Touch and Go4

ٹچ اینڈ گو میٹنگز (صفحہ نمبر ۴)

پہلی ٹچ اینڈ گو میٹنگ میں مریض جذباتی اور علاج سے انکاری ہوتا ہے، جبکہ اہل خانہ علاج پر زور دیتے ہیں، نشے سے جدائی کی وجہ سے وہ رائی کا پہاڑ بناتا ہے اور ہر چیز میں کیڑے نکالتا ہے اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ فیملی کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مریض کی بات کا برا نہ منائے کیونکہ وہ تو بیمار ہے لہذٰا فیملی جواب میں غصہ نہیں کرتی اور نہ ہی بات بات پر صفائی پیش کرتی ہے۔ فیملی اُس کے تندوتیز سوالوں کا جواب دیئے بغیر میٹنگ ختم کر دیتی ہے۔ مریض کے منفی رویوں کو مثبت بنانے کیلئے یہ طریقہ کافی زور دار ثابت ہوتا ہے۔ باتوں کے ذریعے سمجھانے بجھانے کی نسبت یہ عملی طریقہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

اگلی میٹنگ سے قبل انفرادی کونسلنگ کے دوران مریض کو انتباہ کیا جاتا ہے کہ اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کو سبوتاژ کرنے سے باز رہے اور علاج پر توجہ دے۔ مریض کی فیملی سے بدتمیزی جاری رہے تو ابتدائی ملاقاتوں کا سلسلہ روکا بھی جا سکتا ہے تاکہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو۔ ملا قاتیں روکنے سے مریض وقتی طور پرغصے میں آ جاتا ہے۔ پھر کونسلرز مریض کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ اس بات چیت کے دوران اُس کی خود فریبی کا جال توڑتے ہیں۔ جلد ہی مریض کو حالات کی سنگینی کا احساس ہو جاتا ہے۔ مریض اپنے رویئے پر معذرت کرتا ہے اور آئندہ اچھی ٹچ اینڈ گو میٹنگز کی راہ ہموار ہو جاتی ہے، عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے بعد مریض میں بہتری کے آثار نظر آتے ہیں اور آدھی درجن میٹنگز کے بعد مریض پر سکون ہو جاتا ہے۔ ٹچ اینڈ گو میٹنگ کے دوران مریض کے بھڑکے ہوئے جذبات اگرچہ آپ کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں تاہم اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مریض کی رنجش کم ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ احسن طریقے سے علاج میں ایڈجسٹ ہوتا چلا جاتا ہے۔

فیملی کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ میٹنگ کے دوران مریض اگر کوئی ہدایات دے تو ان پر عمل پیرا نہ ہوں، مریض کی کسی مرضی کو پورا کرنے کی حامی نہ بھریں اسے کوئی لارا لپا نہ لگائیں بلکہ اسے علاج اور اپنی صحت یابی کی جانب توجہ دینے پر زور دیتے رہیں کیونکہ اس وقت صرف آپ ہی مریض کی فلاح وہ بہبود اور بحالی کیلئے اہم فیصلے کر سکتے ہیں۔ اپنے پیارے کی مرضی نہ مانیں؟ اس کی کوئی بات نہ سنیں؟ آپ سوچتے ہیں آخر اس آمرانہ رویے کی وجہ؟

1 2 3 4 5