Process Intervention2

پروسس انٹروینشن(صفحہ نمبر ۲)۔۔۔ جب وہ مانتا نہیں!

مریض کے قرضے ادا نہ کریں۔ اس کے فرائض اپنے ذمہ نہ لیں۔ کاروبار، نوکری اور خوشی غمی کے واقعات سے اس کی غیر حاضری پر بہانے نہ بنائیں۔ وہ نشے میں دھت ہو تو اس کی حفاظت کیلئے چوکیدارا نہ کریں۔ اس کی خاطر جھوٹ بولنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔ نشہ کرتے ہوئے پکڑا جائے تو ناجائز مدد نہ کریں۔ مریض کو اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے دیں کیونکہ بحران مریض کی خود فریبی کو توڑتا ہے اور نشے سے نجات کی راہ ہموار کرتا ہے۔

جو تکلیفیں نشے کے باعث اس کی طرف بڑھیں ان کو اپنی جان پر نہ لیں۔ اگر نشے کا مزہ اسے پہنچے اور تکلیفیں آپ کو، تو وہ نشہ کیوں چھوڑے؟ جب آپ اس کے ذہن میں یہ بات بٹھانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ہم نہیں بلکہ نشہ تمہاری تکلیفوں کا باعث ہے تو پھر وہ ہم سے نہیں نشے سے نفرت کرے گا۔

مریض یا اہل خانہ کافی کوششیں پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔ کبھی تھوڑے وقت کیلئے کامیابی بھی مل جاتی ہے اور کبھی پہلے ہی دن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ نشہ نہ کرنے کے وقفے دنوں پر محیط ہوں یا ہفتوں پر، یہ تو طے ہے کہ علاج کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ نشہ چھوڑ دینے کے بعد بھی بیماری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس کا دوسرا پہلو متحرک ہو جاتا ہے۔ نشہ چھوڑتے ہی یہ بیماری بے چینی، رنج  اور غصے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ان تکلیفوں کی شدت تو چند دنوں میں کم ہو جاتی ہے لیکن طبیعت سلگتی رہتی ہے۔ مریض علاج میں اس بدمزاجی سے نمٹنے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔

نشے کے مریض کیلئے بحالی کا سفر تنہا طے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک ہمدرد معالج کے علاوہ بحالی کیلئے ایسے سازگار ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس میں اور لوگ بھی انہی مراحل سے گزر رہے ہوں۔ علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری سو فیصد جان لیوا ہے۔ بیماری کے علاوہ نشے کی حالت میں ہونے والے حادثات سے بھی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔ کبھی مریض گھبرا کر خودکشی کے بارے میں سوچتا ہے اور کبھی ایسا کر گزرتا ہے۔ یاد رہے کہ ہم محض ایک بری عادت کے بارے میں نہیں بلکہ زندگی یا موت کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔ کسی مہلک بیماری میں مبتلا شخص کو صرف اس لئے بے سہارا چھوڑ دینا ظلم ہو گا کہ وہ علاج پر آمادہ نہیں۔ علاج کیلئے کسی کا بیمارہونا ہی کافی ہے اوراس کے بیمارہونے میں کیا شک ہے؟ پروسس انٹروینشن میں کامیابی کیلئے بنیادی کنجی معاونت سے باز رہنا ہے۔

یہ بات نوٹ کریں کہ جب نشے کی بیماری بڑھتی ہے تو مریض کے نشئی رویوں کے بارے میں پیش گوئی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک دفعہ نشے کی بیماری کی تشخیص ہو جائے تو مریض کے مستقبل کے بارے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ماحول، کردار، تعلیم اور سماجی رتبوں میں کافی فرق کے باوجود نشے کے مریض کم و بیش ایک جیسے دگرگوں حالات سے دوچار رہتے ہیں۔ غرض نشے کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد پروفیسر، ڈاکٹر، تاجر، مزدور اور جرائم پیشہ افراد ایک ہی جیسے مزاج کے حامل ہو جاتے ہیں اور علاج نہ ہونے کی صورت میں ایک جیسے خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھنے کی صورت میں انجام المناک موت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نشے کے مرض کے بارے میں قبل از وقت اندازے اور قیافے اس مرض کے خلاف جنگ میں ہمارا مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ مریض اس بات سے واقف نہیں ہوتا تاہم ہمیں پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ ’’آگے کیا ہونے والا ہے؟‘‘ چنانچہ ہم مرض کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکتے ہیں۔ ہم بقا کی اس جنگ میں کامیاب ہو کر مریض کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔
پچھلا صفحہ