل خانہ اشتعال میں آ کر سختیاں کرنے لگتے ہیں۔ جس کے نتائج ایک مرتبہ پھر معاونت کی صورت میں ہی نکلتے ہیں۔ یعنی مریض نشہ چھوڑنے کی بجائے ناصرف زیادہ نشہ کرنا شروع کردیتا ہے بلکہ اپنے آپ کو حق بجانب بھی تصور کرنے لگتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ نرمی ہو یا سختی، دونوں روئیے مریض کو نشہ کرنے سے روکتے نہیں بلکہ اسے مزید نشہ کرنے کی راہ ہموار کر کے دیتے ہیں۔ اس کے لیے صرف اصلاحی رویے ہی کام آتے ہیں۔

 

Families of Patients with Psychiatric & Addiction Disorders

In keeping with its reputation as the best psychiatric and addiction treatment centre in Karachi, Islamabad, and Murree, Sadaqat Clinic coaches families on how to help themselves and their loved ones, using evidence-based rehabilitation approaches.

The biggest barrier in accessing psychiatric and addiction treatment in a timely manner, is the patient’s denial. Besides the patient, his family is often in denial as well and fails to accept that their loved one is suffering from the disease of addiction or a psychiatric illness. Once a family gains insight regarding the disease and its appropriate treatment, they can then take appropriate steps to address it. To ensure best treatment outcomes, professionals at Sadaqat Clinic teach families to refrain from provoking and enabling behaviours that can exacerbate the problem.

What is Enabling?

A patient considers addressing his drug addiction or alcoholism and entering a rehabilitation program for addiction treatment once it begins to take a toll on him and causes him pain and discomfort. However, loved ones tend to enable the patient by preventing any negative consequences that can motivate them to accept treatment. Families may call in to work making excuses for their loved one’s absences, pay off their debts, or lie to relative to save face. This is called enabling.

What is Provoking?

On the other hand, degrading, insulting, and scolding the patient does not motivate them to seek treatment either. Statements such as, “You are a disgrace to our family” or “I should have disowned you” are examples of provoking behaviours. Such provoking behaviours can in fact trigger the patient to drink more or increase their drug intake.

At Sadaqat Clinic, families are trained to take adaptive actions and apply tough love principles rather than exhibiting reactive, enabling or provoking behaviors.