Important Question Answers 20

اہم سوال و جواب

* بارہ قدموں کے پروگرام سے تعارف کیسے ہو؟
’’این اے‘‘ کے اراکین خود بھی ایسے نشے کے مریضو ں سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں پروگرام کا پیغام دیتے ہیں جو نشہ چھوڑنے کے خواہش مند ہوں۔  آ ج کل دنیا میں ہر معیاری علاج گاہ مریض کو دورانِ علاج بارہ قدموں کے پروگرام سے متعارف کراتی ہے۔ اب یہ باقاعدہ نشے کے علاج کا حصہ مانا جاتا ہے۔ مریض کو عملی طور پر ’’این اے‘‘ کی کچھ میٹنگوں میں شرکت کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔ نشہ چھوڑنے کیلئے کسی مریض میں جس قسم کے عظیم انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے وہ بلا شبہ بارہ قدموں کے پروگرام میں شرکت سے ہی ممکن ہے۔

* ’’این اے‘‘ کے بارہ قدم کیا ہیں؟
’’این اے‘‘ کے بارہ قدم مریض کو ایک نیا طرز زندگی دیتے ہیں۔ پروگرام میں یہ بارہ قدم مریض کو ’’مشوروں‘‘ کی صورت میں ملتے ہیں۔ مریض اپنے راہنما کی مدد سے ان پر کام کرتا ہے اورآہستہ آہستہ اس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔
’’این اے‘‘ کے اراکین بارہ قدموں کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ کیوں؟ جواب بہت سادہ ہے یہ مفید ہیں۔ یہاں بارہ قدموں کی وضاحت کی جا رہی ہے۔ پروگرام میں ہر نیا آنے والا قدموں کو آزماتا ہے اور اپنا لیتا ہے۔ اہم یہ ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو ان پر عمل کریں۔ یہ آپ کیلئے معجزہ نما ہو سکتا ہے۔ بارہ قدموں میں روایتی طور پر ’’ہم‘‘ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔

* مریضوں کے اہل خانہ ایک دوسرے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
اہل خانہ اپنی نفسیاتی صحت کو بہتر بنانے کیلئے ان والدین سے میل جول بڑھائیں جو کامیابی سے نشے کی بیماری سے نمٹ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں نشے کے مریضوں کے والدین مل جل کر جدوجہد کرتے ہیں۔ ’’نار انان‘‘ اہل خانہ کی پرانی اورمؤثر انجمن ہے۔ یہ انجمن اپنی ساخت میں بالکل ’’این اے‘‘ جیسی ہی ہے۔ یہ بھی بارہ قدموں کے پروگرام کو مانتی ہے۔ اس انجمن کی میٹنگ میں چھوٹی بڑی ہر بات پر تبادلہ خیا ل ہوتا ہے۔ اس انجمن میں آپ کو نشے کی بیماری پر راہنمائی مل سکتی ہے۔ پاکستان میں یہ انجمن ابھی بھی آپ کو خال خال ہی ملے گی۔ اس انجمن کا جگہ جگہ قیام نشے کے مریضوں کے اہل خانہ کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ اگر آپ کو اپنے گھر کے قریب یہ انجمن نہ ملی توآپ اپنی ضرورت کے تحت خود یہ انجمن بنائیں۔

* علاج کے بعد مریض کے ساتھ گزارہ کیسے کیا جائے؟
وہ کون سے باتیں ہیں جو کچھ اہل خانہ سیکھ لیتے ہیں باقی نہیں سیکھ پاتے؟ کیا وجہ یہ ہے کہ کچھ گھرانے نشے کی بیماری سے بحال ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسا نہیں کر پاتے؟ اور آپ کو یہی ’’فرق‘‘ جاننے کی ضرورت ہے۔
مریض کے نشہ چھوڑنے کے بعد بھی آپ کو اس سے شکایت ہوتی ہے۔ نشہ نہ ملنے سے مریض بھی تنگ ہوتا ہے اور وہ آپ کو تنگ کرتا ہے۔ نشہ چھوڑنے کے بعد بھی گھروں میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے گھرانوں میں مریض کے نشے میں دوبارہ گرنے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا مریض بھی بحال ہونے والوں کی صف میں شامل ہو تو بہتر ہے کہ آپ اپنے مریض کی نفسیات سمجھ لیں اور اس کے ساتھ اچھے طریقوں سے گزارا کرنا سیکھ لیں۔
مریض کا نشہ کرتے رہنا یا بحالی پانا ہماری زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم مسئلہ حل کریں یا خود مسئلہ بن جائیں۔ ہمارا نقصان کس میں ہے؟ اگر اہل خانہ بھی اپنے رویوں میں کوئی تبدیلی نہ لاسکیں تو کیا نتیجہ نکلے گا؟ معاونت اور اشتعال انگیزی دونوں کا نتیجہ مریض کے پھر سے نشہ کرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اپنے رویوں میں تبدیلی لانے سے مریض کی بحالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔